bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
1 Samuel 28
1 Samuel 28
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 27
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 29 →
1
اُن ہی دِنوں میں اَیسا ہُوا کہ فلسطینیوں نے اِسرائیلیوں سے جنگ کے لیٔے اَپنی فَوجیں جمع کیں اَور اکِیشؔ نے داویؔد سے کہا، ”تُمہیں خُوب سمجھ لینا چاہئے کہ تُمہیں اَور تمہارے آدمیوں کو میرے لشکر کے ساتھ چلنا ہوگا۔“
2
داویؔد نے کہا، ”تَب تو تُم خُود ہی دیکھ لوگے کہ تمہارا خادِم کیا کر سَکتا ہے۔“ اکِیشؔ نے جَواب دیا، ”بہت خُوب، پھر تو میں زندگی بھرکے لیٔے تُمہیں اَپنا ذاتی مُحافظ بنا لُوں گا۔“
3
اَور شموایلؔ کی وفات ہو چُکی تھی اَور تمام اِسرائیلیوں نے اُن کا ماتم کرکے اُنہیں اُن کے اَپنے شہر رامہؔ میں دفن کر دیا تھا۔ اَور شاؤل نے اَرواح پرستوں کے آشناؤں اَور جادُوگروں کو مُلک سے نکال دیا تھا۔
4
اَور فلسطینی جمع ہوکر نکلے اَور اُنہُوں نے شُونیمؔ میں ڈالی۔ اُدھر شاؤل نے بھی تمام اِسرائیلیوں کو جمع کرکے گِلبوعہؔ میں ڈالی۔
5
اَور جَب شاؤل نے فلسطینیوں کی فَوج دیکھی تو وہ ڈر گیا اَور اُس کا دِل کانپنے لگا۔
6
شاؤل نے یَاہوِہ سے دریافت کیا مگر یَاہوِہ نے اُسے نہ تو خوابوں، نہ اُوریمؔ اَور نہ نبیوں کے وسیلہ سے کویٔی جَواب دیا۔
7
تَب شاؤل نے اَپنے خادِموں سے کہا، ”میرے لیٔے کویٔی اَیسی عورت تلاش کرو جِس کا آشنا کویٔی جنّ ہو تاکہ میں جا کر اُس سے پُوچھوں۔“ اُنہُوں نے کہا، ”عینؔ دورؔ میں ایک عورت رہتی ہے جِس کا آشنا جنّ ہے۔“
8
لہٰذا شاؤل نے دُوسرے کپڑے پہن کر اَپنا بھیس بدل لیا اَور رات کو وہ اَور دو آدمی اُس عورت کے پاس گیٔے اَور کہا، ”میری خاطِر کسی جنّ کے ساتھ رابطہ قائِم کر،“ شاؤل نے اُس عورت سے کہا، ”اَور جِس کا میں نام لُوں اُسے میری خاطِر اُوپر لے آ۔“
9
لیکن اُس عورت نے اُس سے کہا، ”تُم اَچھّی طرح جانتے ہو کہ شاؤل نے کیا کیا ہے۔ اُس نے اَرواح پرستوں کے آشناؤں اَور جادُوگروں کو مُلک میں ختم کر دیا ہے۔ تُم کیوں میری جان کے لیٔے پھندا لگا کر مُجھے مروانا چاہتے ہو؟“
10
شاؤل نے اُس سے یَاہوِہ کی قَسم کھائی، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم، اِس کے لیٔے تُمہیں کویٔی سزا نہ دی جائے گی۔“
11
اُس عورت نے پُوچھا، ”مَیں تمہاری خاطِر کسے اُوپر لاؤں؟“ اُس نے کہا، ”شموایلؔ کو بُلا دے۔“
12
جَب اُس عورت نے شموایلؔ کو دیکھا تو زور سے چِلّائی اَور شاؤل سے کہا، ”تُم نے مُجھے دھوکا کیوں دیا ہے؟ تُم شاؤل ہو نا؟“
13
بادشاہ نے شاؤل سے کہا، ”تُم ڈرو مت۔ تُم کیا دیکھتی ہو؟“ اُس عورت نے کہا، ”میں ایک معبُود جَیسا کوئی زمین میں سے اُوپر آتے دیکھ رہی ہُوں۔“
14
