bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
Isaiah 60
Isaiah 60
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 59
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 61 →
1
"اُٹھ، کھڑی ہو کر چمک اُٹھ! کیونکہ تیرا نور آ گیا ہے، اور رب کا جلال تجھ پر طلوع ہوا ہے۔
2
کیونکہ گو زمین پر تاریکی چھائی ہوئی ہے اور اقوام گھنے اندھیرے میں رہتی ہیں، لیکن تجھ پر رب کا نور طلوع ہو رہا ہے، اور اُس کا جلال تجھ پر ظاہر ہو رہا ہے۔
3
اقوام تیرے نور کے پاس اور بادشاہ اُس چمکتی دمکتی روشنی کے پاس آئیں گے جو تجھ پر طلوع ہو گی۔
4
اپنی نظر اُٹھا کر چاروں طرف دیکھ! سب کے سب جمع ہو کر تیرے پاس آ رہے ہیں۔ تیرے بیٹے دُور دُور سے پہنچ ر ہے ہیں، اور تیری بیٹیوں کو گود میں اُٹھا کر قریب لایا جا رہا ہے۔
5
اُس وقت تُو یہ دیکھ کر چمک اُٹھے گی۔ تیرا دل خوشی کے مارے تیزی سے دھڑکنے لگے گا اور کشادہ ہو جائے گا۔ کیونکہ سمندر کے خزانے تیرے پاس لائے جائیں گے، اقوام کی دولت تیرے پاس پہنچے گی۔
6
اونٹوں کا غول بلکہ مِدیان اور عیفہ کے جوان اونٹ تیرے ملک کو ڈھانپ دیں گے۔ وہ سونے اور بخور سے لدے ہوئے اور رب کی حمد و ثنا کرتے ہوئے ملکِ سبا سے آئیں گے۔
7
قیدار کی تمام بھیڑبکریاں تیرے حوالے کی جائیں گی، اور نبایوت کے مینڈھے تیری خدمت کے لئے حاضر ہوں گے۔ اُنہیں میری قربان گاہ پر چڑھایا جائے گا اور مَیں اُنہیں پسند کروں گا۔ یوں مَیں اپنے جلال کے گھر کو شان و شوکت سے آراستہ کروں گا۔
8
یہ کون ہیں جو بادلوں کی طرح اور کابُک کے پاس واپس آنے والے کبوتروں کی مانند اُڑ کر آ رہے ہیں؟
9
یہ ترسیس کے زبردست بحری جہاز ہیں جو تیرے پاس پہنچ رہے ہیں۔ کیونکہ جزیرے مجھ سے اُمید رکھتے ہیں۔ یہ جہاز تیرے بیٹوں کو اُن کی سونے چاندی سمیت دُوردراز علاقوں سے لے کر آ رہے ہیں۔ یوں رب تیرے خدا کے نام اور اسرائیل کے قدوس کی تعظیم ہو گی جس نے تجھے شان و شوکت سے نوازا ہے۔
10
پردیسی تیری دیواریں از سرِ نو تعمیر کریں گے، اور اُن کے بادشاہ تیری خدمت کریں گے۔ کیونکہ گو مَیں نے اپنے غضب میں تجھے سزا دی، لیکن اب مَیں اپنے فضل سے تجھ پر رحم کروں گا۔
11
تیری فصیل کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ اُنہیں نہ دن کو بند کیا جائے گا، نہ رات کو تاکہ اقوام کا مال و دولت اور اُن کے گرفتار کئے گئے بادشاہوں کو شہر کے اندر لایا جا سکے۔
12
کیونکہ جو قوم یا سلطنت تیری خدمت کرنے سے انکار کرے وہ برباد ہو جائے گی، اُسے پورے طور پر تباہ کیا جائے گا۔
13
لبنان کی شان و شوکت تیرے سامنے حاضر ہو گی۔ جونیپر، صنوبر اور سرو کے درخت مل کر تیرے پاس آئیں گے تاکہ میرے مقدِس کو آراستہ کریں۔ یوں مَیں اپنے پاؤں کی چوکی کو جلال دوں گا۔
14
تجھ پر ظلم کرنے والوں کے بیٹے جھک جھک کر تیرے حضور آئیں گے، تیری تحقیر کرنے والے تیرے پاؤں کے سامنے اوندھے منہ ہو جائیں گے۔ وہ تجھے ’رب کا شہر‘ اور ’اسرائیل کے قدوس کا صیون‘ قرار دیں گے۔
15
پہلے تجھے ترک کیا گیا تھا، لوگ تجھ سے نفرت رکھتے تھے، اور تجھ میں سے کوئی نہیں گزرتا تھا۔ لیکن اب مَیں تجھے ابدی فخر کا باعث بنا دوں گا، اور تمام نسلیں تجھے دیکھ کر خوش ہوں گی۔
16
تُو اقوام کا دودھ پیئے گی، اور بادشاہ تجھے دودھ پلائیں گے۔ تب تُو جان لے گی کہ مَیں رب تیرا نجات دہندہ ہوں، کہ مَیں جو یعقوب کا زبردست سورما ہوں تیرا چھڑانے والا ہوں۔
17
مَیں تیرے پیتل کو سونے میں، تیرے لوہے کو چاندی میں، تیری لکڑی کو پیتل میں اور تیرے پتھر کو لوہے میں بدلوں گا۔ مَیں سلامتی کو تیری محافظ اور راستی کو تیری نگران بناؤں گا۔
18
اب سے تیرے ملک میں نہ تشدد کا ذکر ہو گا، نہ بربادی و تباہی کا۔ اب سے تیری چاردیواری ’نجات‘ اور تیرے دروازے ’حمد و ثنا‘ کہلائیں گے۔
19
آئندہ تجھے نہ دن کے وقت سورج، نہ رات کے وقت چاند کی ضرورت ہو گی، کیونکہ رب ہی تیری ابدی روشنی ہو گا، تیرا خدا ہی تیری آب و تاب ہو گا۔
20
آئندہ تیرا سورج کبھی غروب نہیں ہو گا، تیرا چاند کبھی نہیں گھٹے گا۔ کیونکہ رب تیرا ابدی نور ہو گا، اور ماتم کے تیرے دن ختم ہو جائیں گے۔
21
تب تیری قوم کے تمام افراد راست باز ہوں گے، اور ملک ہمیشہ تک اُن کی ملکیت رہے گا۔ کیونکہ وہ میرے ہاتھ سے لگائی ہوئی پنیری ہوں گے، میرے ہاتھ کا کام جس سے مَیں اپنا جلال ظاہر کروں گا۔
22
تب سب سے چھوٹے خاندان کی تعداد بڑھ کر ہزار افراد پر مشتمل ہو گی، سب سے کمزور کنبہ طاقت ور قوم بنے گا۔ مقررہ وقت پر مَیں، رب یہ سب کچھ تیزی سے انجام دوں گا۔"
← Chapter 59
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 61 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66