bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Genesis 19
Genesis 19
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 18
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 20 →
1
شام کے وقت وہ دونوں فرشتے سدُومؔ پہُنچے۔ لَوطؔ شہر کے پھاٹک پر بیٹھا ہُوا تھا۔ جَب اُس نے اُنہیں دیکھا تو اُن کے اِستِقبال کو اُٹھا اَور مُنہ کے بَل زمین پر جھُک کر اُنہیں سَجدہ کیا
2
اَور کہا، ”اَے میرے آقاؤ! اَپنے خادِم کے گھر تشریف لے چلئے۔ اَپنے پاؤں دھولیجیے اَور رات بسر کرکے علی الصبح اَپنی راہ لیجئے۔“ اُنہُوں نے کہا، ”نہیں، ہم چَوک میں ہی رات گزار لیں گے۔“
3
جَب اُس نے بہت ہی اِصرار کیا تو وہ اُس کے ساتھ گیٔے اَور اُس کے گھر میں داخل ہو گئے۔ اُس نے بے خمیری روٹی پکا کر اُن کے لیٔے کھانا تیّار کیا اَور اُنہُوں نے کھایا۔
4
اِس سے قبل کہ وہ لیٹتے، سدُومؔ شہر کے ہر حِصّہ کے سَب مَردوں نے کیا جَوان اَور کیا ضعیف اُس گھر کو گھیرلیا۔
5
اَور لَوطؔ کو پُکار کر کہا، ”وہ مَرد جو آج رات تمہارے پاس آئے، کہاں ہیں؟ اُنہیں ہمارے پاس باہر لے کر آ، تاکہ ہم اُن سے صحبت کریں۔“
6
لَوطؔ اُن سے مِلنے باہر نِکلا اَور اَپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا۔
7
اَور کہا، ”نہیں، میرے بھائیو! اَیسی بدی نہ کرو۔
8
دیکھو، میری دو بیٹیاں ہیں جنہیں اَب تک کسی مَرد نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اگر تُم چاہو تو مَیں اُنہیں تمہارے پاس لے آتا ہُوں، اَور تُم اُن کے ساتھ جو چاہو کر لو؛ لیکن اِن آدمیوں کے ساتھ کچھ نہ کرو کیونکہ وہ میری چھت کے سایہ میں پناہ گزیں ہیں۔“
9
اُنہُوں نے کہا، ”ہمارے راستہ سے ہٹ جاؤ!“ اَور پھر کہنے لگے، ”یہ شخص ہمارے بیچ میں پردیسی بَن کر آیا اَور اَب حاکم بننا چاہتاہے۔ ہم تمہارے ساتھ اِس سے بھی بُرا سلُوک کریں گے۔“ وہ لَوطؔ کو دھمکانے لگے اَور دروازہ توڑنے کے لیٔے آگے بڑھے۔
10
لیکن اُن مَردوں نے جو اَندر تھے اَپنے ہاتھ بڑھا کر لَوطؔ کو گھر میں کھینچ لیا اَور دروازہ بند کر دیا۔
11
تَب اُنہُوں نے سَب مَردوں کو جو گھر کے دروازہ پر کھڑے تھے کیا جَوان اَور کیا ضعیف، اَندھا کر دیا تاکہ وہ دروازہ نہ ڈھونڈ پائیں۔
12
اُن مَردوں نے لَوطؔ سے کہا، ”تمہارے ساتھ یہاں کویٔی اَور ہے، داماد، بیٹے یا بیٹیاں یا تیرا کویٔی اَورجو اِس شہر میں ہو؟ سَب کو یہاں سے نکال لے جا۔
13
کیونکہ ہم اِس مقام کو تباہ کرنے والے ہیں، اِس لیٔے کہ یَاہوِہ کے نزدیک اِس شہر کے لوگوں کے خِلاف شور بُلند ہو چُکاہے اَور اُنہُوں نے ہمیں اِسے تباہ کرنے کے لیٔے بھیجا ہے۔“
14
تَب لَوطؔ باہر نکلے اَور اَپنے دامادوں سے جِن کے ساتھ اُن کی بیٹیوں کی منگنی ہو چُکی تھی، اُنہُوں نے کہا، ”جلدی کرو، اَور اِس مقام سے نکل چلو کیونکہ یَاہوِہ اِس شہر کو تباہ کرنے کو ہے!“ لیکن لَوطؔ کے دامادوں کو یہ سَب مذاق سا محسُوس ہُوا۔
15
جَب پَو پھٹنے لگی تو فرشتوں نے لَوطؔ سے اِصرار کیا اَور کہا، ”جلدی کرو اَور اَپنی بیوی اَور اَپنی دونوں بیٹیوں کو جو یہاں ہیں، لے کر نکل جاؤ، ورنہ جَب اِس شہر پر عذاب نازل ہوگا تو تُم بھی ہلاک ہو جاؤگے۔“
16
ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کریں کہ اُن مَردوں نے اُس کا اَور اُس کی بیوی اَور اُس کی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا اَور وہ اُنہیں حِفاظت کے ساتھ شہر سے باہر لے گیٔے کیونکہ یَاہوِہ اُن پر مہربان ہویٔے تھے۔
17
جُوں ہی اُنہُوں نے اُنہیں باہر نکالا اُن میں سے ایک نے کہا، ”اَپنی جان بچا کر بھاگ جاؤ! اَور پیچھے مُڑ کر نہ دیکھنا نہ ہی میدان میں کہیں رُکنا! بَلکہ پہاڑوں پر بھاگ جاؤ ورنہ تُم تباہ ہو جاؤگے۔“
18
لیکن لَوطؔ نے اُن سے کہا، ”اَے میرے آقاؤں! اَیسا نہ کرو!
