bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
1 Samuel 29
1 Samuel 29
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 28
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 30 →
1
اَور فلسطینیوں نے اَپنی تمام فَوجوں کو افیقؔ میں جمع کیا اَور اِسرائیلیوں نے یزرعیلؔ میں چشمہ کے پاس ڈالی۔
2
جَب فلسطینی سردار سپاہیوں کے سَو کے اَور ہزار کے دستے بنا کر کُوچ کرنے لگے تو داویؔد اَور اُس کے آدمی بھی اُن کے عقب میں اکِیشؔ کے پیچھے پیچھے ہو لئے۔
3
تَب فلسطینی سرداروں نے پُوچھا، ”اِن عِبرانیوں کا یہاں کیا کام ہے؟“ اکِیشؔ نے جَواب دیا، ”کیا یہ داویؔد نہیں جو شاہِ اِسرائیل شاؤل کا مُلازم تھا؟ وہ ایک سال سے زائد عرصہ سے میرے ساتھ ہے اَور جِس دِن سے اُس نے شاؤل کو چھوڑا آج تک مَیں نے اُس میں کویٔی بُرائی نہیں پائی۔“
4
لیکن فلسطینی سردار اُس سے ناراض تھے اَور کہنے لگے، ”اُس آدمی کو واپس بھیج دو تاکہ، وہ اُس جگہ لَوٹ جائے جو اُس کے لیٔے مُقرّر کی گئی ہے۔ وہ جنگ میں ہمارے ساتھ ہرگز نہ جائے۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ ہمارے ہی خِلاف جنگ کرنے لگے۔ اُس کے لیٔے اَپنے آقا کی خُوشنودی دوبارہ حاصل کرنے کے لیٔے ہمارے آدمیوں کے سَروں کو کاٹ دینے سے بہتر کیا ہو سَکتا ہے؟
5
کیا یہ داویؔد وُہی نہیں ہے جِس کے متعلّق اُنہُوں نے ناچتے ہُوئے گا گا کر کہاتھا: ” ’شاؤل نے تو ہزاروں کو قتل کیا ہے، لیکن داویؔد نے دس ہزاروں کو مارا ہے‘؟“
6
لہٰذا اکِیشؔ نے داویؔد کو بُلاکر کہا، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم تُم حق پرست آدمی ہو اَور تُمہیں اَپنی فَوج میں آتا جاتا دیکھ کر مُجھے بڑی خُوشی ہوتی ہے اَور جِس دِن سے تُم آئے ہو تَب سے آج تک مَیں نے تُم میں کویٔی بدی نہیں پائی۔ لیکن میرے سردار تُمہیں پسند نہیں کرتے۔
7
لہٰذا لَوٹ کر سلامت چلے جاؤ اَور کویٔی اَیسا قدم نہ اُٹھنا کہ فلسطینی سرداروں کو ناراض ہونے کا موقع ملے۔“
8
داویؔد نے اکِیشؔ سے پُوچھا، ”مَیں نے کیا کیا ہے؟ جِس دِن سے مَیں آپ کے پاس آیا ہُوں تَب سے آج تک آپ نے اَپنے خادِم کے خِلاف کون سِی بات پائی ہے کہ میں اَپنے آقا بادشاہ کے دُشمنوں کے خِلاف جا کر لڑ نہیں سَکتا؟“
9
اکِیشؔ نے داویؔد کو جَواب دیا، ”میں جانتا ہوں کہ تُم میری نظروں میں اِتنا ہی نیک ہو جِتنا خُدا کا فرشتہ؛ تاہم فلسطینی سرداروں نے کہا ہے، ’وہ جنگ میں ہمارے ساتھ ہرگز نہ جائے۔‘
10
لہٰذا اَب تُم صُبح سویرے رَوشنی ہوتے ہی اَپنے آقا کے خادِموں کے ہمراہ جو تمہارے ساتھ آئے ہیں روانہ ہو جانا۔“
11
لہٰذا داویؔد اَور اُس کے آدمی صُبح سویرے اُٹھ بیٹھے تاکہ فلسطینیوں کے مُلک کو لَوٹ جایٔیں اَور فلسطینی یزرعیلؔ کو لَوٹ گیٔے۔
← Chapter 28
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 30 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
Recommended Reading
Commentary
1 Samuel Commentaries
→
Devotional
1 Samuel Devotional Guide
→
Get This Bible
UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ) Study Bible
→