bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Exodus 23
Exodus 23
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 22
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 24 →
1
تُو جُھوٹی بات نہ پَھیلانا اور ناراست گواہ ہونے کے لِئے شرِیروں کا ساتھ نہ دینا۔
2
بُرائی کرنے کے لِئے کِسی بِھیڑ کی پَیروی نہ کرنا اور نہ کِسی مُقدّمہ میں اِنصاف کا خُون کرانے کے لِئے بِھیڑ کا مُنہ دیکھ کر کُچھ کہنا۔
3
اور نہ مُقدّمہ میں کنگال کی طرف داری کرنا۔
4
اگر تیرے دُشمن کا بَیل یا گدھا تُجھے بھٹکتا ہُؤا مِلے تو تُو ضرُور اُسے اُس کے پاس پھیر کر لے آنا۔
5
اگر تُو اپنے دُشمن کے گدھے کو بوجھ کے نِیچے دبا ہُؤا دیکھے اور اُس کی مدد کرنے کو جی بھی نہ چاہتا ہو تَو بھی ضرُور اُسے مدد دینا۔
6
تُو اپنے کنگال لوگوں کے مُقدّمہ میں اِنصاف کا خُون نہ کرنا۔
7
جُھوٹے مُعاملہ سے دُور رہنا اور بے گُناہوں اور صادقوں کو قتل نہ کرنا کیونکہ مَیں شرِیر کو راست نہیں ٹھہراؤُں گا۔
8
تُو رِشوت نہ لینا کیونکہ رِشوت بِیناؤں کو اندھا کر دیتی ہے اور صادِقوں کی باتوں کو پلٹ دیتی ہے۔
9
اور پردیسی پر ظُلم نہ کرنا کیونکہ تُم پردیسی کے دِل کو جانتے ہو اِس لِئے کہ تُم خُود بھی مُلکِ مِصرؔ میں پردیسی تھے۔
10
اور چھ برس تک تُو اپنی زمِین میں بونا اور اُس کا غلّہ جمع کرنا۔
11
پر ساتویں برس اُسے یُوں ہی چھوڑ دینا کہ پڑتی رہے تاکہ تیری قَوم کے مِسکِین اُسے کھائیں اور جو اُن سے بچے اُسے جنگل کے جانور چَر لیں۔ اپنے انگُور اور زَیتُون کے باغ سے بھی اَیسا ہی کرنا۔
12
چھ دِن تک اپنا کام کاج کرنا اور ساتویں دِن آرام کرنا تاکہ تیرے بَیل اور گدھے کو آرام مِلے اور تیری لَونڈی کا بیٹا اور پردیسی تازہ دَم ہو جائیں۔
13
اور تُم سب باتوں میں جو مَیں نے تُم سے کہی ہیں ہوشیار رہنا اور دُوسرے معبُودوں کا نام تک نہ لینا بلکہ وہ تیرے مُنہ سے سُنائی بھی نہ دے۔
14
تُو سال بھر میں تِین بار میرے لِئے عِید منانا۔
15
عِیدِ فطیر کو ماننا۔ اُس میں میرے حُکم کے مُطابِق ابیب مہینے کے مُقرّرہ وقت پر سات دِن تک بے خمِیری روٹیاں کھانا (کیونکہ اُسی مہینے میں تُو مِصرؔ سے نِکلا تھا) اور کوئی میرے آگے خالی ہاتھ نہ آئے۔
16
اور جب تیرے کھیت میں جِسے تُو نے مِحنت سے بویا پہلا پَھل آئے تو فصل کاٹنے کی عِید ماننا۔ اور سال کے آخِر میں جب تُو اپنی محنت کا پَھل کھیت سے جمع کرے تو جمع کرنے کی عِید منانا۔
17
اور سال میں تِینوں مرتبہ تُمہارے ہاں کے سب مَرد خُداوند خُدا کے آگے حاضِر ہُؤا کریں۔
18
تُو خمِیری روٹی کے ساتھ میرے ذبِیحہ کا خُون نہ چڑھانا اور میری عِید کی چربی صُبح تک باقی نہ رہنے دینا۔
