bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu ERV 2007 (Has Missing Verses, Cant be found on Bible.com)
/
Matthew 17
Matthew 17
Urdu ERV 2007 (Has Missing Verses, Cant be found on Bible.com)
← Chapter 16
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 18 →
1
چھ دن کے بعد یسوع ، پطرس ، یعقوب اور اسکے بھا ئی یوحنا کو ساتھ لیکر ایک اونچے پہاڑ پر چلے گئے ۔ جہاں انکے سوا کو ئی دوسرا نہ تھا ۔
2
ان شاگردوں کی نظروں کے سامنے ہی وہ مختلف شکلیں بدلنے لگا ۔ انکا چہرہ سورج کی طرح روشن ہوا ۔ اور اسکی پوشاک نور کی مانند سفید ہو گئی ۔
3
اس کے علا وہ انہوں نے دیکھا کہ اسکے ساتھ دو آدمی باتیں کرے ہو ئے کھڑے تھے ۔ وہی موسٰی اور ایلیاہ تھے ۔
4
پطرس نے یسوع سے کہا، “ اے ہمارے خداوند ! یہ اچھا ہے کہ ہم یہاں ہیں تم چاہو تو تمہارے لئے تین خیمے نصب کروں گا ۔ ایک تمہارے لئے ایک موسٰی کے لئے اور ایک ایلیاہ کے لئے ۔”
5
پطرس ابھی باتیں کر ہی رہا تھا کہ ایک تابناک بادل انکے اوپر سایہ فگن ہو گیا ,اور اس بادل میں سے ایک آواز سنائی دی، “ یہی میرا چہیتا بیٹا ہے ۔ میں اس سے بہت خوش ہوں اور اسکے فرماں بردار بنو۔”
6
یسوع کے ساتھ موجود شاگرد وں کو یہ آواز سنائی دی ۔ وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہو کر منھ کے بل زمین پر گر گئے ۔
7
تب یسوع شاگردوں کے پاس آکر انکو چھوا اور کہا ،” گھبراؤ مت اٹھو ۔ “
8
جب وہ اپنی آنکھیں کھول کر دیکھے تو وہاں پر یسوع کے سوا کوئی اور نہیں تھا ۔
9
جب وہ پہاڑ سے نیچے اتر رہے تھے تو یسوع نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا، “ جب تک ابن آدم مرکر دوبارہ جی نہ اٹھے اس وقت تک تم پہاڑ پر جن مناطر کو دیکھا ہے وہ کسی سے نہ کہنا ۔ “
10
شاگردوں نے یسوع سے پو چھا ،” مسیح کے آنے سے پہلے ایلیاہ کو آنا چاہئے ایسی بات معلّمین شریعت کیوں کہتے ہیں ؟”
11
اس پر یسوع نے جواب دیا، “ جو ایلیاہ کے آ نے کی بات کہتے ہیں صحیح ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ آئیگا اور تمام مسائل کو حل کریگا ۔
12
لیکن میں تم سے کہتا ہوں ایلیاہ تو آچکا ہے ۔ لیکن لوگ اسے جان نہ سکے کہ وہ کون ہے ؟اور لوگوں نے جیسا چاہا اس کے ساتھ کیا اسی طرح ابن آدم بھی انکے ہاتھوں تکلیف اٹھا ئیگا۔ “
13
تب شاگرد سمجھ گئے کہ اس نے ان سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا ہے ۔ (مرقس ۹:۱۴-۲۹؛ لوقا ۹:۳۷-۴۳)
14
یسوع اور اسکے شاگرد لوگوں کے پاس لوٹ کر واپس آئے ۔ ایک آدمی یسوع کے پاس آیا اور گھٹنے ٹیک کر کہا ، “
15
اے خدا وند ! میرے بیٹے پر رحم کر کیوں کہ وہ مرگی کی بیماری سے بہت تکلیف میں ہے ۔ وہ کبھی آ گ میں اور کبھی پا نی میں گر جاتا ہے ۔
16
میں اپنے بیٹے کو تیرے شاگردوں کے پاس لا یا ۔ لیکن ان میں سے کو ئی بھی اسکو شفاء نہ دے سکے ۔”
17
یسوع نے ان سے کہا، “ اے کم ایمان اور کج رو نسل مزید کتنا عرصہ مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہوگا ؟ اور کتنی مدّت تک میں تمہیں برداشت کروں ؟ اس بچّے کو یہاں لاؤ۔”
18
یسوع نے بچّے میں پائی جانے والی بد روح کو ڈانٹ دیا تو وہ اس سے دور ہو گئی ۔ اور اسی لمحہ لڑکا شفا یاب ہوا۔
19
تب شاگرد یسوع کے پاس آکر کہنے لگے کہ، “ ہم ہزار کو شش کے باوجود اس بد روح کو لڑ کے سے دور کیوں نہیں کر سکے ؟
20
تب یسوع نے انکو جواب دیا، “ تمہارا کم ایمان ہی اصل وجہ ہے ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو تا اور تم اس پہاڑکو کہتے کہ تو اپنی جگہ سے ہل جا تو وہ ضرور ہل جاتا ۔ اور تمہارے لئے کو ئی کام نا ممکن نہ ہوتا ۔” 21 (مرقس ۹:۳۰-۳۲؛ لوقا ۹:۴۳-۴۵)
21
[*]
22
ایک مرتبہ گلیل میں سب شاگرد یکجا ہو ئے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “ ابن آدم کو لوگوں کے حوالے کیا جائیگا ۔
23
آدمی ابن آدم کو قتل کر دیں گے ۔ لیکن وہ مرنے کے تیسرے دن پھر دوبارہ زندہ ہو کر آئیگا ۔ “
24
یسوع اور اسکے شاگرد کفر نحوم میں آئے ۔ چند یہودی پطرس کے پاس آئے وہ کلیسا کے محصول وصول کنندہ تھے ۔ انہوں نے پوچھا، “ کیا تمہارا آقا کلیسا کے لئے محصول نہیں ادا کریگا ۔”
25
پطرس نے جواب دیا، “ ہاں وہ ادا کریگا ۔” تب پطرس گھر میں گیا جہاں یسوع مقیم تھے ۔ وہ اس بات کو بتانے سے پہلے ہی یسوع نے اس سے کہا، “ اس دنیا کے بادشاہ لوگوں سے مختلف قسم کے محصول وصول کرتے ہیں ۔ لیکن محصول ادا کرنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ کیا بادشاہ کے بچے ہونگے یا دوسرے لوگ؟ تم کیا سمجھتے ہو شمعون ؟۔”
26
پطرس نے جواب دیا، “ صرف دوسرے ہی لوگ لگان کو ادا کریں گے” یسوع نے پطرس سے کہا، “ اگر ایسی ہی بات ہے تو بادشاہ کے بچّوں کو لگان دینے کی ضرورت نہیں ۔
27
[*]
← Chapter 16
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 18 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28