bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
1 Samuel 21
1 Samuel 21
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 20
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 22 →
1
اَور داویؔد نوبؔ میں احِیملکؔ کاہِنؔ کے پاس آئے اَور جَب احِیملکؔ داویؔد سے مِلے تو وہ کانپ اُٹھے اَور اُنہُوں نے پُوچھا، ”آپ اکیلے کیوں؟ آپ کے ساتھ کویٔی اَور کیوں نہیں؟“
2
داویؔد نے احِیملکؔ کاہِنؔ کو جَواب دیا، ”بادشاہ نے ایک خاص کام میرے سُپرد کیا ہے اَور مُجھ سے کہا ہے، ’آپ کے خاص مقصد اَور آپ کی ہدایات کے متعلّق کسی کو کویٔی علم نہ ہو۔‘ میرے آدمیوں کی بات تو مَیں نے اُنہیں بتا دی ہے کہ وہ مُجھے ایک مقام پر ملیں۔
3
اِس وقت آپ کے پاس کیا دستیاب ہے؟ مُجھے پانچ چپاتیاں یا جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے دے دیں۔“
4
لیکن اُس کاہِنؔ نے داویؔد کو جَواب دیا، ”میرے پاس عام روٹیاں نہیں ہیں۔ البتّہ کچھ مُقدّس روٹیاں مَوجُود ہیں، آدمی اُنہیں کھا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ عورتوں سے الگ رہے ہُوں۔“
5
داویؔد نے کاہِنؔ کو جَواب دیا، ”درحقیقت چند روز سے عورتیں ہم سے الگ رہی ہیں۔ چاہے سفر مَعمولی ہی کیوں نہ ہو، جَب کبھی میں روانہ ہوتا ہُوں میرے آدمیوں کے بَدن پاک ہوتے ہیں۔ اَور آج تو وہ مُقدّس کھانے کے لیٔے ضروُر ہی پاک ہوں گے۔“
6
لہٰذا اُس کاہِنؔ نے اُسے نذر کی روٹی دے دی کیونکہ اَور روٹی وہاں نہیں تھی فقط نذر کی روٹی تھی جو یَاہوِہ کے آگے سے اُٹھائی گئی تھی اَور اُس دِن جَب وہ اُٹھائی گئی تو اُس کے عوض گرم روٹی رکھی گئی تھی۔
7
اَور اُس دِن شاؤل کے خادِموں میں سے ایک وہاں یَاہوِہ کے حُضُور میں رُکا ہُوا تھا۔ وہ دوئیگؔ اِدُومی تھا جو شاؤل کے چرواہوں کا سردار تھا۔
8
اَور داویؔد نے احِیملکؔ سے پُوچھا، ”کیا آپ کے پاس یہاں کویٔی بھالا یا تلوار نہیں ہے؟ میں اَپنے ساتھ تلوار یا کویٔی دُوسرا ہتھیار نہیں لا سَکا کیونکہ بادشاہ کا کام فَوری تعمیل طلب تھا۔“
9
اُس کاہِنؔ نے جَواب دیا، ”فلسطینی گولیتؔ کی تلوار جسے تُونے اَیلہ کی وادی میں قتل کیا تھا کپڑے میں لپٹی ہُوئی افُود کے پیچھے رکھی ہے اگر تُم اُسے لینا چاہتاہے تو لے لو۔ اِس ایک کے سِوا یہاں اَور کویٔی تلوار نہیں ہے۔“ داویؔد نے کہا، ”میرے لیٔے اُس جَیسی تلوار کویٔی ہے ہی نہیں۔ وُہی مُجھے دے دیں۔“
10
اُسی دِن داویؔد شاؤل کے ڈر سے بھاگ کر گاتؔھ کے بادشاہ اکِیشؔ کے پاس چلا گیا۔
11
لیکن اکِیشؔ کے خادِموں نے اُس سے کہا، ”کیا یہ مُلک کا بادشاہ داویؔد نہیں؟ کیا یہ وُہی نہیں جِس کے متعلّق وہ رقص کرتے ہُوئے گاتے ہیں: ” ’شاؤل نے تو ہزاروں کو مارا ہے پر داویؔد نے دس ہزار کو مارا ہے‘؟“
12
داویؔد یہ الفاظ سُن کر پریشان ہو گیا اَور اُس کے دِل میں اکِیشؔ شاہِ گاتؔھ کی طرف سے خوف بیٹھ گیا۔
13
لہٰذا اُس نے اُن کی مَوجُودگی میں پاگل پن کا ڈھونگ رچایا اَور جَب وہ اُن کے ہاتھوں میں تھا تو اُس نے دیوانوں کی سِی حرکتیں شروع کر دیں۔ مثلاً وہ پھاٹک کے کواڑوں کو نوچنے لگا اَور تھُوک سے اَپنی داڑھی کو تر کر لیا۔
14
تَب اکِیشؔ نے اَپنے خادِموں سے کہا، ”اِس آدمی کی طرف دیکھو! یہ تو پاگل ہے! اِسے میرے پاس کیوں لایٔے ہو؟
15
کیا میرے پاس پاگلوں کی کمی ہے جو تُم اِس شخص کو یہاں لے آئے ہو کہ میرے سامنے اَیسی حرکتیں کرے؟ کیا یہ آدمی میرے گھر میں قدم رکھنے کے لائق تھا؟“
← Chapter 20
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 22 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
Recommended Reading
Commentary
1 Samuel Commentaries
→
Devotional
1 Samuel Devotional Guide
→
Get This Bible
UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ) Study Bible
→