bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
1 Samuel 9
1 Samuel 9
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 8
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 10 →
1
وہاں بِنیامین کے قبیلہ سے ایک آدمی تھا جِس کا نام قیشؔ بِن اَبی ایل بِن ضرورؔ بِن بکورتؔ بِن اپیحؔ بِنیامین تھا۔ وہ ایک صاحبِ حیثیت بھی تھا۔
2
اُس کا شاؤل نامی ایک بیٹا تھا جو جَوان اَور خُوبصورت تھا اَور جِس کا بنی اِسرائیل میں کویٔی ثانی نہ تھا۔ وہ اِتنا قدآور تھا کہ دیگر لوگوں میں سے ہر کویٔی اُس کے کندھے تک آتا تھا۔
3
شاؤل کے باپ قیشؔ کے گدھے کھو گیٔے۔ اِس لئے قیشؔ نے اَپنے بیٹے شاؤل سے کہا، ”ایک خدمت گار کو ساتھ لے کر جاؤ اَور گدھوں کو ڈھونڈو۔“
4
لہٰذا وہ اِفرائیمؔ کے پہاڑی علاقہ اَور شلِیشہؔ کے اِردگرد کے خِطّہ میں اُنہیں ڈھونڈتے پھرے لیکن وہ کہیں نہ ملے۔ تَب وہ اَور آگے شعلیِمؔ کے علاقہ میں گیٔے لیکن گدھے وہاں بھی نہ تھے۔ تَب وہ بِنیامین کے علاقہ میں داخل ہوکر گھُومے پھرے لیکن اُنہیں وہاں بھی نہ پایا۔
5
اَور جَب وہ صُوفؔ کے ضلع میں پہُنچے تو شاؤل اَپنے خدمت گار سے جو اُن کے ساتھ تھا کہنے لگے، ”آؤ، واپس چلیں ورنہ میرے باپ گدھوں کی فکر چھوڑکر ہماری فکر میں مُبتلا ہو جائیں گے۔“
6
لیکن خدمت گار نے جَواب دیا، ”دیکھ! اِس قصبہ میں ایک مَرد خُدا ہیں جِن کا بڑا اِحترام کیا جاتا ہے اَورجو کچھ وہ کہتے ہیں وہ ضروُر پُورا ہوتاہے۔ آؤ، اَب وہاں چلیں۔ شاید وہ ہمیں بتا سکیں کہ ہم کس طرف جایٔیں۔“
7
شاؤل نے اَپنے خدمت گار سے کہا، ”اگر ہم جایٔیں بھی تو اُس آدمی کو کیا دے سکیں گے؟ وہ کھانا جو ہمارے توشہ دان میں تھا ختم ہو چُکاہے۔ ہمارے پاس اُس مَرد خُدا کو پیش کرنے کے لیٔے کویٔی تحفہ نہیں۔ ہمارے پاس ہے کیا؟“
8
اُس خادِم نے شاؤل کو جَواب میں کہا، ”دیکھو! میرے پاس پاؤ بھر ثاقل چاندی ہے جسے میں اُس مَرد خُدا کو دے دُوں گا تاکہ وہ ہمیں بتائیں کہ ہم کس طرف جایٔیں۔“
9
(پچھلے زمانہ میں اِسرائیل میں دستور تھا کہ جَب بھی کویٔی خُدا سے کچھ پُوچھنے جاتا تو وہ کہتا تھا، ”آؤ، کسی غیب بین کے پاس چلیں،“ کیونکہ جسے آج کل نبی کہتے ہیں پہلے وہ غیب بین کہلاتا تھا)۔
10
تَب شاؤل نے اَپنے خدمت گار سے کہا، ”ٹھیک ہے۔ آؤ، چلیں۔“ لہٰذا وہ اُس قصبہ کی طرف جہاں وہ مَرد خُدا تھا روانہ ہو گئے۔
11
اَور جَب وہ اُس قصبہ کی طرف پہاڑی پر چڑھ رہے تھے تو اُنہُوں نے دیکھا کہ قصبہ کی کچھ لڑکیاں باہر پانی بھرنے آ رہی ہیں۔ وہ اُن کے پاس جا کر پُوچھنے لگے، ”کیا وہ غیب بین یہاں ہیں؟“
12
اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہاں، وہ یہیں ہیں۔ دیکھو، وہ تمہارے سامنے ہی ہیں۔ جلدی کرو، وہ آج ہی ہمارے قصبہ میں آئے ہیں کیونکہ آج اُونچے مقام پر لوگوں کی طرف سے قُربانی چڑھائی جاتی ہے۔
13
اَور جوں ہی تُم قصبے میں داخل ہو تو اُس سے پہلے کہ وہ اُونچے مقام پر کھانا کھانے کے لیٔے جائیں تُم اُن سے مِل سکوگے۔ لوگ اُن کے آنے تک کھانا نہیں کھایٔیں گے کیونکہ اُن کا قُربانی کو برکت دینا ضروُری ہے۔ اُس کے بعد بُلائے ہُوئے مہمان کھایٔیں گے۔ اَب جاؤ، یہی وقت ہے کہ تُم اُن سے مِل سکوگے۔“
14