19
تُم نے اَپنے خادِم پر نظرِکرم کی ہے اَور مُجھ پر اِس قدر مہربان ہویٔے کہ میری جان بچائی۔ لیکن مَیں پہاڑوں تک بھاگ کر نہیں جا سَکتا۔ یہ آفت مُجھ کو آ لے گی اَور مَیں مَر جاؤں گا۔
20
دیکھو یہاں ایک شہر ہے، یہ اِس قدر نزدیک ہے کہ مَیں وہاں بھاگ کر جا سَکتا ہُوں اَور وہ چھوٹا بھی ہے۔ مُجھے وہاں بھاگ جانے دیجئے۔ وہ کافی چھوٹا بھی ہے۔ ہے نا؟ تَب میری جان بچ جائے گی۔“
21
اُس نے اُس سے کہا، ”بہت خُوب۔ مَیں یہ اِلتجا بھی مان لیتا ہُوں۔ مَیں اُس شہر کو، جِس کا تُو ذِکر کر رہاہے، غارت نہیں کروں گا۔
22
لیکن تُو جلد وہاں بھاگ جا کیونکہ تمہارے وہاں پہُنچ جانے تک مَیں کچھ نہیں کر سَکتا۔“ (اِسی لیٔے اُس شہر کا نام ضُعَرؔ پڑا)۔
23
لَوطؔ کے ضُعَرؔ پہُنچنے تک سُورج زمین پر طُلوع ہو چُکاتھا۔
24
تَب یَاہوِہ نے اَپنی طرف سے سدُومؔ اَور عمورہؔ پر آسمان سے جلتی ہُوئی گندھک برسائی۔
25
اِس طرح اُنہُوں نے اُن شہروں کو اَور سارے میدان کو اُن شہروں کے باشِندوں اَور زمین کی ساری نباتات سمیت غارت کر دیا۔
26
لیکن لَوطؔ کی بیوی نے پیچھے مُڑ کر دیکھا اَور وہ نمک کا سُتون بَن گئی۔
27
دُوسرے دِن صُبح سویرے اَبراہامؔ اُٹھے اَور اُس مقام کو لَوٹے جہاں وہ یَاہوِہ کے حُضُور کھڑے تھے۔
28
اَبراہامؔ نے نیچے سدُومؔ اَور عمورہؔ اَور اُس میدان کے سارے علاقہ پر نظر دَوڑائی اَور دیکھا کہ اُس سرزمین سے کسی بھٹّی کے دھوئیں جَیسا گہرا دُھواں اُٹھ رہاہے۔
29
چنانچہ جَب خُدا اُس میدان کے شہروں کو نِیست و نابُود کر چُکا تو خُدا نے اَبراہامؔ کو یاد کرکے لَوطؔ کو اُس آفت سے بچا لیا جِس سے وہ شہر جہاں لَوطؔ رہتا تھا غارت کر دئیے گیٔے تھے۔
30
لَوطؔ اَور اُن کی دو بیٹیوں نے ضُعرؔ کو خیرباد کہا اَور وہ پہاڑوں پر جا بسے کیونکہ لَوطؔ، ضُعَرؔ میں رہنے سے ڈرتے تھے۔ وہ اَور اُن کی دو بیٹیاں ایک غار میں رہنے لگے۔
31
ایک دِن بڑی بیٹی نے چُھوٹی سے کہا، ”ہمارے باپ ضعیف ہیں اَور یہاں اِردگرد کویٔی مَرد نہیں ہے جو ہمیں صاحبِ اَولاد بنا سکے جَیسا کہ ساری دُنیا کا دستور ہے۔
32
آؤ، ہم اَپنے باپ کو انگوری شِیرہ پِلائیں اَور تَب اُس سے صحبت کریں اَور اَپنے باپ کے ذریعہ اَپنی نَسل بچائے رکھیں۔“
33
چنانچہ اُسی رات اُنہُوں نے اَپنے باپ کو انگوری شِیرہ پِلایا اَور بڑی بیٹی اَندر جا کر اُس کے ساتھ لیٹ گئی لیکن لَوطؔ کو مَعلُوم نہ ہُوا کہ وہ کب لیٹی اَور کب اُٹھی۔
34
دُوسرے دِن بڑی بیٹی نے چُھوٹی سے کہا، ”گذشتہ رات میں اَپنے باپ کے ساتھ لیٹی تھی۔ چلو آج کی رات بھی ہم اُنہیں انگوری شِیرہ پِلائیں اَور تُو اَندر جا کر اُن کے ساتھ لیٹ جا تاکہ ہم اَپنے باپ کے ذریعہ اَپنی نَسل بچائے رکھیں۔“
35
چنانچہ اُس رات کو بھی اُنہُوں نے اَپنے باپ کو انگوری شِیرہ پِلایا اَور چُھوٹی بیٹی جا کر اُن کے ساتھ لیٹی اَور اَب کی بار بھی لَوطؔ کو پتا نہ چلا کہ وہ کب لیٹی اَور کب اُٹھی۔
36
لہٰذا لَوطؔ کی دونوں بیٹیاں اَپنے باپ سے حاملہ ہُوئیں۔
37
بڑی بیٹی کے ہاں بیٹا پیدا ہُوا اَور اُس نے اُس کا نام مُوآب رکھا۔ وہ مُوآبیوں کا باپ ہے جو آج تک مَوجُود ہیں۔
38
چُھوٹی بیٹی کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہُوا اَور اُس نے اُس کا نام بِن عمّی رکھا۔ وہ عمُّونیوں کا باپ ہے جو آج تک مَوجُود ہیں۔
← Chapter 18
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 20 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50