bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
Job 32
Job 32
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 31
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 33 →
1
تب مذکورہ تینوں آدمی ایوب کو جواب دینے سے باز آئے، کیونکہ وہ اب تک سمجھتا تھا کہ مَیں راست باز ہوں۔
2
یہ دیکھ کر اِلیہو بن برکیل غصے ہو گیا۔ بوز شہر کے رہنے والے اِس آدمی کا خاندان رام تھا۔ ایک طرف تو وہ ایوب سے خفا تھا، کیونکہ یہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے راست باز ٹھہراتا تھا۔
3
دوسری طرف وہ تینوں دوستوں سے بھی ناراض تھا، کیونکہ نہ وہ ایوب کو صحیح جواب دے سکے، نہ ثابت کر سکے کہ مجرم ہے۔
4
اِلیہو نے اب تک ایوب سے بات نہیں کی تھی۔ جب تک دوسروں نے بات پوری نہیں کی تھی وہ خاموش رہا، کیونکہ وہ بزرگ تھے۔
5
لیکن اب جب اُس نے دیکھا کہ تینوں آدمی مزید کوئی جواب نہیں دے سکتے تو وہ بھڑک اُٹھا
6
اور جواب میں کہا، "مَیں کم عمر ہوں جبکہ آپ سب عمر رسیدہ ہیں، اِس لئے مَیں کچھ شرمیلا تھا، مَیں آپ کو اپنی رائے بتانے سے ڈرتا تھا۔
7
مَیں نے سوچا، چلو وہ بولیں جن کے زیادہ دن گزرے ہیں، وہ تعلیم دیں جنہیں متعدد سالوں کا تجربہ حاصل ہے۔
8
لیکن جو روح انسان میں ہے یعنی جو دم قادرِ مطلق نے اُس میں پھونک دیا وہی انسان کو سمجھ عطا کرتا ہے۔
9
نہ صرف بوڑھے لوگ دانش مند ہیں، نہ صرف وہ انصاف سمجھتے ہیں جن کے بال سفید ہیں۔
10
چنانچہ مَیں گزارش کرتا ہوں کہ ذرا میری بات سنیں، مجھے بھی اپنی رائے پیش کرنے دیجئے۔
11
مَیں آپ کے الفاظ کے انتظار میں رہا۔ جب آپ موزوں جواب تلاش کر رہے تھے تو مَیں آپ کی دانش مند باتوں پر غور کرتا رہا۔
12
مَیں نے آپ پر پوری توجہ دی، لیکن آپ میں سے کوئی ایوب کو غلط ثابت نہ کر سکا، کوئی اُس کے دلائل کا مناسب جواب نہ دے پایا۔
13
اب ایسا نہ ہو کہ آپ کہیں، ’ہم نے ایوب میں حکمت پائی ہے، انسان اُسے شکست دے کر بھگا نہیں سکتا بلکہ صرف اللہ ہی۔‘
14
کیونکہ ایوب نے اپنے دلائل کی ترتیب سے میرا مقابلہ نہیں کیا، اور جب مَیں جواب دوں گا تو آپ کی باتیں نہیں دہراؤں گا۔
15
آپ گھبرا کر جواب دینے سے باز آئے ہیں، اب آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔
16
کیا مَیں مزید انتظار کروں، گو آپ خاموش ہو گئے ہیں، آپ رُک کر مزید جواب نہیں دے سکتے؟
17
مَیں بھی جواب دینے میں حصہ لینا چاہتا ہوں، مَیں بھی اپنی رائے پیش کروں گا۔
18
کیونکہ میرے اندر سے الفاظ چھلک رہے ہیں، میری روح میرے اندر مجھے مجبور کر رہی ہے۔
19
حقیقت میں مَیں اندر سے اُس نئی مَے کی مانند ہوں جو بند رکھی گئی ہو، مَیں نئی مَے سے بھری ہوئی نئی مشکوں کی طرح پھٹنے کو ہوں۔
20
مجھے بولنا ہے تاکہ آرام پاؤں، لازم ہی ہے کہ مَیں اپنے ہونٹوں کو کھول کر جواب دوں۔
21
یقیناً نہ مَیں کسی کی جانب داری، نہ کسی کی چاپلوسی کروں گا۔
22
کیونکہ مَیں خوشامد کر ہی نہیں سکتا، ورنہ میرا خالق مجھے جلد ہی اُڑا لے جائے گا۔‘
← Chapter 31
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 33 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42