bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Ecclesiastes 10
Ecclesiastes 10
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 9
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 11 →
1
مُردہ مکھّیاں عطّار کے عِطر کو بدبُودار کر دیتی ہیں اور تھوڑی سی حماقت حِکمت و عِزّت کو مات کر دیتی ہے۔
2
دانِشور کا دِل اُس کے دہنے ہاتھ ہے پر احمق کا دِل اُس کی بائِیں طرف۔
3
ہاں احمق جب راہ چلتا ہے تو اُس کی عقل اُڑ جاتی ہے اور وہ سب سے کہتا ہے کہ مَیں احمق ہُوں۔
4
اگر حاکِم تُجھ پر قہر کرے تو اپنی جگہ نہ چھوڑ کیونکہ برداشت بڑے بڑے گُناہوں کو دبا دیتی ہے۔
5
ایک زبُونی ہے جو مَیں نے دُنیا میں دیکھی۔ گویا وہ ایک خطا ہے جو حاکِم سے سرزد ہوتی ہے۔
6
حماقت بالا نشِین ہوتی ہے پر دَولت مند نِیچے بَیٹھتے ہیں۔
7
مَیں نے دیکھا کہ نَوکر گھوڑوں پر سوار ہو کر پِھرتے ہیں اور سردار نَوکروں کی مانِند زمِین پر پَیدل چلتے ہیں۔
8
گڑھا کھودنے والا اُسی میں گِرے گا اور دِیوار میں رخنہ کرنے والے کو سانپ ڈسے گا۔
9
جو کوئی پتّھروں کو کاٹتا ہے اُن سے چوٹ کھائے گا اور جو لکڑی چِیرتا ہے اُس سے خطرہ میں ہے۔
10
اگر کُلہاڑا کُند ہے اور آدمی دھار تیز نہ کرے تو بُہت زور لگانا پڑتا ہے پر حِکمت ہدایت کے لِئے مُفِید ہے۔
11
اگر سانپ نے افسُون سے پہلے ڈسا ہے تو افسُون گر کو کُچھ فائِدہ نہ ہو گا۔
12
دانِش مند کے مُنہ کی باتیں لطِیف ہیں پر احمق کے ہونٹ اُسی کو نِگل جاتے ہیں۔
13
اُس کے مُنہ کی باتوں کی اِبتدا حماقت ہے اور اُس کی باتوں کی اِنتہا فِتنہ انگیز ابلہی۔
14
احمق بھی بُہت سی باتیں بناتا ہے پر آدمی نہیں بتا سکتا ہے کہ کیا ہو گا اور جو کُچھ اُس کے بعد ہو گا اُسے کَون سمجھا سکتا ہے؟
15
احمق کی مِحنت اُسے تھکاتی ہے کیونکہ وہ شہر کو جانا بھی نہیں جانتا۔
16
اَے مُملِکت تُجھ پر افسوس جب نابالِغ تیرا بادشاہ ہو اور تیرے سردار صُبح کو کھائیں۔
17
نیک بخت ہے تُو اَے سرزمِین جب تیرا بادشاہ شرِیف زادہ ہو اور تیرے سردار مُناسِب وقت پر توانائی کے لِئے کھائیں اور نہ اِس لِئے کہ بدمست ہوں۔
18
کاہِلی کے سبب سے کڑیاں جُھک جاتی ہیں اور ہاتھوں کے ڈِھیلے ہونے سے چھت ٹپکتی ہے۔
19
ہنسنے کے لِئے لوگ ضِیافت کرتے ہیں اور مَے جان کو خُوش کرتی ہے اور رُوپیہ سے سب مقصد پُورے ہوتے ہیں۔
20
تُو اپنے دِل میں بھی بادشاہ پر لَعنت نہ کر اور اپنی خواب گاہ میں بھی مال دار پر لَعنت نہ کر کیونکہ ہوائی چِڑیا بات کو لے اُڑے گی اور پردار اُس کو کھول دے گا۔
← Chapter 9
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 11 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12