bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Isaiah 16
Isaiah 16
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 15
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 17 →
1
سیلاؔ سے بیابان کے راستے صِیّونؔ کی بیٹی کے پہاڑ پر مُلک کے حاکم کے پاس خراج کے طور پر برّوں بھیجو۔
2
جِس طرح گھونسلے سے باہر گِرے ہُوئے پرندے پھڑپھڑاتے ہیں، اُسی طرح مُوآب کی عورتیں ارنُونؔ کے گھاٹوں پر ہیں۔
3
اہلِ مُوآب اِلتجا کرتے ہیں، ”ہمیں صلاح دو،“ فیصلہ کرو۔ ٹھیک دوپہر کو بھی اَپنا سایہ رات کی مانند کرو۔ بھاگنے والوں کو چھپالو، پناہ گزینوں کے ساتھ دھوکا نہ کرو۔
4
مُوآب کے جَلاوطنوں کو اَپنے پاس رہنے دو، ستمگر کے قہر سے اُن کو بچاؤ۔ ظالِم کا خاتِمہ ہوگا، اَور تباہی رُک جائے گی؛ اَور ستمگر مُلک سے غائب ہو جائے گا۔
5
تَب رحمت کے ساتھ ایک تخت قائِم کیا جائے گا؛ اَور داویؔد کے گھرانے سے ایک شخص۔ وہ جو عدالت میں اِنصاف کی تلاش کرتا ہے اَور راستبازی کی رفتار کو تیز کرتا ہے۔ راستی کے ساتھ اُس پر جلوہ افروز ہوگا۔
6
ہم مُوآب کے غُرور کے بارے میں سُن چُکے ہیں۔ اُس کی خُود پسندی، خُود بینی، تکبُّر اَور گستاخی کے بارے میں بھی۔ لیکن اُس کی شیخیاں ہیچ ہیں۔
7
چنانچہ اہلِ مُوآب واویلا کرتے ہیں، وہ سَب مِل کر مُوآب کے لیٔے واویلا کرتے ہیں۔ وہ قیرؔ حارسیتھؔ کے کشمش کی ٹکیا کے لیٔے۔ رنجیدہ ہوکر ماتم کریں گے۔
8
حِشبونؔ کے کھیت، اَور سِبماہؔ کی انگوری بیلیں مُرجھا گئیں۔ قوموں کے حُکمرانوں نے بہترین انگوری بیلوں کو پاؤں تلے روند ڈالا، جو کبھی یعزیرؔ تک جا پہُنچی تھیں اَور بیابان کی طرف پھیل گئی تھیں۔ اَور اُن کی شاخیں سمُندر تک پھیل چُکی تھیں۔
9
اِس لیٔے میں یعزیرؔ کی طرح سِبماہؔ کی انگوری بیلوں کے لیٔے آہ و زاری کرتا ہُوں۔ اَے حِشبونؔ اَور اَے الیعالہؔ مَیں تُجھے اَپنے آنسُوؤں سے سینچوں گا! تیرے تیّار پھل اَور فصلوں پر لگائے جانے والے خُوشی کے نعرے خاموش ہو گئے۔
10
میوے کے باغوں سے خُوشی اَور شادمانی چھین لی گئی؛ نہ تاکستان میں کویٔی گاتا یا للکارتا ہے؛ نہ ہی کویٔی حوضوں میں انگور پامال کرکے اُن کا رس نکالتا ہے، کیونکہ مَیں نے سَب شور و غُل بند کر دیا ہے۔
11
میرا دِل مُوآب کے لیٔے، اَور میرا ضمیر قیرؔ حارسیتھؔ کے لیٔے بربط کی طرح نوحہ کرتا ہے۔
12
جَب مُوآب اَپنے اُونچے مقام پر پہُنچ جاتا ہے، تو وہ اَپنے آپ کو محض تھکا لیتا ہے؛ جَب وہ اَپنے بُتکدے میں دعا کرنے جاتا ہے، تو اُسے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔
13
یہی وہ کلام ہے جو یَاہوِہ نے اِس سے پہلے مُوآب کے متعلّق کیا تھا۔
14
لیکن اَب یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”ٹھیکہ کے مزدُور کے حِساب کے مُطابق تین سال کے اَندر مُوآب کی شان و شوکت جاتی رہے گی اَور اُس کے تمام کثیر التعداد لوگ پست کر دئیے جایٔیں گے اَورجو باقی بچیں گے بہت ہی کم اَور نہایت کمزور ہوں گے۔“
← Chapter 15
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 17 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66