bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Acts 13
Acts 13
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 12
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 14 →
1
انطاکِیہؔ میں اُس کلِیسیا کے مُتعلِّق جو وہاں تھی کئی نبی اور مُعلِّم تھے یعنی برنباسؔ اور شمعُونؔ جو کالا کہلاتا ہے اور لُوکِیُسؔ کُرینی اور مناہیمؔ جو چَوتھائی مُلک کے حاکِم ہیرودیؔس کے ساتھ پَلا تھا اور ساؤُلؔ۔
2
جب وہ خُداوند کی عِبادت کر رہے اور روزے رکھ رہے تھے تو رُوحُ القُدس نے کہا میرے لِئے برنباسؔ اور ساؤُلؔ کو اُس کام کے واسطے مخصُوص کر دو جِس کے واسطے مَیں نے اُن کو بُلایا ہے۔
3
تب اُنہوں نے روزہ رکھ کر اور دُعا کر کے اور اُن پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں رُخصت کِیا۔
4
پس وہ رُوحُ القُدس کے بھیجے ہُوئے سِلُوکیہؔ کو گئے اور وہاں سے جہاز پر کُپرُؔس کو چلے۔
5
اور سَلَمِیسؔ میں پُہنچ کر یہُودِیوں کے عِبادت خانوں میں خُدا کا کلام سُنانے لگے اور یُوحنّاؔ اُن کا خادِم تھا۔
6
اور اُس تمام ٹاپُو میں ہوتے ہُوئے پافُسؔ تک پُہنچے۔ وہاں اُنہیں ایک یہُودی جادُوگر اور جُھوٹا نبی بریِسُوعؔ نام مِلا۔
7
وہ سرِگیُسؔ پَولُسؔ صُوبہ دار کے ساتھ تھا جو صاحِبِ تمِیز آدمی تھا۔ اِس نے برنباسؔ اور ساؤُلؔ کو بُلا کر خُدا کا کلام سُننا چاہا۔
8
مگر الِیماسؔ جادُوگر نے (کہ یِہی اِس کے نام کا تَرجُمہ ہے) اُن کی مُخالفت کی اور صُوبہ دار کو اِیمان لانے سے روکنا چاہا۔
9
اور ساؤُلؔ نے جِس کا نام پَولُسؔ بھی ہے رُوحُ القُدس سے بھر کر اُس پر غَور سے نظر کی۔
10
اور کہا کہ اَے اِبلِیس کے فرزند! تُو جو تمام مکّاری اور شرارت سے بھرا ہُؤا اور ہر طرح کی نیکی کا دُشمن ہے کیا خُداوند کی سِیدھی راہوں کو بِگاڑنے سے باز نہ آئے گا؟
11
اب دیکھ تُجھ پر خُداوند کا غضب ہے اور تُو اندھا ہو کر کُچھ مُدّت تک سُورج کو نہ دیکھے گا اُسی دَم کُہر اور اندھیرا اُس پر چھا گیا اور وہ ڈُھونڈتا پِھرا کہ کوئی اُس کا ہاتھ پکڑ کر لے چلے۔
12
تب صُوبہ دار یہ ماجرا دیکھ کر اور خُداوند کی تعلِیم سے حَیران ہو کر اِیمان لے آیا۔
13
پِھر پَولُسؔ اور اُس کے ساتھی پافُسؔ سے جہاز پر روانہ ہو کر پمفِیلیہؔ کے پِرؔگہ میں آئے اور یُوحنّاؔ اُن سے جُدا ہو کر یروشلِیمؔ کو واپس چلا گیا۔
14
اور وہ پِرگہؔ سے چل کر پِسِدیہؔ کے انطاکِیہؔ میں پُہنچے اور سبت کے دِن عِبادت خانہ میں جا بَیٹھے۔
15
پِھر تَورَیت اور نبِیوں کی کِتاب کے پڑھنے کے بعد عِبادت خانہ کے سرداروں نے اُنہیں کہلا بھیجا کہ اَے بھائِیو! اگر لوگوں کی نصِیحت کے واسطے تُمہارے دِل میں کوئی بات ہو تو بیان کرو۔
16
