bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Acts 1
Acts 1
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 2 →
1
مَیں نے اَپنی پہلی کِتاب میں، محترم تھِیفلُسؔ، اُن تمام تعلیمی باتوں کو تحریر کر دیا ہے جو حُضُور یِسوعؔ کے ذریعہ عَمل میں آئیں
2
اُس دِن تک جِس میں حُضُور یِسوعؔ نے اَپنے مُنتخب رسولوں کو پاک رُوح کے وسیلہ سے کچھ ہدایات بھی عطا کرنے کے بعد اُوپر آسمان پر اُٹھائے گئے۔
3
دُکھ سہنے کے بعد، یِسوعؔ نے اَپنے زندہ ہو جانے کے کیٔی قوی ثبُوتوں سے اَپنے آپ کو اُن پر ظاہر بھی کیا اَور آپ چالیس دِن تک اُنہیں نظر آتے رہے اَور خُدا کی بادشاہی کی باتیں سُناتے رہے۔
4
ایک مرتبہ، جَب آپ اُن کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، تو یِسوعؔ نے اُنہیں یہ حُکم دیا: ”یروشلیمؔ سے باہر نہ جانا، اَور میرے باپ کے اُس وعدہ کے پُورا ہونے کا اِنتظار کرنا، جِس کا ذِکر تُم مُجھ سے سُن چُکے ہو۔
5
کیونکہ حضرت یُوحنّا تو پانی سے پاک غُسل دیتے تھے، لیکن تُم تھوڑے دِنوں کے بعد پاک رُوح سے پاک غُسل پاؤگے۔“
6
پس جَب وہ سَب ایک جگہ جمع تھے تو اُنہُوں نے یِسوعؔ المسیح سے پُوچھا، ”خُداوؔند! کیا آپ اِسی وقت اِسرائیلؔ کو پھر سے اُس کی بادشاہی عطا کرنے والے ہیں؟“
7
یِسوعؔ المسیح نے اُن سے فرمایا، ”جِن وقتوں یا میِعادوں کو مُقرّر کرنے کا اِختیار صِرف آسمانی باپ کو ہے اُنہیں جاننا تمہارا کام نہیں۔
8
لیکن جَب پاک رُوح تُم پر نازل ہوگا تو تُم قُوّت پاؤگے؛ اَور تُم یروشلیمؔ، اَور تمام یہُودیؔہ اَور سامریہؔ میں بَلکہ زمین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہوگے۔“
9
اِن باتوں کے بعد وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے آسمان میں اُوپر اُٹھا لیٔے گیٔے۔ اَور بدلی نے یِسوعؔ المسیح کو اُن کی نظروں سے چھُپا لیا۔
10
جَب وہ ٹِکٹِکی باندھے یِسوعؔ المسیح کو آسمان کی طرف جاتے ہویٔے دیکھ رہے تھے، تو دیکھو دو مَرد سفید لباس میں اُن کے پاس آ کھڑے ہویٔے۔
11
اَور کہنے لگے، ”اَے گلِیلی مَردو، تُم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ یہی یِسوعؔ جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھائے گیٔے ہیں، اِسی طرح پھر آئیں گے جِس طرح تُم لوگوں نے یِسوعؔ کو آسمان پر جاتے دیکھاہے۔“
12
تَب رسول کوہِ زَیتُون، سے جو یروشلیمؔ کے نزدیک سَبت کے دِن کی مَنزل پر ہے واپس یروشلیمؔ شہر لَوٹے۔ یہ پہاڑ یروشلیمؔ سے تقریباً ایک کِلو مِیٹر کے فاصلے پر ہے۔
13
