bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
Isaiah 44
Isaiah 44
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 43
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 45 →
1
لیکن اب سن، اے یعقوب میرے خادم! میری بات پر توجہ دے، اے اسرائیل جسے مَیں نے چن لیا ہے۔
2
رب جس نے تجھے بنایا اور ماں کے پیٹ سے ہی تشکیل دے کر تیری مدد کرتا آیا ہے وہ فرماتا ہے، ’اے یعقوب میرے خادم، مت ڈر! اے یسورون جسے مَیں نے چن لیا ہے، خوف نہ کھا۔
3
کیونکہ مَیں پیاسی زمین پر پانی ڈالوں گا اور خشکی پر ندیاں بہنے دوں گا۔ مَیں اپنا روح تیری اولاد پر نازل کروں گا، اپنی برکت تیرے بچوں کو بخشوں گا۔
4
تب وہ پانی کے درمیان کی ہریالی کی طرح پھوٹ نکلیں گے، نہروں پر سفیدہ کے درختوں کی طرح پھلیں پھولیں گے۔‘
5
ایک کہے گا، ’مَیں رب کا ہوں،‘ دوسرا یعقوب کا نام لے کر پکارے گا اور تیسرا اپنے ہاتھ پر ’رب کا بندہ‘ لکھ کر اسرائیل کا اعزازی نام رکھے گا۔"
6
رب الافواج جو اسرائیل کا بادشاہ اور چھڑانے والا ہے فرماتا ہے، "مَیں اوّل اور آخر ہوں۔ میرے سوا کوئی اَور خدا نہیں ہے۔
7
کون میری مانند ہے؟ وہ آواز دے کر بتائے اور اپنے دلائل پیش کرے۔ وہ ترتیب سے سب کچھ سنائے جو اُس قدیم وقت سے ہوا ہے جب مَیں نے اپنی قوم کو قائم کیا۔ وہ آنے والی باتوں کا اعلان کر کے بتائے کہ آئندہ کیا کچھ پیش آئے گا۔
8
گھبرا کر دہشت زدہ نہ ہو۔ کیا مَیں نے بہت دیر پہلے تجھے اطلاع نہیں دی تھی کہ یہ کچھ پیش آئے گا؟ تم خود میرے گواہ ہو۔ کیا میرے سوا کوئی اَور خدا ہے؟ ہرگز نہیں! اَور کوئی چٹان نہیں ہے، مَیں کسی اَور کو نہیں جانتا۔"
9
بُت بنانے والے سب ہیچ ہی ہیں، اور جو چیزیں اُنہیں پیاری لگتی ہیں وہ بےفائدہ ہیں۔ اُن کے گواہ نہ دیکھ اور نہ جان سکتے ہیں، لہٰذا آخرکار شرمندہ ہو جائیں گے۔
10
یہ کس طرح کے لوگ ہیں جو اپنے لئے دیوتا بناتے اور بےفائدہ بُت ڈھال لیتے ہیں؟
11
اُن کے تمام ساتھی شرمندہ ہو جائیں گے۔ آخر بُت بنانے والے انسان ہی تو ہیں۔ آؤ، وہ سب جمع ہو کر خدا کے حضور کھڑے ہو جائیں۔ کیونکہ وہ دہشت کھا کر سخت شرمندہ ہو جائیں گے۔
12
لوہار اوزار لے کر اُسے جلتے ہوئے کوئلوں میں استعمال کرتا ہے۔ پھر وہ اپنے ہتھوڑے سے ٹھونک ٹھونک کر بُت کو تشکیل دیتا ہے۔ پورے زور سے کام کرتے کرتے وہ طاقت کا جواب دینے تک بھوکا ہو جاتا، پانی نہ پینے کی وجہ سے نڈھال ہو جاتا ہے۔
13
جب بُت کو لکڑی سے بنانا ہے تو کاری گر فیتے سے ناپ کر پنسل سے لکڑی پر خاکہ کھینچتا ہے۔ پرکار بھی کام آ جاتا ہے۔ پھر کاری گر لکڑی کو چھری سے تراش تراش کر آدمی کی شکل بناتا ہے۔ یوں شاندار آدمی کا مجسمہ کسی کے گھر میں لگنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔
14
کاری گر بُت بنانے کے لئے دیودار کا درخت کاٹ لیتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بلوط یا کسی اَور قسم کا درخت چن کر اُسے جنگل کے دیگر درختوں کے بیچ میں اُگنے دیتا ہے۔ یا وہ صنوبر کا درخت لگاتا ہے، اور بارش اُسے پھلنے پھولنے دیتی ہے۔
15
