bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
Deuteronomy 10
Deuteronomy 10
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 9
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 11 →
1
اُس وقت رب نے مجھ سے کہا، "پتھر کی دو اَور تختیاں تراشنا جو پہلی تختیوں کی مانند ہوں۔ اُنہیں لے کر میرے پاس پہاڑ پر چڑھ آ۔ لکڑی کا صندوق بھی بنانا۔
2
پھر مَیں اِن تختیوں پر دوبارہ وہی باتیں لکھوں گا جو مَیں اُن تختیوں پر لکھ چکا تھا جو تُو نے توڑ ڈالیں۔ تمہیں اُنہیں صندوق میں محفوظ رکھنا ہے۔"
3
مَیں نے کیکر کی لکڑی کا صندوق بنوایا اور دو تختیاں تراشیں جو پہلی تختیوں کی مانند تھیں۔ پھر مَیں دونوں تختیاں لے کر پہاڑ پر چڑھ گیا۔
4
رب نے اُن تختیوں پر دوبارہ وہ دس احکام لکھ دیئے جو وہ پہلی تختیوں پر لکھ چکا تھا۔ (اُن ہی احکام کا اعلان اُس نے پہاڑ پر آگ میں سے کیا تھا جب تم اُس کے دامن میں جمع تھے۔) پھر اُس نے یہ تختیاں میرے سپرد کیں۔
5
مَیں لوٹ کر اُترا اور تختیوں کو اُس صندوق میں رکھا جو مَیں نے بنایا تھا۔ وہاں وہ اب تک ہیں۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے حکم دیا تھا۔
6
(اِس کے بعد اسرائیلی بنی یعقان کے کنوؤں سے روانہ ہو کر موسیرہ پہنچے۔ وہاں ہارون فوت ہوا۔ اُسے دفن کرنے کے بعد اُس کا بیٹا اِلی عزر اُس کی جگہ امام بنا۔
7
پھر وہ آگے سفر کرتے کرتے جُدجودہ، پھر یُطباتہ پہنچے جہاں نہریں ہیں۔
8
اُن دنوں میں رب نے لاوی کے قبیلے کو الگ کر کے اُسے رب کے عہد کے صندوق کو اُٹھا کر لے جانے، رب کے حضور خدمت کرنے اور اُس کے نام سے برکت دینے کی ذمہ داری دی۔ آج تک یہ اُن کی ذمہ داری رہی ہے۔
9
اِس وجہ سے لاویوں کو دیگر قبیلوں کی طرح نہ حصہ نہ میراث ملی۔ رب تیرا خدا خود اُن کی میراث ہے۔ اُس نے خود اُنہیں یہ فرمایا ہے۔)
10
جب مَیں نے دوسری مرتبہ 40 دن اور رات پہاڑ پر گزارے تو رب نے اِس دفعہ بھی میری سنی اور تجھے ہلاک نہ کرنے پر آمادہ ہوا۔
11
اُس نے کہا، "جا، قوم کی راہنمائی کر تاکہ وہ جا کر اُس ملک پر قبضہ کریں جس کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اُن کے باپ دادا سے کیا تھا۔"
12
اے اسرائیل، اب میری بات سن! رب تیرا خدا تجھ سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ صرف یہ کہ تُو اُس کا خوف مانے، اُس کی تمام راہوں پر چلے، اُسے پیار کرے، اپنے پورے دل و جان سے اُس کی خدمت کرے
13
اور اُس کے تمام احکام پر عمل کرے۔ آج مَیں اُنہیں تجھے تیری بہتری کے لئے دے رہا ہوں۔
14
پورا آسمان، زمین اور جو کچھ اُس پر ہے، سب کا مالک رب تیرا خدا ہے۔
15
توبھی اُس نے تیرے باپ دادا پر ہی اپنی خاص شفقت کا اظہار کر کے اُن سے محبت کی۔ اور اُس نے تمہیں چن کر دوسری تمام قوموں پر ترجیح دی جیسا کہ آج ظاہر ہے۔
16
ختنہ اُس کی قوم کا نشان ہے، لیکن دھیان رکھو کہ وہ نہ صرف ظاہری بلکہ باطنی بھی ہو۔ آئندہ اَڑ نہ جاؤ۔
17
کیونکہ رب تمہارا خدا خداؤں کا خدا اور ربوں کا رب ہے۔ وہ عظیم اور زورآور خدا ہے جس سے سب خوف کھاتے ہیں۔ وہ جانب داری نہیں کرتا اور رشوت نہیں لیتا۔
18
وہ یتیموں اور بیواؤں کا انصاف کرتا ہے۔ وہ پردیسی سے پیار کرتا اور اُسے خوراک اور پوشاک مہیا کرتا ہے۔
19
تم بھی اُن کے ساتھ محبت سے پیش آؤ، کیونکہ تم بھی مصر میں پردیسی تھے۔
20
رب اپنے خدا کا خوف مان اور اُس کی خدمت کر۔ اُس سے لپٹا رہ اور اُسی کے نام کی قَسم کھا۔
21
وہی تیرا فخر ہے۔ وہ تیرا خدا ہے جس نے وہ تمام عظیم اور ڈراؤنے کام کئے جو تُو نے خود دیکھے۔
22
جب تیرے باپ دادا مصر گئے تھے تو 70 افراد تھے۔ اور اب رب تیرے خدا نے تجھے ستاروں کی مانند بےشمار بنا دیا ہے۔
← Chapter 9
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 11 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34