bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Exodus 8
Exodus 8
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 7
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 9 →
1
پِھر خُداوند نے مُوسیٰؔ سے کہا کہ فرِعونؔ کے پاس جا اور اُس سے کہہ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عِبادت کریں۔
2
اور اگر تُو اُن کو جانے نہ دے گا تو دیکھ مَیں تیرے مُلک کو مینڈکوں سے مارُوں گا۔
3
اور دریا بے شُمار مینڈکوں سے بھر جائے گا اور وہ آ کر تیرے گھر میں اور تیری آرام گاہ میں اور تیرے پلنگ پر اور تیرے مُلازِموں کے گھروں میں اور تیری رعیّت پر اور تیرے تنُوروں اور آٹا گوندھنے کے لگنوں میں گُھستے پِھریں گے۔
4
اور تُجھ پر اور تیری رعیّت اور تیرے نوکروں پر چڑھ جائیں گے۔
5
اور خُداوند نے مُوسیٰؔ کو فرمایا کہ ہارُونؔ سے کہہ اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ دریاؤں اور نہروں اور جِھیلوں پر بڑھا اور مینڈکوں کو مُلکِ مِصرؔ پر چڑھالا۔
6
چُنانچہ جِتنا پانی مِصرؔ میں تھا اُس پر ہارُونؔ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور مینڈک چڑھ آئے اور مُلکِ مِصرؔ کو ڈھانک لِیا۔
7
اور جادُوگروں نے بھی اپنے جادُو سے اَیسا ہی کِیا اور مُلکِ مِصرؔ پر مینڈک چڑھا لائے۔
8
تب فِرعونؔ نے مُوسیٰؔ اور ہارُونؔ کو بُلوا کر کہا کہ خُداوند سے شِفاعت کرو کہ مینڈکوں کو مُجھ سے اور میری رعیّت سے دَفع کرے اور مَیں اِن لوگوں کو جانے دُوں گا تاکہ وہ خُداوند کے لِئے قُربانی کریں۔
9
مُوسیٰؔ نے فِرعونؔ سے کہا تُجھے مُجھ پر یِہی فخر رہے! مَیں تیرے اور تیرے نوکروں اور تیری رعیّت کے واسطے کب کے لِئے شِفاعت کرُوں کہ مینڈک تُجھ سے اور تیرے گھروں سے دَفع ہوں اور دریا ہی میں رہیں؟
10
اُس نے کہا کل کے لِئے۔ تب اُس نے کہا تیرے ہی کہنے کے مُطابِق ہو گا تاکہ تُو جانے کہ خُداوند ہمارے خُدا کی مانِند کوئی نہیں۔
11
اور مینڈک تُجھ سے اور تیرے گھروں سے اور تیرے نوکروں سے اور تیری رعیّت سے دُور ہو کر دریا ہی میں رہا کریں گے۔
12
پِھر مُوسیٰؔ اور ہارُونؔ فِرعونؔ کے پاس سے نِکل کر چلے گئے اور مُوسیٰؔ نے خُداوند سے مینڈکوں کے بارے میں جو اُس نے فِرعونؔ پر بھیجے تھے فریاد کی۔
13
اور خُداوند نے مُوسیٰؔ کی درخواست کے مُوافِق کِیا اور سب گھروں اور صحنوں اور کھیتوں کے مینڈک مَر گئے۔
14
اور لوگوں نے اُن کو جمع کر کر کے اُن کے ڈھیر لگا دِئے اور زمِین سے بدبُو آنے لگی۔
15
پر جب فِرعونؔ نے دیکھا کہ چُھٹکارا مِل گیا تو اُس نے اپنا دِل سخت کر لِیا اور جَیسا خُداوند نے کہہ دِیا تھا اُن کی نہ سُنی۔
16
تب خُداوند نے مُوسیٰؔ سے کہا ہارُونؔ سے کہہ اپنی لاٹھی بڑھا کر زمِین کی گَرد کو مار تاکہ وہ تمام مُلکِ مِصرؔ میں جُوئیں بن جائے۔
17
اُنہوں نے اَیسا ہی کِیا اور ہارُونؔ نے اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ بڑھایا اور زمِین کی گَرد کو مارا اور اِنسان اور حَیوان پر جُوئیں ہو گئیں اور تمام مُلکِ مِصرؔ میں زمِین کی ساری گَرد جُوئیں بن گئی۔
