bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Exodus 9
Exodus 9
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 8
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 10 →
1
تب خُداوند نے مُوسیٰؔ سے کہا فرِعونؔ کے پاس جا کر اُس سے کہہ کہ خُداوند عِبرانیوں کا خُدا یُوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عِبادت کریں۔
2
کیونکہ اگر تُو اِنکار کرے اور اُن کو جانے نہ دے اور اب بھی اُن کو روکے رکھّے۔
3
تو دیکھ خُداوند کا ہاتھ تیرے چَوپایوں پر جو کھیتوں میں ہیں یعنی گھوڑوں گدھوں اُونٹوں گائے بَیلوں اور بھیڑ بکرِیوں پر اَیسا پڑے گا کہ اُن میں بڑی بھاری مَری پَھیل جائے گی۔
4
اور خُداوند اِسرائیلؔ کے چَوپایوں کو مِصریوں کے چَوپایوں سے جُدا کرے گا اور جو بنی اِسرائیل کے ہیں اُن میں سے ایک بھی نہیں مَرے گا۔
5
اور خُداوند نے ایک وقت مُقرّر کر دِیا اور بتا دِیا کہ کل خُداوند اِس مُلک میں یِہی کام کرے گا۔
6
اور خُداوند نے دُوسرے دِن اَیسا ہی کِیا اور مِصریوں کے سب چَوپائے مَر گئے لیکن بنی اِسرائیل کے چَوپایوں میں سے ایک بھی نہ مَرا۔
7
چُنانچہ فرِعونؔ نے آدمی بھیجے تو معلُوم ہُؤا کہ اِسرائیلیوں کے چَوپایوں میں سے ایک بھی نہیں مَرا ہے لیکن فرِعونؔ کا دِل مُتعصّب تھا اور اُس نے لوگوں کو جانے نہ دِیا۔
8
اور خُداوند نے مُوسیٰؔ اور ہارُونؔ سے کہا کہ تُم دونوں بھٹّی کی راکھ اپنی مُٹّھیوں میں لے لو اور مُوسیٰؔ اُسے فرِعونؔ کے سامنے آسمان کی طرف اُڑا دے۔
9
اور وہ سارے مُلکِ مِصرؔ میں بارِیک گرد ہو کر مِصرؔ کے آدمِیوں اور جانوروں کے جِسم پر پھوڑے اور پھپھولے بن جائے گی۔
10
سو وہ بھٹّی کی راکھ لے کر فرِعونؔ کے آگے جا کھڑے ہُوئے اور مُوسیٰؔ نے اُسے آسمان کی طرف اُڑا دِیا اور وہ آدمِیوں اور جانوروں کے جِسم پر پھوڑے اور پھپھولے بن گئی۔
11
اور جادُوگر پھوڑوں کے سبب سے مُوسیٰؔ کے آگے کھڑے نہ رہ سکے کیونکہ جادُوگروں اور سب مِصریوں کے پھوڑے نِکلے ہُوئے تھے۔
12
اور خُداوند نے فرِعونؔ کے دِل کو سخت کر دِیا اور اُس نے جَیسا خُداوند نے مُوسیٰؔ سے کہہ دِیا تھا اُن کی نہ سُنی۔
13
پِھر خُداوند نے مُوسیٰؔ سے کہا کہ صُبح سویرے اُٹھ کر فرِعونؔ کے آگے جا کھڑا ہو اور اُسے کہہ کہ خُداوند عِبرانیوں کا خُدا یُوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عِبادت کریں۔
14
کیونکہ مَیں اب کی بار اپنی سب بلائیں تیرے دِل اور تیرے نوکروں اور تیری رعیّت پر نازِل کرُوں گا تاکہ تُو جان لے کہ تمام دُنیا میں میری مانِند کوئی نہیں ہے۔
15
اور مَیں نے تو ابھی ہاتھ بڑھا کر تُجھے اور تیری رعیّت کو وبا سے مارا ہوتا اور تُو زمِین پر سے ہلاک ہو جاتا۔
16
پر مَیں نے تُجھے فی الحقِیقت اِس لِئے قائِم رکھّا ہے کہ اپنی قُوّت تُجھے دِکھاؤُں تاکہ میرا نام ساری دُنیا میں مشہُور ہو جائے۔
17
کیا تُو اب بھی میرے لوگوں کے مقابلہ میں تکبُّر کرتا ہے کہ اُن کو جانے نہیں دیتا؟
18