جَب وہ شہر میں داخل ہوکر، اُس بالاخانہ میں تشریف لے گیٔے جہاں وہ ٹھہرے ہویٔے تھے۔ جِس میں: پطرس، یُوحنّا، یعقوب، اَور اَندریاسؔ؛ فِلِپُّسؔ اَور توماؔ؛ برتلماؔئی اَور متّیؔ؛ حلفئؔی کا بیٹا یعقوب، شمعُونؔ جو زیلوتیسؔ بھی ہیں اَور یعقوب کا بیٹا یہُوداہؔ رہتے تھے۔
14
یہ سَب چند خواتین اَور خُداوؔند یِسوعؔ کی ماں، مریمؔ اَور اُن کے بھائیوں کے ساتھ ایک دِل ہوکر دعا میں مشغُول رہتے تھے۔
15
اُن ہی دِنوں میں پطرس اُن بھائیوں اَور بہنوں کی جماعت میں جِن کی تعداد (ایک سَو بیس کے قریب تھی)
16
پطرس نے کھڑے ہوکر فرمایا، ”اَے بھائیو اَور بہنوں، کِتاب مُقدّس کی اُس بات کا جو پاک رُوح نے حضرت داویؔد کی زبان سے پہلے ہی کَہلوا دی تھی پُورا ہونا ضروُری تھا۔ وہ بات یہُوداہؔ کے بارے میں تھی، جِس نے خُداوؔند یِسوعؔ کے پکڑوانے والوں کی رہنمائی کی تھی۔
17
یہُوداہؔ ہمارا ہم خدمت تھا اَور ہم لوگوں میں گِنا جاتا تھا۔“
18
اُس نے (اَپنی بدکاری سے کمائی، ہویٔی رقم سے ایک کھیت خریدا؛ جہاں وہ سَر کے بَل گرا اَور اُس کا پیٹ پھٹ گیا اَور ساری انتڑیاں باہر نکل پڑیں۔
19
یروشلیمؔ کے تمام باشِندوں کو یہ بات مَعلُوم ہو گئی، یہاں تک کہ اُنہُوں نے اَپنی زبان میں اُس کھیت کا نام ہی ہقؔل دماؔ، رکھ دیا جِس کا مطلب ہے، خُون کا کھیت۔)
20
”کیونکہ،“ پطرس نے فرمایا، ”زبُور شریف میں یہ لِکھّا ہے: ” ’اُن کا مقام ویران ہو جائے؛ اَور اُن کے خیموں میں بسنے والا کویٔی نہ ہو،‘ اَور ” ’اُس کا عہدہ کویٔی اَور سنبھال لے۔‘
21
لہٰذا یہ ضروُری ہے کہ خُداوؔند یِسوعؔ کے ہمارے ساتھ آنے جانے کے وقت تک،
22
یعنی حضرت یُوحنّا کے پاک غُسل سے لے کر یِسوعؔ کے ہمارے پاس سے اُوپر اُٹھائے جانے تک جو لوگ برابر ہمارے ساتھ رہے۔ اُن میں سے ایک شخص چُن لیا جائے جو ہمارے ساتھ خُداوؔند یِسوعؔ کے جی اُٹھنے کا گواہ بنے۔“
23
لہٰذا اُنہُوں نے دو کو نامزد کیا: ایک حضرت یُوسیفؔ کو جو برسبّاسؔ کَہلاتے ہیں اَور (جِن کا لقب یُوستُسؔ بھی ہے) اَور دُوسرا متیّاہؔ کو۔
24
اُنہُوں نے یہ کہہ کر دعا کی، ”اَے خُداوؔند، آپ سَب کے دِلوں کو جانتے ہیں۔ ہم پر ظاہر کر کہ اِن دونوں میں سے آپ نے کِس کو چُناہے
25
کہ وہ اُس خدمت اَور رِسالت پر مامُور ہو، جسے یہُوداہؔ چھوڑکر اُس اَنجام تک پہُنچا جِس کا وہ مُستحق تھا۔“
26
اَور اُنہُوں نے اُن کے بارے میں قُرعہ ڈالا، اَورجو متیّاہؔ کے نام کا نِکلا؛ لہٰذا وہ گیارہ رسولوں کے ساتھ شُمار کیٔے گیٔے۔
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 2 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28