دھیان دو کہ انسان لکڑی کو ایندھن کے لئے بھی استعمال کرتا، کچھ لے کر آگ تاپتا، کچھ جلا کر روٹی پکاتا ہے۔ باقی حصے سے وہ بُت بنا کر اُسے سجدہ کرتا، دیوتا کا مجسمہ تیار کر کے اُس کے سامنے جھک جاتا ہے۔
16
وہ لکڑی کا آدھا حصہ جلا کر اُس پر اپنا گوشت بھونتا، پھر جی بھر کر کھانا کھاتا ہے۔ ساتھ ساتھ وہ آگ سینک کر کہتا ہے، "واہ، آگ کی گرمی کتنی اچھی لگ رہی ہے، اب گرمی محسوس ہو رہی ہے۔"
17
لیکن باقی لکڑی سے وہ اپنے لئے دیوتا کا بُت بناتا ہے جس کے سامنے وہ جھک کر پوجا کرتا ہے۔ اُس سے وہ التماس کرتا ہے، "مجھے بچا، کیونکہ تُو میرا دیوتا ہے۔"
18
یہ لوگ کچھ نہیں جانتے، کچھ نہیں سمجھتے۔ اُن کی آنکھوں اور دلوں پر پردہ پڑا ہے، اِس لئے نہ وہ دیکھ سکتے، نہ سمجھ سکتے ہیں۔
19
وہ اِس پر غور نہیں کرتے، اُنہیں فہم اور سمجھ تک نہیں کہ سوچیں، "مَیں نے لکڑی کا آدھا حصہ آگ میں جھونک کر اُس کے کوئلوں پر روٹی پکائی اور گوشت بھون لیا۔ یہ چیزیں کھانے کے بعد مَیں باقی لکڑی سے قابلِ گھن بُت کیوں بناؤں، لکڑی کے ٹکڑے کے سامنے کیوں جھک جاؤں؟"
20
جو یوں راکھ میں ملوث ہو جائے اُس نے دھوکا کھایا، اُس کے دل نے اُسے فریب دیا ہے۔ وہ اپنی جان چھڑا کر نہیں مان سکتا کہ جو بُت مَیں دہنے ہاتھ میں تھامے ہوئے ہوں وہ جھوٹ ہے۔
21
"اے یعقوب کی اولاد، اے اسرائیل، یاد رکھ کہ تُو میرا خادم ہے۔ مَیں نے تجھے تشکیل دیا، تُو میرا ہی خادم ہے۔ اے اسرائیل، مَیں تجھے کبھی نہیں بھولوں گا۔
22
مَیں نے تیرے جرائم اور گناہوں کو مٹا ڈالا ہے، وہ دھوپ میں دُھند یا تیز ہَوا سے بکھرے بادلوں کی طرح اوجھل ہو گئے ہیں۔ اب میرے پاس واپس آ، کیونکہ مَیں نے عوضانہ دے کر تجھے چھڑایا ہے۔"
23
اے آسمان، خوشی کے نعرے لگا، کیونکہ رب نے سب کچھ کیا ہے۔ اے زمین کی گہرائیو، شادیانہ بجاؤ! اے پہاڑو اور جنگلو، اپنے تمام درختوں سمیت خوشی کے گیت گاؤ، کیونکہ رب نے عوضانہ دے کر یعقوب کو چھڑایا ہے، اسرائیل میں اُس نے اپنا جلال ظاہر کیا ہے۔
24
رب تیرا چھڑانے والا جس نے تجھے ماں کے پیٹ سے ہی تشکیل دیا فرماتا ہے، "مَیں رب ہوں۔ مَیں ہی سب کچھ وجود میں لایا، مَیں نے اکیلے ہی آسمان کو زمین کے اوپر تان لیا اور زمین کو بچھایا۔
25
مَیں ہی قسمت کا حال بتانے والوں کے عجیب و غریب نشان ناکام ہونے دیتا، فال کھولنے والوں کو احمق ثابت کرتا اور داناؤں کو پیچھے ہٹا کر اُن کے علم کی حماقت ظاہر کرتا ہوں۔
26
مَیں ہی اپنے خادم کا کلام پورا ہونے دیتا اور اپنے پیغمبروں کا منصوبہ تکمیل تک پہنچاتا ہوں، مَیں ہی یروشلم کے بارے میں فرماتا ہوں، ’وہ دوبارہ آباد ہو جائے گا،‘ اور یہوداہ کے شہروں کے بارے میں، ’وہ نئے سرے سے تعمیر ہو جائیں گے، مَیں اُن کے کھنڈرات دوبارہ کھڑے کروں گا۔‘
27
مَیں ہی گہرے سمندر کو حکم دیتا ہوں، ’سوکھ جا، مَیں تیری گہرائیوں کو خشک کرتا ہوں۔‘
28
اور مَیں ہی نے خورس کے بارے میں فرمایا، ’یہ میرا گلہ بان ہے! یہی میری مرضی پوری کر کے کہے گا کہ یروشلم دوبارہ تعمیر کیا جائے، رب کے گھر کی بنیاد نئے سرے سے رکھی جائے‘!"
← Chapter 43
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 45 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66