bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Jeremiah 8
Jeremiah 8
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 7
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 9 →
1
” ’یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ اُس وقت یہُودیؔہ کے بادشاہوں، حاکموں، کاہِنوں اَور نبیوں اَور یروشلیمؔ کے لوگوں کی ہڈّیاں اُن کی قبروں سے نکالی جایٔیں گی۔
2
اَور اُنہیں سُورج، چاند اَور دیگر اجرامِ فلکی کے سامنے پھیلا دیا جائے گا جِن سے وہ مَحَبّت رکھتے، جِن کی خدمت کرتے، جِن کی پیروی کرتے اَور جِن سے صلاح لیتے اَور جِن کی عبادت کرتے تھے۔ اِن ہڈّیوں کو نہ تو وہ جمع کریں گے اَور نہ ہی دفنائی جایٔیں گی بَلکہ وہ فُضلہ کی مانند زمین پر پڑی رہیں گی۔
3
قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، تَب اِس بد ذات قوم کے بچے ہُوئے لوگ اُن سَب مقاموں میں جِس میں سے مَیں نے اُنہیں جَلاوطن کر دیا ہے وہاں وہ زندگی سے زِیادہ موت کی آرزُو کریں گے۔‘
4
”اُن سے کہو، ’یَاہوِہ کا یہ فرمان ہے: ” ’کیا لوگ گِر کر پھر نہیں اُٹھتے؟ یا جَب کویٔی شخص راہ بھٹک جاتا ہے تو کیا وہ پھر صحیح راہ پر لَوٹ کر نہیں آتا؟
5
پھر یہ لوگ کیوں برگشتہ ہو گئے؟ یروشلیمؔ ہمیشہ برگشتہ کیوں ہو جاتا ہے؟ وہ فریب سے لپٹے رہتے ہیں؛ اَور واپس آنے سے اِنکار کرتے ہیں۔
6
مَیں نے نہایت غور سے سُنا ہے، لیکن اُن کی باتیں سچ نہیں ہیں۔ کویٔی اَپنی بدکاری سے یہ کہہ کر تَوبہ نہیں کرتا، وہ بحث کرتے ہیں، ”مَیں نے کیا کیا ہے؟“ جَیسے گھوڑا جنگ میں سرپٹ دَوڑتا ہے، وَیسے ہی اِن میں سے ہر ایک شخص اَپنی ہی روِش کے درپے ہوتاہے۔
7
آسمان میں اُڑنے والا لق لق بھی اَپنے مُقرّرہ موسموں کو جانتا ہے، اَور فاختہ، ابابیل اَور سارس بھی اَپنے لَوٹ آنے کے وقت کے پابند ہوتے ہیں؛ لیکن میری قوم، یَاہوِہ کے تقاضوں کو نہیں جانتی۔
8
” ’تُم کیسے یہ دعویٰ کر سکتے ہو، ”ہم دانشمند ہیں، کیونکہ ہمارے پاس یَاہوِہ کے دئیے ہوئے کے آئین ہیں،“ جَب کہ حقیقت یہ ہے کہ کاتبوں کے باطِل قلم نے جھُوٹا بَیان لِکھ کر اُسے جھُوٹا بنا دیا ہے؟
9
دانشمند کاتب شرمندہ کئے جایٔیں گے؛ وہ حیرت زدہ ہوں گے اَور پکڑے جایٔیں گے؛ غور کرو، اُنہُوں نے یَاہوِہ کے کلام کو ٹھکرا دیا ہے؟ اُن میں کیسی دانشمندی ہے؟
10
اِس لیٔے مَیں اُن کی بیویاں غَیر مَردوں کو اَور اُن کے کھیت نئے مالکوں کو دے دُوں گا۔ کیونکہ وہ سَب چُھوٹے سے بڑے تک، سبھی اَپنے مفاد کے لالچی ہیں؛ اَور کیا نبی اَور کیا کاہِنؔ، سبھی دغاباز ہیں۔