پس پَولُسؔ نے کھڑے ہو کر اور ہاتھ سے اِشارہ کر کے کہا اَے اِسرائیِلیو اور اَے خُدا ترسو! سُنو۔
17
اِس اُمّت اِسرائیل کے خُدا نے ہمارے باپ دادا کو چُن لِیا اور جب یہ اُمّت مُلکِ مِصرؔ میں پردیسِیوں کی طرح رہتی تھی اُس کو سر بُلند کِیا اور زبردست ہاتھ سے اُنہیں وہاں سے نِکال لایا۔
18
اور کوئی چالِیس برس تک بیابان میں اُن کی عادتوں کی برداشت کرتا رہا۔
19
اور کنعاؔن کے مُلک میں سات قَوموں کو غارت کر کے تخمِیناً ساڑھے چار سَو برس میں اُن کا مُلک اِن کی مِیراث کر دِیا۔
20
اور اِن باتوں کے بعد سموئیل نبی کے زمانہ تک اُن میں قاضی مُقرّر کِئے۔
21
اِس کے بعد اُنہوں نے بادشاہ کے لِئے درخواست کی اور خُدا نے بِنیمِینؔ کے قبِیلہ میں سے ایک شخص ساؤُلؔ قِیسؔ کے بیٹے کو چالِیس برس کے لِئے اُن پر مُقرّر کِیا۔
22
پِھر اُسے معزُول کر کے داؤُد کو اُن کا بادشاہ بنایا جِس کی بابت اُس نے یہ گواہی دی کہ مُجھے ایک شخص یسّیؔ کا بیٹا داؤُدؔ میرے دِل کے مُوافِق مِل گیا۔ وُہی میری تمام مرضی کو پُورا کرے گا۔
23
اِسی کی نسل میں سے خُدا نے اپنے وعدہ کے مُوافِق اِسرائیل کے پاس ایک مُنّجی یعنی یِسُوعؔ کو بھیج دِیا۔
24
جِس کے آنے سے پہلے یُوحنّاؔ نے اِسرائیل کی تمام اُمّت کے سامنے تَوبہ کے بپتِسمہ کی مُنادی کی۔
25
اور جب یُوحنّاؔ اپنا دَور پُورا کرنے کو تھا تو اُس نے کہا کہ تُم مُجھے کیا سمجھتے ہو؟ مَیں وہ نہیں بلکہ دیکھو میرے بعد وہ شخص آنے والا ہے جِس کے پاؤں کی جُوتِیوں کا تَسمہ مَیں کھولنے کے لائِق نہیں۔
26
اَے بھائِیو! ابرہامؔ کے فرزندو اور اَے خُدا ترسو! اِس نجات کا کلام ہمارے پاس بھیجا گیا۔
27
کیونکہ یروشلِیم ؔکے رہنے والوں اور اُن کے سرداروں نے نہ اُسے پہچانا اور نہ نبِیوں کی باتیں سمجھیں جو ہر سبت کو سُنائی جاتی ہیں۔ اِس لِئے اُس پر فتویٰ دے کر اُن کو پُورا کِیا۔
28
اور اگرچہ اُس کے قتل کی کوئی وجہ نہ مِلی تَو بھی اُنہوں نے پِیلاطُسؔ سے اُس کے قتل کی درخواست کی۔
29
اور جو کُچھ اُس کے حق میں لِکھا تھا جب اُس کو تمام کر چُکے تو اُسے صلِیب پر سے اُتار کر قبر میں رکھّا۔
30
لیکن خُدا نے اُسے مُردوں میں سے جِلایا۔
31
اور وہ بُہت دِنوں تک اُن کو دِکھائی دِیا جو اُس کے ساتھ گلِیلؔ سے یروشلِیمؔ میں آئے تھے۔ اُمّت کے سامنے اب وُہی اُس کے گواہ ہیں۔
32
اور ہم تُم کو اُس وعدہ کے بارے میں جو باپ دادا سے کِیا گیا تھا یہ خُوشخبری دیتے ہیں۔
33
کہ خُدا نے یِسُوعؔ کو جِلا کر ہماری اَولاد کے لِئے اُسی وعدہ کو پُورا کِیا۔ چُنانچہ دُوسرے مزمُور میں لِکھا ہے کہ تُو میرا بیٹا ہے۔ آج تُو مُجھ سے پَیدا ہُؤا۔
34
اور اُس کے اِس طرح مُردوں میں سے جِلانے کی بابت کہ پِھر کبھی نہ مَرے اُس نے یُوں کہا کہ مَیں داؤُدؔ کی پاک اور سچّی نِعمتیں تُمہیں دُوں گا۔
