bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu ERV 2007 (Has Missing Verses, Cant be found on Bible.com)
/
Matthew 28
Matthew 28
Urdu ERV 2007 (Has Missing Verses, Cant be found on Bible.com)
← Chapter 27
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
1
سبت کادن گزر گیا۔ یہ ہفتے کے پہلے دن کا سویرا تھا ۔مریم مگدلینی اور ایک دوسری عورت مریم قبر کو دیکھنے کے لئے آئیں ۔
2
تب خوفناک زلزلہ آیا ۔ خداوند کا ایک فرشتہ آسمان سے اتر کر آیا ۔ وہ فرشتہ قبر کے قریب جا کر منھ سے پتھّر کی اس چٹان کو لڑھکایا اور اس چٹان پر بیٹھ گیا ۔
3
وہ فرشتہ بجلی کی چمک کی طرح تابناک تھا ۔ اور اسکی پو شاک برف کی طرح سفید اور صاف و شفاف تھی ۔
4
قبر کی نگرانی پر متعین سپاہیوں نے جب فرشتہ کو دیکھا تو بہت خوفزدہ ہو ئے اور ڈر کے مارے کانپتے ہو ئے مر دے کی طرح ہو گئے۔
5
فرشتہ نے ان خواتین سے کہا، “ تم گھبراؤ مت کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ تم مصلوب یسوع کو تلاش کر رہے ہو ۔
6
اب یسوع تو یہاں نہیں ہے ۔ اسلئے کہ وہ اپنے کہنے کے مطابق دوبارہ جی اٹھا ہے ۔ آؤ اور جہاں اسکی لاش رکھی ہوئی تھی اس جگہ کو دیکھو ۔
7
جلدی کرو اور اسکے شاگردوں سے جا کر کہو ان سے کہو کہ یسوع دوبارہ جی اٹھا ہے ۔ اور وہ گلیل کو جا رہا ہے ۔ تم سے پہلے ہی وہ وہاں رہے گا ۔ تم اسکو وہاں دیکھو گے ۔” پھر سے فرشتے نے کہا، “تمہیں جو خبر سنانا چاہتا ہوں وہ یہی ہے بھولنا نہیں ۔”
8
فوراً وہ عورتیں کچھ خوف کے ساتھ اور قدرے خوشی و مسرت کے ساتھ قبر کی جگہ سے چلی گئیں ۔ پیش آئے ہو ئے واقعات کو شاگردوں سے سنانے کے لئے وہ دوڑی جا رہی تھیں ۔
9
یسوع فوراً انکے سامنے آگیا اور کہنے لگا” تمہیں مبارک ہو ۔” تب وہ عورتیں یسوع سے قریب ہو ئیں اور اسکے پیروں پر گر کر اسکی عبادت کی ۔
10
یسوع نے ان عورتوں سے کہا، “ تم گھبراؤ مت میرے بھائیوں کے پاس جاؤ اور انکو گلیل میں آنے کے لئے کہدو اسلئے کہ وہ وہاں پر میرا دیدار کریں گے”
11
وہ عورتیں شاگردوں کو با خبر کرنے کے لئے چلی گئیں ۔ اور ادھر قبر پر نگرانی کر نے والے چند سپا ہی شہر میں جاکر پیش آئے ہوئے سارے حالات سردار کاہنوں کو سنائے ۔
12
تب کاہنوں کے رہنما نے بڑے اور معزز یہودیوں سے ملاقات کر کے گفتگوں کر نے لگے اور ان سے جھوٹ کہلوانے کے لئے ایک بڑی رقم بطور رشوت دینے کی بھی تدبیر سوچنے لگے ۔
13
انہوں نے سپاہیوں سے کہنا شروع کیا او ر کہا، “ لوگوں سے یہ کہو کہ رات کے وقت جب ہم نیند میں تھے تو یسوع کے شاگرد آئے اور اسکی لاش کو چرا لے گئے ۔
14
اور کہا کہ اگر حاکم کو یہ بات معلوم بھی ہو جائے تو ہم اسکو مطمئن کر دیں گے اور تم کو کسی قسم کی مصیبت نہ پہنچے اسکا انتظام کریں گے ۔ “
15
سپاہی رقم لے لئے اور انکے کہنے کے مطابق کر گزرے ۔ یہ قصّہ آج بھی یہودیوں میں عام ہے ۔ (مرقس ۱۶:۱۴-۱۸؛ لوقا ۲۴:۳۶-۴۹؛ یوحنا۲۰:۱۹-۲۳؛ اعمال۱:۶-۸)
16
وہ گیارہ شاگرد گلیل جاکر اس پہاڑ پر گئے جہاں یسوع نے انہیں جانے کے لئے کہا تھا ۔
17
پہاڑ پر شاگردوں نے یسوع کو دیکھا ۔ انہوں نے اسکی عبادت کی ۔ لیکن ان میں سے بعص شاگرد نے حقیقی یسوع کے ہو نے کو تسلیم نہ کیا ۔
18
اس لئے یسوع ان کے پاس آئے اور کہنے لگے، “ آسمان کا اور اس زمین کا سارا اختیار مجھے دیا گیا ہے ۔
19
اس وجہ سے تم جاؤ اور اس دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کو میرے شاگرد بناؤ ۔ باپ کے بیٹے کے اور مقدس روح کے نام پر ان سب کو بپتسمہ دو ۔
20
میں تم کو جن تمام باتوں کے کر نے کا حکم دیا ہوں اس کے مطابق لوگوں کو فرمانبرداری کر نے کی تعلیم دو۔ اور کہا ،میں رہتی دنیا تک تمہارے ساتھ ہی رہونگا۔”
← Chapter 27
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28