bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
Jeremiah 18
Jeremiah 18
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 17
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 19 →
1
رب یرمیاہ سے ہم کلام ہوا،
2
"اُٹھ اور کمہار کے گھر میں جا! وہاں مَیں تجھ سے ہم کلام ہوں گا۔"
3
چنانچہ مَیں کمہار کے گھر میں پہنچ گیا۔ اُس وقت وہ چاک پر کام کر رہا تھا۔
4
لیکن مٹی کا جو برتن وہ اپنے ہاتھوں سے تشکیل دے رہا تھا وہ خراب ہو گیا۔ یہ دیکھ کر کمہار نے اُسی مٹی سے نیا برتن بنا دیا جو اُسے زیادہ پسند تھا۔
5
تب رب مجھ سے ہم کلام ہوا،
6
"اے اسرائیل، کیا مَیں تمہارے ساتھ ویسا سلوک نہیں کر سکتا جیسا کمہار اپنے برتن سے کرتا ہے؟ جس طرح مٹی کمہار کے ہاتھ میں تشکیل پاتی ہے اُسی طرح تم میرے ہاتھ میں تشکیل پاتے ہو۔" یہ رب کا فرمان ہے۔
7
"کبھی مَیں اعلان کرتا ہوں کہ کسی قوم یا سلطنت کو جڑ سے اُکھاڑ دوں گا، اُسے گرا کر تباہ کر دوں گا۔
8
لیکن کئی بار یہ قوم اپنی غلط راہ کو ترک کر دیتی ہے۔ اِس صورت میں مَیں پچھتا کر اُس پر وہ آفت نہیں لاتا جو مَیں نے لانے کو کہا تھا۔
9
کبھی مَیں کسی قوم یا سلطنت کو پنیری کی طرح لگانے اور تعمیر کرنے کا اعلان بھی کرتا ہوں۔
10
لیکن افسوس، کئی دفعہ یہ قوم میری نہیں سنتی بلکہ ایسا کام کرنے لگتی ہے جو مجھے ناپسند ہے۔ اِس صورت میں مَیں پچھتا کر اُس پر وہ مہربانی نہیں کرتا جس کا اعلان مَیں نے کیا تھا۔
11
اب یہوداہ اور یروشلم کے باشندوں سے مخاطب ہو کر کہہ، ’رب فرماتا ہے کہ مَیں تم پر آفت لانے کی تیاریاں کر رہا ہوں، مَیں نے تمہارے خلاف منصوبہ باندھ لیا ہے۔ چنانچہ ہر ایک اپنی غلط راہ سے ہٹ کر واپس آئے، ہر ایک اپنا چال چلن اور اپنا رویہ درست کرے۔‘
12
لیکن افسوس، یہ اعتراض کریں گے، ’دفع کرو! ہم اپنے ہی منصوبے جاری رکھیں گے۔ ہر ایک اپنے شریر دل کی ضد کے مطابق ہی زندگی گزارے گا‘۔"
13
اِس لئے رب فرماتا ہے، "دیگر اقوام سے دریافت کرو کہ اُن میں کبھی ایسی بات سننے میں آئی ہے۔ کنواری اسرائیل سے نہایت گھنونا جرم ہوا ہے!
14
کیا لبنان کی پتھریلی چوٹیوں کی برف کبھی پگھل کر ختم ہو جاتی ہے؟ کیا دُوردراز چشموں سے بہنے والا برفیلا پانی کبھی تھم جاتا ہے؟
15
لیکن میری قوم مجھے بھول گئی ہے۔ یہ لوگ باطل بُتوں کے سامنے بخور جلاتے ہیں، اُن چیزوں کے سامنے جن کے باعث وہ ٹھوکر کھا کر قدیم راہوں سے ہٹ گئے ہیں اور اب کچے راستوں پر چل رہے ہیں۔
16
اِس لئے اُن کا ملک ویران ہو جائے گا، ایک ایسی جگہ جسے دوسرے اپنے مذاق کا نشانہ بنائیں گے۔ جو بھی گزرے اُس کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے، وہ افسوس سے اپنا سر ہلائے گا۔
17
دشمن آئے گا تو مَیں اپنی قوم کو اُس کے آگے آگے منتشر کروں گا۔ جس طرح گرد مشرقی ہَوا کے تیز جھونکوں سے اُڑ کر بکھر جاتی ہے اُسی طرح وہ تتر بتر ہو جائیں گے۔ جب آفت اُن پر نازل ہو گی تو مَیں اُن کی طرف رجوع نہیں کروں گا بلکہ اپنا منہ اُن سے پھیر لوں گا۔"
18
یہ سن کر لوگ آپس میں کہنے لگے، "آؤ، ہم یرمیاہ کے خلاف منصوبے باندھیں، کیونکہ اُس کی باتیں صحیح نہیں ہیں۔ نہ امام شریعت کی ہدایت سے، نہ دانش مند اچھے مشوروں سے، اور نہ نبی اللہ کے کلام سے محروم ہو جائے گا۔ آؤ، ہم زبانی اُس پر حملہ کریں اور اُس کی باتوں پر دھیان نہ دیں، خواہ وہ کچھ بھی کیوں نہ کہے۔"
19
اے رب، مجھ پر توجہ دے اور اُس پر غور کر جو میرے مخالف کہہ رہے ہیں۔
20
کیا انسان کو نیک کام کے بدلے میں بُرا کام کرنا چاہئے؟ کیونکہ اُنہوں نے مجھے پھنسانے کے لئے گڑھا کھود کر تیار کر رکھا ہے۔ یاد کر کہ مَیں نے تیرے حضور کھڑے ہو کر اُن کے لئے شفاعت کی تاکہ تیرا غضب اُن پر نازل نہ ہو۔
21
اب ہونے دے کہ اُن کے بچے بھوکے مر جائیں اور وہ خود تلوار کی زد میں آئیں۔ اُن کی بیویاں بےاولاد اور شوہروں سے محروم ہو جائیں۔ اُن کے آدمیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جائے، اُن کے نوجوان جنگ میں لڑتے لڑتے ہلاک ہو جائیں۔
22
اچانک اُن پر جنگی دستے لا تاکہ اُن کے گھروں سے چیخوں کی آوازیں بلند ہوں۔ کیونکہ اُنہوں نے مجھے پکڑنے کے لئے گڑھا تیار کر رکھا ہے، اُنہوں نے میرے پاؤں کو پھنسانے کے لئے میرے راستے میں پھندے چھپا رکھے ہیں۔
23
اے رب، تُو اُن کی مجھے قتل کرنے کی تمام سازشیں جانتا ہے۔ اُن کا قصور معاف نہ کر، اور اُن کے گناہوں کو نہ مٹا بلکہ اُنہیں ہمیشہ یاد کر۔ ہونے دے کہ وہ ٹھوکر کھا کر تیرے سامنے گر جائیں۔ جب تیرا غضب نازل ہو گا تو اُن سے بھی نپٹ لے۔
← Chapter 17
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 19 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
Recommended Reading
Commentary
Jeremiah Commentaries
→
Devotional
Jeremiah Devotional Guide
→
Get This Bible
UGV Study Bible
→