bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
Jeremiah 34
Jeremiah 34
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 33
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 35 →
1
رب اُس وقت یرمیاہ سے ہم کلام ہوا جب شاہِ بابل نبوکدنضر اپنی پوری فوج لے کر یروشلم اور یہوداہ کے تمام شہروں پر حملہ کر رہا تھا۔ اُس کے ساتھ دنیا کے اُن تمام ممالک اور قوموں کی فوجیں تھیں جنہیں اُس نے اپنے تابع کر لیا تھا۔
2
"رب جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے کہ یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کے پاس جا کر اُسے بتا، ’رب فرماتا ہے کہ مَیں اِس شہر یروشلم کو شاہِ بابل کے حوالے کرنے کو ہوں، اور وہ اِسے نذرِ آتش کر دے گا۔
3
تُو بھی اُس کے ہاتھ سے نہیں بچے گا بلکہ ضرور پکڑا جائے گا۔ تجھے اُس کے حوالے کیا جائے گا، اور تُو شاہِ بابل کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا، وہ تیرے رُوبرُو تجھ سے بات کرے گا۔ پھر تجھے بابل جانا پڑے گا۔
4
لیکن اے صِدقیاہ بادشاہ، رب کا یہ فرمان بھی سن! رب تیرے بارے میں فرماتا ہے کہ تُو تلوار سے نہیں
5
بلکہ طبعی موت مرے گا، اور لوگ اُسی طرح تیری تعظیم میں لکڑی کا بڑا ڈھیر بنا کر آگ لگائیں گے جس طرح تیرے باپ دادا کے لئے کرتے آئے ہیں۔ وہ تجھ پر بھی ماتم کر یں گے اور کہیں گے، ’ہائے، میرے آقا‘!" یہ رب کا فرمان ہے۔
6
یرمیاہ نبی نے صِدقیاہ بادشاہ کو یروشلم میں یہ پیغام سنایا۔
7
اُس وقت بابل کی فوج یروشلم، لکیس اور عزیقہ سے لڑ رہی تھی۔ یہوداہ کے تمام قلعہ بند شہروں میں سے یہی تین اب تک قائم رہے تھے۔
8
رب کا کلام ایک بار پھر یرمیاہ پر نازل ہوا۔ اُس وقت صِدقیاہ بادشاہ نے یروشلم کے باشندوں کے ساتھ عہد باندھا تھا کہ ہم اپنے ہم وطن غلاموں کو آزاد کر دیں گے۔
9
ہر ایک نے اپنے ہم وطن غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنے کا وعدہ کیا تھا، کیونکہ سب متفق ہوئے تھے کہ ہم اپنے ہم وطنوں کو غلامی میں نہیں رکھیں گے۔
10
تمام بزرگ اور باقی تمام لوگ یہ کرنے پر راضی ہوئے تھے۔ یہ عہد کرنے پر اُنہوں نے اپنے غلاموں کو واقعی آزاد کر دیا تھا۔
11
لیکن بعد میں وہ اپنا ارادہ بدل کر اپنے آزاد کئے ہوئے غلاموں کو واپس لائے اور اُنہیں دوبارہ اپنے غلام بنا لیا تھا۔
12
تب رب کا کلام یرمیاہ پر نازل ہوا۔
13
"رب جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے، ’جب مَیں تمہارے باپ دادا کو مصر کی غلامی سے نکال لایا تو مَیں نے اُن سے عہد باندھا۔ اُس کی ایک شرط یہ تھی
14
کہ جب کسی ہم وطن نے اپنے آپ کو بیچ کر چھ سال تک تیری خدمت کی ہے تو لازم ہے کہ ساتویں سال تُو اُسے آزاد کر دے۔ یہ شرط تم سب پر صادق آتی ہے۔ لیکن افسوس، تمہارے باپ دادا نے نہ میری سنی، نہ میری بات پر دھیان دیا۔
15