وہ اُس قصبہ کی طرف بڑھے اَور جَب وہ اُس میں داخل ہو رہے تھے تو شموایلؔ اُس اُونچے مقام کو جانے کے لیٔے اُن کی طرف آ رہے تھے۔
15
اَور شاؤل کے آنے سے ایک دِن پیشتر ہی یَاہوِہ نے شموایلؔ کو آگاہ کر دیا تھا:
16
”کل تقریباً اِسی وقت مَیں بِنیامین کی سرزمین سے ایک آدمی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔ اُسے میری قوم اِسرائیل پر حُکمرانی کرنے کے لیٔے مَسح کرنا۔ وہ میرے لوگوں کو فلسطینیوں کے ہاتھ سے چھُڑائے گا۔ مَیں نے اَپنے لوگوں پر نظر کی ہے کیونکہ اُن کی فریاد مُجھ تک پہُنچی ہے۔“
17
لہٰذا جَب شموایلؔ نے شاؤل کو دیکھا تو یَاہوِہ نے شموایلؔ سے کہا، ”یہی وہ آدمی ہے جِس کی بابت مَیں نے تُمہیں بتایا تھا۔ یہی میرے لوگوں پر حُکومت کرےگا۔“
18
اَور شاؤل نے پھاٹک پر شموایلؔ کے پاس جا کر پُوچھا، ”کیا آپ مہربانی کرکے مُجھے بتائیں گے کہ غیب بین کا گھر کہاں ہے؟“
19
شموایلؔ نے شاؤل جَواب دیا، ”مَیں ہی وہ غیب بین ہُوں۔ میرے آگے آگے اُونچے مقام کو چلو کیونکہ آج تُم میرے ساتھ کھانا کھاؤگے اَور صُبح کو مَیں تُمہیں رخصت کروں گا اَورجو کچھ تمہارے دِل میں ہے سَب تُمہیں بتا دُوں گا۔
20
اَور تمہارے گدھے جِن کو کھویٔے ہُوئے تین دِن ہو گئے ہیں اُن کی بابت فکر نہ کرو کیونکہ وہ مِل گیٔے ہیں۔ اَور اگر بنی اِسرائیل کو تمہاری اَور تمہارے آبائی گھرانے کی تمنّا نہیں تو پھر کس کی تمنّا ہے؟“
21
شاؤل نے جَواب دیا، ”کیا میں ایک بِنیامینی یعنی اِسرائیل کے سَب سے چُھوٹے قبیلہ سے نہیں ہُوں؟ اَور کیا میرا خاندان بِنیامین کے قبیلہ کے کل خاندانوں میں سَب سے چھوٹا نہیں؟ پھر آپ مُجھ سے اَیسی بات کیوں کہتے ہو؟“
22
تَب شموایلؔ نے شاؤل اَور اُن کے خدمت گار کو مہمان خانہ میں لاکر سَب مہمانوں سے آگے جو کویٔی تیس آدمی تھے ایک مخصُوص جگہ بِٹھایا۔
23
اَور شموایلؔ نے باورچی سے کہا، ”گوشت کا وہ ٹکڑا لاؤ جو مَیں نے تُمہیں دیا تھا اَور کہاتھا کہ اُسے الگ رکھ چھوڑنا۔“
24
لہٰذا باورچی نے وہ ران اَورجو کچھ اُس پر تھا اُٹھاکر شاؤل کے سامنے رکھ دیا۔ تَب شموایلؔ نے کہا، ”یہ اُس وقت سے تمہارے ہی واسطے رکھی ہُوئی تھی، ’جَب مَیں نے مہمانوں کی ضیافت کرنے کی بات کہی تھی۔ اِسے کھاؤ!‘ “ لہٰذا اُس دِن شاؤل نے شموایلؔ کے ساتھ کھانا کھایا۔
25
اَور اُونچے مقام سے قصبہ میں آنے کے بعد شموایلؔ نے اَپنے گھر کی چھت پر شاؤل سے باتیں کیں۔
26
اگلے دِن کی صُبح کو بیدار ہوتے ہی شموایلؔ نے شاؤل کو پھر گھر کی چھت پر بُلایا اَور کہا، ”تیّار ہو جاؤ تاکہ مَیں تُمہیں رخصت کروں۔“ اَور جَب شاؤل تیّار ہو گئے تو وہ اَور شموایلؔ اِکٹھّے باہر نکلے۔
27
اَور جَب وہ قصبہ کی سرحد سے باہر نکل رہے تھے تو شموایلؔ نے شاؤل سے کہا، ”اَپنے خدمت گار کو حُکم دو کہ وہ آگے چلا جائے۔“ خدمت گار نے وَیسا ہی کیا، ”لیکن تُم ابھی یہاں ٹھہرے رہو کیونکہ مَیں تُمہیں خُدا کی طرف سے ایک پیغام دینا چاہتا ہُوں۔“
← Chapter 8
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 10 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
Recommended Reading
Commentary
1 Samuel Commentaries
→
Devotional
1 Samuel Devotional Guide
→
Get This Bible
UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ) Study Bible
→