اُس نے پُوچھا، ”وہ کیسا دِکھائی دیتاہے؟“ اُس نے کہا، ”ایک بُوڑھا آدمی جُبّہ پہنے ہُوئے اُوپر آ رہاہے۔“ تَب شاؤل جان گیا کہ یہ شموایلؔ ہے۔ لہٰذا وہ نیچے جھُکا اَور مُنہ کے بَل زمین پر گِر کر سَجدہ کیا۔
15
شموایلؔ نے شاؤل سے کہا، ”تُم نے مُجھے اُوپر لاکر پریشان کیوں کیا ہے؟“ شاؤل نے کہا، ”میں نہایت ہی پریشان ہُوں کیونکہ فلسطینی مُجھ سے لڑ رہے ہیں اَور خُدا مُجھ سے الگ ہو گیا ہے اَور اَب وہ نبیوں کے وسیلہ اَور نہ ہی خوابوں کے وسیلہ سے مُجھے جَواب دیتاہے۔ اِس لیٔے مَیں نے آپ سے مُلاقات کی کہ آپ مُجھے بتائیں کہ میں کیا کروں۔“
16
شموایلؔ نے کہا، ”اَب جَب کہ یَاہوِہ تُجھ سے الگ ہو گیا ہے اَور تیرا دُشمن بَن گیا ہے تو مُجھ سے کیوں پُوچھتا ہے؟
17
یَاہوِہ نے وُہی کیا ہے جِس کی اُنہُوں نے میری مَعرفت پیشین گوئی کی تھی۔ یَاہوِہ نے بادشاہی تیرے ہاتھوں سے چھین لی ہے اَور تیرے پڑوسی داویؔد کو دے دی ہے۔
18
کیونکہ تُم نے یَاہوِہ کی بات نہ مانی اَور عمالیقیوں سے اُن کے قہر شدید کے مُوافق پیش نہیں آیا۔ اِسی سبب سے یَاہوِہ نے آج کے دِن تُجھ سے یہ برتاؤ کیا۔
19
اَور یَاہوِہ تُجھے اَور اِسرائیل دونوں کو فلسطینیوں کے حوالہ کر دے گا اَور کل تُو اَور تیرے بیٹے میرے ساتھ ہوں گے۔ یَاہوِہ اِسرائیل کے لشکر کو بھی فلسطینیوں کے حوالہ کر دیں گے۔“
20
تَب شاؤل شموایلؔ کی باتوں کے باعث خوفزدہ ہوکر فوراً زمین پر لمبا ہوکر گرا اَور اُس کی قُوّت جاتی رہی کیونکہ اُس نے اُس سارے دِن اَور ساری رات کچھ نہیں کھایا تھا۔
21
وہ عورت شاؤل کے پاس آئی اَور اُس نے دیکھا کہ وہ بڑا پریشان ہے تو اُس نے کہا، ”دیکھیں، آپ کی لونڈی نے آپ کا حُکم مانا اَور اَپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وُہی کیا جو آپ نے مجھ سے کرنے کے لیٔے کہا۔
22
اَب براہِ مہربانی اَپنی لونڈی کی بات سُنیں اَور اِجازت فرمائیں کہ مَیں آپ کے لیٔے کچھ کھانا لاؤں تاکہ آپ کھائیں اَور اَپنی راہ جانے کے لیٔے طاقت پائیں۔“
23
اُس نے اِنکار کیا اَور کہا، ”میں نہیں کھاؤں گا۔“ لیکن جَب اُس کے آدمی بھی اُس عورت کے ساتھ مِل کر بضِد ہُوئے تو اُس نے اُن کی بات مان لی اَور زمین سے اُٹھ کر پلنگ پر بیٹھ گیا۔
24
اُس عورت کے پاس گھر میں ایک فربہ بچھڑا تھا جسے اُس نے فوراً ذبح کیا اَور پھر کچھ آٹا لے کر اُسے گوندھا اَور بے خمیری روٹیاں پکائیں
25
اَور اُنہیں شاؤل اَور اُس کے آدمیوں کے آگے رکھا اَور اُنہُوں نے کھایا اَور اُسی رات اُٹھ کر چلے گیٔے۔
← Chapter 27
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 29 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
Recommended Reading
Commentary
1 Samuel Commentaries
→
Devotional
1 Samuel Devotional Guide
→
Get This Bible
UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ) Study Bible
→