اب تم نے پچھتا کر وہ کچھ کیا جو مجھے پسند تھا۔ ہر ایک نے اعلان کیا کہ ہم اپنے ہم وطن غلاموں کو آزاد کر دیں گے۔ تم اُس گھر میں آئے جس پر میرے نام کا ٹھپا لگا ہے اور عہد باندھ کر میرے حضور اُس وعدے کی تصدیق کی۔
16
لیکن اب تم نے اپنا ارادہ بدل کر میرے نام کی بےحرمتی کی ہے۔ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کر دینے کے بعد ہر ایک اُنہیں اپنے پاس واپس لایا ہے۔ پہلے تم نے اُنہیں بتایا کہ جہاں جی چاہو چلے جاؤ، اور اب تم نے اُنہیں دوبارہ غلام بننے پر مجبور کیا ہے۔‘
17
چنانچہ سنو جو کچھ رب فرماتا ہے! ’تم نے میری نہیں سنی، کیونکہ تم نے اپنے ہم وطن غلاموں کو آزاد نہیں چھوڑا۔ اِس لئے اب رب تمہیں تلوار، مہلک بیماریوں اور کال کے لئے آزاد چھوڑ دے گا۔ تمہیں دیکھ کر دنیا کے تمام ممالک کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔‘ یہ رب کا فرمان ہے۔
18
’دیکھو، یہوداہ اور یروشلم کے بزرگوں، درباریوں، اماموں اور عوام نے میرے ساتھ عہد باندھا۔ اِس کی تصدیق کرنے کے لئے وہ ایک بچھڑے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اُن کے درمیان سے گزر گئے۔ توبھی اُنہوں نے عہد توڑ کر اُس کی شرائط پوری نہ کیں۔ چنانچہ مَیں ہونے دوں گا کہ وہ اُس بچھڑے کی مانند ہو جائیں جس کے دو حصوں میں سے وہ گزر گئے ہیں۔
19
’دیکھو، یہوداہ اور یروشلم کے بزرگوں، درباریوں، اماموں اور عوام نے میرے ساتھ عہد باندھا۔ اِس کی تصدیق کرنے کے لئے وہ ایک بچھڑے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اُن کے درمیان سے گزر گئے۔ توبھی اُنہوں نے عہد توڑ کر اُس کی شرائط پوری نہ کیں۔ چنانچہ مَیں ہونے دوں گا کہ وہ اُس بچھڑے کی مانند ہو جائیں جس کے دو حصوں میں سے وہ گزر گئے ہیں۔
20
مَیں اُنہیں اُن کے دشمنوں کے حوالے کر دوں گا، اُن ہی کے حوالے جو اُنہیں جان سے مارنے کے درپَے ہیں۔ اُن کی لاشیں پرندوں اور جنگلی جانوروں کی خوراک بن جائیں گی۔
21
مَیں یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ اور اُس کے افسروں کو اُن کے دشمن کے حوالے کر دوں گا، اُن ہی کے حوالے جو اُنہیں جان سے مارنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ وہ یقیناً شاہِ بابل نبوکدنضر کی فوج کے قبضے میں آ جائیں گے۔ کیونکہ گو فوجی اِس وقت پیچھے ہٹ گئے ہیں،
22
لیکن میرے حکم پر وہ واپس آ کر یروشلم پر حملہ کریں گے۔ اور اِس مرتبہ وہ اُس پر قبضہ کر کے اُسے نذرِ آتش کر دیں گے۔ مَیں یہوداہ کے شہروں کو بھی یوں خاک میں ملا دوں گا کہ کوئی اُن میں نہیں رہ سکے گا‘۔" یہ رب کا فرمان ہے۔
← Chapter 33
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 35 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
Recommended Reading
Commentary
Jeremiah Commentaries
→
Devotional
Jeremiah Devotional Guide
→
Get This Bible
UGV Study Bible
→