35
چُنانچہ وہ ایک اَور مزمُور میں بھی کہتا ہے کہ تُو اپنے مُقدّس کے سڑنے کی نَوبت پُہنچنے نہ دے گا۔
36
کیونکہ داؤُدؔ تو اپنے وقت میں خُدا کی مرضی کا تابِع دار رہ کر سو گیا اور اپنے باپ دادا سے جا مِلا اور اُس کے سڑنے کی نَوبت پُہنچی۔
37
مگر جِس کو خُدا نے جِلایا اُس کے سڑنے کی نَوبت نہیں پُہنچی۔
38
پس اَے بھائِیو! تُمہیں معلُوم ہو کہ اُسی کے وسِیلہ سے تُم کو گُناہوں کی مُعافی کی خبر دی جاتی ہے۔
39
اور مُوسیٰؔ کی شرِیعت کے باعِث جِن باتوں سے تُم بَری نہیں ہو سکتے تھے اُن سب سے ہر ایک اِیمان لانے والا اُس کے باعِث بَری ہوتا ہے۔
40
پس خبردار! اَیسا نہ ہو کہ جو نبِیوں کی کِتاب میں آیا ہے وہ تُم پر صادِق آئے کہ
41
اَے تحقِیر کرنے والو! دیکھو۔ تعجُّب کرو اور مِٹ جاؤ کیونکہ مَیں تُمہارے زمانہ میں ایک کام کرتا ہُوں۔ اَیسا کام کہ اگر کوئی تُم سے بیان کرے تو کبھی اُس کا یقِین نہ کرو گے۔
42
اُن کے باہر جاتے وقت لوگ مِنّت کرنے لگے کہ اگلے سبت کو بھی یہ باتیں ہمیں سُنائی جائیں۔
43
جب مجلِس برخاست ہُوئی تو بُہت سے یہُودی اور خُدا پرست نومُرِید یہُودی پَولُسؔ اور برنباسؔ کے پِیچھے ہو لِئے۔ اُنہوں نے اُن سے کلام کِیا اور ترغِیب دی کہ خُدا کے فضل پر قائِم رہو۔
44
دُوسرے سبت کو تقرِیباً سارا شہر خُدا کا کلام سُننے کو اِکٹّھا ہُؤا۔
45
مگر یہُودی اِتنی بِھیڑ دیکھ کر حَسد سے بھر گئے اور پَولُسؔ کی باتوں کی مُخالفت کرنے اور کُفر بَکنے لگے۔
46
پَولُسؔ اور برنباؔس دِلیر ہو کر کہنے لگے کہ ضرُور تھا کہ خُدا کا کلام پہلے تُمہیں سُنایا جائے لیکن چُونکہ تُم اُس کو ردّ کرتے ہو اور اپنے آپ کو ہمیشہ کی زِندگی کے ناقابِل ٹھہراتے ہو تو دیکھو ہم غَیر قَوموں کی طرف مُتوجِّہ ہوتے ہیں۔
47
کیونکہ خُداوند نے ہمیں یہ حُکم دِیا ہے کہ مَیں نے تُجھ کو غَیر قَوموں کے لِئے نُور مُقرّر کِیا تاکہ تُو زمِین کی اِنتِہا تک نجات کا باعِث ہو۔
48
غَیر قَوم والے یہ سُن کر خُوش ہُوئے اور خُدا کے کلام کی بڑائی کرنے لگے اور جِتنے ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے مُقرّر کِئے گئے تھے اِیمان لے آئے۔
49
اور اُس تمام عِلاقہ میں خُدا کا کلام پَھیل گیا۔
50
مگر یہُودِیوں نے خُدا پرست اور عِزّت دار عَورتوں اور شہر کے رئِیسوں کو اُبھارا اور پَولُسؔ اور برنباسؔ کو ستانے پر آمادہ کر کے اُنہیں اپنی سرحدّوں سے نِکال دِیا۔
51
یہ اپنے پاؤں کی خاک اُن کے سامنے جھاڑ کر اکُنیُمؔ کو گئے۔
52
مگر شاگِرد خُوشی اور رُوحُ القُدس سے معمُور ہوتے رہے۔
← Chapter 12
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 14 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28