18
اور جادُوگروں نے کوشِش کی کہ اپنے جادُو سے جُوئیں پَیدا کریں پر نہ کر سکے اور اِنسان اور حَیوان دونوں پر جُوئیں چڑھی رہِیں۔
19
تب جادُوگروں نے فِرعونؔ سے کہا کہ یہ خُدا کا کام ہے پر فرِعونؔ کا دِل سخت ہو گیا اور جَیسا خُداوند نے کہہ دِیا تھا اُس نے اُن کی نہ سُنی۔
20
تب خُداوند نے مُوسیٰؔ سے کہا صُبح سویرے اُٹھ کر فرِعونؔ کے آگے جا کھڑا ہونا۔ وہ دریا پر آئے گا۔ سو تُو اُس سے کہنا خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے کہ وہ میری عِبادت کریں۔
21
ورنہ اگر تُو اُن کو جانے نہ دے گا تو دیکھ مَیں تُجھ پر اور تیرے نوکروں اور تیری رعیّت پر اور تیرے گھروں میں مچّھروں کے غول کے غول بھیجُوں گا اور مِصریوں کے گھر اور تمام زمِین جہاں جہاں وہ ہیں مچّھروں کے غولوں سے بھر جائے گی۔
22
اور مَیں اُس دِن جشن کے علاقہ کو جِس میں میرے لوگ رہتے ہیں جُدا کرُوں گا اور اُس میں مچّھروں کے غول نہ ہوں گے تاکہ تُو جان لے کہ دُنیا میں خُداوند مَیں ہی ہُوں۔
23
اور مَیں اپنے لوگوں اور تیرے لوگوں میں فرق کرُوں گا اور کل تک یہ نِشان ظہُور میں آئے گا۔
24
چُنانچہ خُداوند نے اَیسا ہی کِیا اور فرِعونؔ کے گھر اور اُس کے نوکروں کے گھروں اور سارے مُلکِ مِصرؔ میں مچّھروں کے غول کے غول بھر گئے اور اِن مچّھروں کے غولوں کے سبب سے مُلک کا ناس ہو گیا۔
25
تب فرِعونؔ نے مُوسیٰؔ اور ہارُونؔ کو بُلوا کر کہا کہ تُم جاؤ اور اپنے خُدا کے لِئے اِسی مُلک میں قُربانی کرو۔
26
مُوسیٰؔ نے کہا اَیسا کرنا مناسب نہیں کیونکہ ہم خُداوند اپنے خُدا کے لِئے اُس چِیز کی قُربانی کریں گے جِس سے مِصری نفرت رکھتے ہیں۔ سو اگر ہم مِصریوں کی آنکھوں کے آگے اُس چِیز کی قُربانی کریں جِس سے وہ نفرت رکھتے ہیں تو کیا وہ ہم کو سنگسار نہ کر ڈالیں گے؟
27
پس ہم تِین دِن کی راہ بیابان میں جا کر خُداوند اپنے خُدا کے لِئے جَیسا وہ ہم کو حُکم دے گا قُربانی کریں گے۔
28
فرِعونؔ نے کہا مَیں تُم کو جانے دُوں گا تاکہ تُم خُداوند اپنے خُدا کے لِئے بیابان میں قُربانی کرو لیکن تُم بُہت دُور مت جانا اور میرے لِئے شِفاعت کرنا۔
29
مُوسیٰؔ نے کہا دیکھ مَیں تیرے پاس سے جا کر خُداوند سے شِفاعت کرُوں گا کہ مچّھروں کے غول فرِعونؔ اور اُس کے نوکروں اور اُس کی رعیّت کے پاس سے کل ہی دُور ہو جائیں فقط اِتنا ہو کہ فرِعونؔ آگے کو دغا کر کے لوگوں کو خُداوند کے لِئے قُربانی کرنے کو جانے دینے سے اِنکار نہ کر دے۔
30
اور مُوسیٰؔ نے فرِعونؔ کے پاس سے جا کر خُداوند سے شِفاعت کی۔
31
خُداوند نے مُوسیٰؔ کی درخواست کے مُوافِق کِیا اور اُس نے مچّھروں کے غولوں کو فرِعونؔ اور اُس کے نوکروں اور اُس کی رعیّت کے پاس سے دُور کر دِیا یہاں تک کہ ایک بھی باقی نہ رہا۔
32
پر فرِعونؔ نے اِس بار بھی اپنا دِل سخت کر لِیا اور اُن لوگوں کو جانے نہ دِیا۔
← Chapter 7
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 9 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40