11
وہ میری قوم کے زخموں پر اِس طرح پٹّی باندھتے ہیں گویا وہ مَعمولی زخم ہُوں۔ ”اَور سلامتی، سلامتی کہتے ہیں،“ جَب کہ کچھ بھی سلامتی نہیں ہے۔
12
کیا وہ اَپنے مکرُوہ اعمال کے باعث شرمندہ ہُوئے؟ نہیں، وہ بالکُل بے شرم ہیں؛ وہ شرمانا تک نہیں جانتے۔ اِس لیٔے وہ گرنے والوں کے ساتھ گریں گے؛ یَاہوِہ فرماتے ہیں، جَب اُنہیں سزا دی جائے گی تَب وہ پست ہو جایٔیں گے۔
13
” ’یَاہوِہ فرماتے ہیں، مَیں اُن کی فصل تباہ کر دُوں گا، انگور کی شاخوں پر انگور نہ ہوں گے۔ نہ درختوں پر اَنجیر ہوں گے، اَور اُن کے پتّے مُرجھا جایٔیں گے۔ جو کچھ مَیں نے اُنہیں دیا ہے وہ سَب اُن سے لے لیا جائے گا۔‘ “
14
ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ آؤ جمع ہو جایٔیں! چلو مُستحکم شہروں کی طرف بھاگ چلیں اَور وہاں ہلاک ہُوں! کیونکہ یَاہوِہ ہمارے خُدا نے ہمیں ہلاکت کے لیٔے نامزد کیا ہے اَور ہمیں زہریلا پانی پینے کو دیا ہے، کیونکہ ہم نے اُن کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔
15
ہم نے سلامتی کی اُمّید رکھی لیکن کوئی فائدہ نہ ہُوا، ہم شفا کے وقت کی اُمّید رکھتے تھے لیکن دہشت سے پالا پڑا۔
16
دُشمن کے گھوڑوں کے خرّاٹوں کی آواز دانؔ سے سُنایٔی دے رہی ہے اَور اُن کے جنگی گھوڑوں کی ہنہناہٹ سے سارا مُلک تھرتھرا رہاہے۔ کیونکہ وہ ہماری زمین اَور اُس میں کی ہر شَے کو، اَور شہر کو اُس کے تمام باشِندوں کے ساتھ نگل جانے کو آ رہے ہیں۔
17
”دیکھو، مَیں تمہارے درمیان اَیسے زہریلے سانپ، اَور افعی بھیجوں گا، جِن پر کویٔی منتر کارگر نہیں ہوگا، اَور وہ تُمہیں ڈسیں گے،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
18
میرا غم لاعلاج ہے؛ میرا دِل اَندر ہی اَندر تڑپتا ہے۔
19
میری قوم کی ماتم سُنیں جو دُور کے مُلک سے آ رہی ہے: ”کیا یَاہوِہ صِیّونؔ میں مَوجُود نہیں ہیں؟ کیا اُن کا بادشاہ اَب وہاں نہیں ہے؟“ ”اُنہُوں نے اَپنے تراشے ہُوئے بُتوں اَور غَیر معبُودوں سے میرے قہر کو کیوں بھڑکایا؟“
20
”فصل کاٹنے کا وقت گزر گیا، گرمی کا موسم ختم ہو گیا، پھر بھی ہماری نَجات نہ ہُوئی۔“
21
اَپنی قوم کی پامالی کے باعث میں بھی پامال ہُوا؛ میں ماتم کر رہا ہُوں اَور دہشت نے مُجھے جکڑ لیا ہے۔
22
کیا گِلعادؔ میں کسی قِسم کا مرہم نہیں ملتا؟ کیا وہاں کویٔی طبیب نہیں؟ پھر میری اُمّت کے زخم شفایاب کیوں نہیں ہوتے؟
← Chapter 7
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 9 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52