19
تُو اپنی زمِین کے پہلے پَھلوں کا پہلا حِصّہ خُداوند اپنے خُدا کے گھر میں لانا۔ تُو حلوان کو اُس کی ماں کے دُودھ میں نہ پکانا۔
20
دیکھ مَیں ایک فرِشتہ تیرے آگے آگے بھیجتا ہُوں کہ راستہ میں تیرا نِگہبان ہو اور تُجھے اُس جگہ پُہنچا دے جِسے مَیں نے تیّار کِیا ہے۔
21
تُم اُس کے آگے ہوشیار رہنا اور اُس کی بات ماننا۔ اُسے ناراض نہ کرنا کیونکہ وہ تُمہاری خطا نہیں بخشے گا اِس لِئے کہ میرا نام اُس میں رہتا ہے۔
22
پر اگر تُو سچ مُچ اُس کی بات مانے اور جو مَیں کہتا ہُوں وہ سب کرے تو مَیں تیرے دُشمنوں کا دُشمن اور تیرے مخالِفوں کا مخالِف ہُوں گا۔
23
اِس لِئے کہ میرا فرِشتہ تیرے آگے آگے چلے گا اور تُجھے امورِیوں اور حِتّیوں اور فرزّیوں اور کنعانیوں اور حوّیوں اور یبوسیوں میں پُہنچا دے گا اور مَیں اُن کو ہلاک کر ڈالُوں گا۔
24
تُو اُن کے معبُودوں کو سِجدہ نہ کرنا نہ اُن کی عِبادت کرنا نہ اُن کے سے کام کرنا بلکہ تُو اُن کو بالکل اُلٹ دینا اور اُن کے سُتُونوں کو ٹُکڑے ٹُکڑے کر ڈالنا۔
25
اور تُم خُداوند اپنے خُدا کی عِبادت کرنا تب وہ تیری روٹی اور پانی پر برکت دے گا اور مَیں تیرے بِیچ سے بیماری کو دُور کر دُوں گا۔
26
اور تیرے مُلک میں نہ تو کِسی کے اِسقاط ہو گا اور نہ کوئی بانجھ رہے گی اور مَیں تیری عُمر پُوری کرُوں گا۔
27
مَیں اپنی ہَیبت کو تیرے آگے آگے بھیجُوں گا اور مَیں اُن سب لوگوں کو جِن کے پاس تُو جائے گا شِکست دُوں گا اور مَیں اَیسا کرُوں گا کہ تیرے سب دُشمن تیرے آگے اپنی پُشت پھیر دیں گے۔
28
مَیں تیرے آگے زنبُوروں کو بھیجُوں گا جو حوّی اور کنعانی اور حِتّی کو تیرے سامنے سے بھگا دیں گے۔
29
مَیں اُن کو ایک ہی سال میں تیرے آگے سے دُور نہیں کرُوں گا تا نہ ہو کہ زمِین وِیران ہو جائے اور جنگلی درِندے زِیادہ ہو کر تُجھے ستانے لگیں۔
30
بلکہ مَیں تھوڑا تھوڑا کر کے اُن کو تیرے سامنے سے دُور کرتا رہُوں گا جب تک تُو شُمار میں بڑھ کر مُلک کا وارِث نہ ہو جائے۔
31
مَیں بحرِ قُلزؔم سے لے کر فلِستِیوں کے سمُندر تک اور بیابان سے لے کر نہرِ فرات تک تیری حدّیں باندھُوں گا کیونکہ مَیں اُس مُلک کے باشندوں کو تُمہارے ہاتھ میں کر دُوں گا اور تُو اُن کو اپنے آگے سے نِکال دے گا۔
32
تُو اُن سے یا اُن کے معبُودوں سے کوئی عہد نہ باندھنا۔
33
وہ تیرے مُلک میں رہنے نہ پائیں تا نہ ہو کہ وہ تُجھ سے میرے خِلاف گُناہ کرائیں کیونکہ اگر تُو اُن کے معبُودوں کی عِبادت کرے تو یہ تیرے لِئے ضرُور پھندا ہو جائے گا۔
← Chapter 22
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 24 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40