bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Acts 11
Acts 11
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 10
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 12 →
1
یہُودیؔہ میں رہنے والے رسولوں اَور مُومِنین نے یہ خبر سُنی کہ غَیریہُودی نے بھی خُدا کا کلام قبُول کیا ہے۔
2
چنانچہ جَب پطرس واپس یروشلیمؔ آئے، تو مختون یہُودی جو مُومِن ہو گئے تھے پطرس سے تنقید کرنے لگے
3
اَور اُنہُوں نے کہا، ”آپ نامختون لوگوں کے پاس گیٔے اَور اُن کے ساتھ کھانا کھایا۔“
4
پطرس نے اُن سے سارا واقعہ شروع سے آخِر تک ترتیب وار یُوں بَیان کیا،
5
”میں یافؔا شہر میں دعا میں مشغُول تھا، اَور مُجھ پر بے خُودی طاری ہو گئی اَور مُجھے ایک رُویا دِکھائی دی۔ مَیں نے دیکھا کہ کویٔی شَے ایک بڑی سِی چادر کی مانِند چاروں کونوں سے لٹکتی ہویٔی آسمان سے نیچے اُتری اَور مُجھ تک پہُنچی۔
6
مَیں نے اُس پر نظر ڈالی اَور اُس میں زمین کے چار پاؤں والے جانور، جنگلی جانور، رینگنے والے جانور اَور ہَوا کے پرندے تھے۔
7
تَب مُجھے ایک آواز سُنایٔی دی، ’اُٹھ، اَے پطرس۔ ذبح کر اَور کھا۔‘
8
”مَیں نے جَواب دیا، ’ہرگز نہیں، اَے خُداوؔند! کویٔی ناپاک اَور حرام شَے میرے مُنہ میں کبھی نہیں گئی۔‘
9
”اُس آواز نے آسمان سے دُوسری مرتبہ کہا، ’تو کسی بھی چیز کو جسے خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے اُنہیں حرام نہ کہہ۔‘
10
یہ واقعہ تین مرتبہ پیش آیا اَور وہ چیزیں پھر سے آسمان کی طرف اُٹھا لی گئیں۔
11
”عَین اُسی وقت تین آدمی جو قَیصؔریہ سے میرے پاس بھیجے گیٔے تھے اُس گھر کے سامنے آ کھڑے ہویٔے جہاں میں ٹھہرا ہُوا تھا۔
12
پاک رُوح نے مُجھے ہدایت کی کہ میں بِلاجِھجک اُن کے ہمراہ ہو لُوں۔ یہ چھ بھایٔی بھی میرے ساتھ گیٔے، اَور ہم اُس شخص کے گھر میں داخل ہویٔے۔
13
اُس نے ہمیں بتایا کہ ایک فرشتہ اُس کے گھر میں ظاہر ہُوا اَور کہنے لگا، ’یافؔا میں کسی آدمی کو بھیج کر شمعُونؔ کو جسے پطرس بھی کہتے ہیں کو بُلوالے۔
14
وہ آکر تُجھے ایک اَیسا پیغام دیں گے جِس کے ذریعہ تو اَور تیرے خاندان کے سارے افراد نَجات پائیں گے۔‘
15
”جَب مَیں نے وہاں جا کر پیغام سُنانا شروع کیا، تو پاک رُوح اُن پر اُسی طرح نازل ہُوا جَیسے شروع میں ہم پر نازل ہُوا تھا۔
16
تَب مُجھے یاد آیا کہ خُداوؔند نے فرمایا تھا: ’حضرت یُوحنّا نے تو پانی سے پاک غُسل دیا لیکن تُم پاک رُوح سے پاک غُسل پاؤگے۔‘
17
پس اگر خُدا نے اُنہیں وُہی نِعمت عطا کی جو ہمیں خُداوؔند یِسوعؔ المسیح پر ایمان لانے کے باعث دی گئی تھی تو میں کون تھا کہ خُداوؔند کے راستہ میں رُکاوٹ بنتا؟“
18
جَب اُنہُوں نے یہ سُنا، تو خاموش ہو گئے اَور خُدا کی تمجید کرکے کہنے لگے، ”تَب تو، صَاف ظاہر ہے کہ خُداوؔند نے غَیریہُودی کو بھی تَوبہ کرکے زندگی پانے کی تَوفیق عطا فرمائی ہے۔“
19
اَب وہ سَب جو اُس اِیذا رسانی کے باعث جِس کا آغاز اِستِفنُسؔ سے ہُوا تھا، اِدھر اُدھر مُنتشر ہو گئے اَور پھرتے پھراتے فینیکےؔ، جَزِیرہ سائپرسؔ اَور انطاکِیہؔ تک جا پہُنچے، لیکن اُنہُوں نے کلام کی مُنادی کو صِرف یہُودیوں تک ہی محدُود رکھا۔
20
پس، اُن میں سے بعض، جو جَزِیرہ سائپرسؔ اَور کُرینی کے تھے، انطاکِیہؔ میں جا کر یُونانیوں کو بھی، خُداوؔند یِسوعؔ کی خُوشخبری سُنانے لگے۔
21
خُداوؔند کا ہاتھ اُن پر تھا، اَور لوگ بڑی تعداد میں ایمان لایٔے اَور خُداوؔند کی طرف رُجُوع کیا۔
22
اِس کی خبر یروشلیمؔ کی جماعت کے تک پہُنچی اَور اُنہُوں نے بَرنباسؔ کو انطاکِیہؔ روانہ کر دیا۔
23
جَب وہ وہاں پہُنچے تو دیکھا کہ خُدا کے فضل نے کیا کیا ہے اَور اُن کی حوصلہ اَفزائی کرکے اُنہیں نصیحت دی کہ پُورے دِل سے خُداوؔند کے وفادار رہیں۔
24
بَرنباسؔ نیک اِنسان تھے اَور پاک رُوح اَور ایمان سے معموُر تھے، اَور لوگوں کی بڑی تعداد خُداوؔند کی جماعت میں شامل ہو گئی۔
25
اُس کے بعد بَرنباسؔ، ساؤلؔ کی جُستُجو میں ترسُسؔ روانہ ہو گئے۔
26
آپ ساؤلؔ کو ڈھونڈ کر انطاکِیہؔ لایٔے جہاں وہ دونوں سال بھر تک جماعت سے ملے اَور بہت سے لوگوں کو تعلیم دیتے رہے۔ المسیح کے شاگردوں کو پہلی بار انطاکِیہؔ میں ہی مسیحی کہہ کر پُکارا گیا۔
27
اُن ہی دِنوں میں کچھ نبی یروشلیمؔ سے انطاکِیہؔ پہُنچے۔
28
اَور اُن میں سے ایک نے جِن کا نام اَگَبُسؔ تھا، کھڑے ہوکر پاک رُوح کی ہدایت کے مُطابق یہ پیشین گوئی کی کہ ساری رُومی دُنیا میں ایک سخت قحط پڑےگا (قحط کا یہ واقعہ قَیصؔر کلودِیُسؔ کے عہد میں پیش آیاتھا)۔
29
لہٰذا شاگردوں، نے فیصلہ کیا کہ ہم میں سے ہر ایک اَپنی اَپنی مالی حیثیت کے مُطابق کچھ دے تاکہ یہُودیؔہ میں رہنے والے مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کی مدد کی جائے۔
30
پس اُنہُوں نے، کچھ عَطیّہ کی رقم جمع کی اَور بَرنباسؔ اَور ساؤلؔ کے ہاتھ یروشلیمؔ میں بُزرگوں کے پاس بھجوادی۔
← Chapter 10
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 12 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28