دیکھ مَیں کل اِسی وقت اَیسے بڑے بڑے اَولے برساؤُں گا جو مِصرؔ میں جب سے اُس کی بُنیاد ڈالی گئی آج تک نہیں پڑے۔
19
پس آدمی بھیج کر اپنے چَوپایوں کو اور جو کُچھ تیرا مال کھیتوں میں ہے اُس کو اندر کر لے کیونکہ جِتنے آدمی اور جانور مَیدان میں ہوں گے اور گھر میں نہیں پُہنچائے جائیں گے اُن پر اَولے پڑیں گے اور وہ ہلاک ہو جائیں گے۔
20
سو فرِعونؔ کے خادِموں میں جو جو خُداوند کے کلام سے ڈرتا تھا وہ اپنے نوکروں اور چَوپایوں کو گھر میں بھگا لے آیا۔
21
اور جِنہوں نے خُداوند کے کلام کا لحاظ نہ کِیا اُنہوں نے اپنے نوکروں اور چَوپایوں کو مَیدان میں رہنے دِیا۔
22
اور خُداوند نے مُوسیٰؔ سے کہا کہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا تاکہ سب مُلکِ مِصرؔ میں اِنسان اور حَیوان اور کھیت کی سبزی پر جو مُلکِ مِصرؔ میں ہے اَولے گِریں۔
23
اور مُوسیٰؔ نے اپنی لاٹھی آسمان کی طرف اُٹھائی اور خُداوند نے رَعد اور اَولے بھیجے اور آگ زمِین تک آنے لگی اور خُداوند نے مُلکِ مِصرؔ پر اَولے برسائے۔
24
پس اَولے گِرے اور اَولوں کے ساتھ آگ مِلی ہُوئی تھی اور وہ اَولے اَیسے بھاری تھے کہ جب سے مِصری قَوم آباد ہُوئی اَیسے اَولے مُلک میں کبھی نہیں پڑے تھے۔
25
اور اَولوں نے سارے مُلکِ مِصرؔ میں اُن کو جو مَیدان میں تھے کیا اِنسان کیا حَیوان سب کو مارا اور کھیتوں کی ساری سبزی کو بھی اَولے مار گئے اور مَیدان کے سب درختوں کو توڑ ڈالا۔
26
مگر جشن کے علاقہ میں جہاں بنی اِسرائیل رہتے تھے اَولے نہیں گِرے۔
27
تب فرِعونؔ نے مُوسیٰؔ اور ہارُونؔ کو بُلوا کر اُن سے کہا کہ مَیں نے اِس دفعہ گُناہ کِیا۔ خُداوند صادِق ہے اور مَیں اور میری قَوم ہم دونوں بدکار ہیں۔
28
خُداوند سے شِفاعت کرو کیونکہ یہ زور کا گرجنا اور اَولوں کا برسنا بُہت ہو چُکا اور مَیں تُم کو جانے دُوں گا اور تُم اب رُکے نہیں رہو گے۔
29
تب مُوسیٰؔ نے اُسے کہا کہ مَیں شہر سے باہر نِکلتے ہی خُداوند کے آگے ہاتھ پَھیلاؤُں گا اور رَعد مَوقُوف ہو جائے گا اور اَولے بھی پِھر نہ پڑیں گے تاکہ تُو جان لے کہ دُنیا خُداوند ہی کی ہے۔
30
لیکن مَیں جانتا ہُوں کہ تُو اور تیرے نوکر اب بھی خُداوند خُدا سے نہیں ڈرو گے۔
31
پس سَن اور جَو کو تو اَولے مار گئے کیونکہ جَو کی بالیں نِکل چُکی تھیں اور سَن میں پُھول لگے ہُوئے تھے۔
32
پر گیہُوں اور کٹھیا گیہُوں مارے نہ گئے کیونکہ وہ بڑھے نہ تھے۔
33
اور مُوسیٰؔ نے فرِعونؔ کے پاس سے شہر کے باہر جا کر خُداوند کے آگے ہاتھ پَھیلائے۔ سو رَعد اور اَولے مَوقُوف ہو گئے اور زمِین پر بارِش تھم گئی۔
34
جب فرِعونؔ نے دیکھا کہ مینہہ اور اَولے اور رَعد مَوقُوف ہو گئے تو اُس نے اور اُس کے خادِموں نے اور زِیادہ گُناہ کِیا کہ اپنا دِل سخت کر لِیا۔
35
اور فرِعونؔ کا دِل سخت ہو گیا اور اُس نے بنی اِسرائیل کو جَیسا خُداوند نے مُوسیٰؔ کی معرفت کہہ دِیا تھا جانے نہ دِیا۔
← Chapter 8
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 10 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40