bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Genesis 32
Genesis 32
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 31
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 33 →
1
تَب یعقوب نے بھی اَپنی راہ لی اَور خُدا کے فرشتے اُن سے مِلنے آئے۔
2
جَب یعقوب نے اُنہیں دیکھا تو کہا، ”یہ خُدا کی چھاؤنی ہے!“ اَور اُس مقام کا نام محنایمؔ رکھا۔
3
تَب یعقوب نے اَپنے آگے اِدُوم کے مُلک میں جو سِعِیؔر کی سرزمین میں ہے اَپنے بھایٔی عیسَوؔ کے پاس قاصِد روانہ کئے۔
4
اُن کو ہدایات دیں: ”تُم میرے آقا عیسَوؔ سے یُوں کہنا، ’تمہارا خادِم یعقوب کہتاہے میں لابنؔ کے ہاں مُقیم تھا اَور اَب تک وہیں رہا۔
5
میرے پاس مویشی اَور گدھے، بھیڑیں اَور بکریاں، خادِم اَور خادِمائیں ہیں۔ اَب اَے میرے آقا! یہ پیغام تمہارے پاس اِس لیٔے بھیج رہا ہُوں کہ مُجھ پر تمہاری نظرِکرم ہو۔‘ “
6
جَب وہ قاصِد لَوٹ کر یعقوب کے پاس آئے تو کہنے لگے، ”ہم آپ کے بھایٔی عیسَوؔ کے پاس گیٔے تھے اَور اَب وہ آپ سے مِلنے آ رہے ہیں اَور چار سَو آدمی اُن کے ساتھ ہیں۔“
7
تَب یعقوب نہایت خوفزدہ اَور پریشان ہویٔے۔ اُنہُوں نے اَپنے ساتھ کے لوگوں، بھیڑ بکریوں، مویشیوں، گلّوں اَور اُونٹوں کو دو غولوں میں تقسیم کیا۔
8
اَور یہ سوچا، ”کہ اگر عیسَوؔ آکر ایک غول پر حملہ کرےگا تو دُوسرا غول تو عیسَوؔ کے ہاتھ سے بچ نکلے گا۔“
9
تَب یعقوب نے دعا کی، ”اَے یَاہوِہ، میرے باپ اَبراہامؔ کے خُدا اَور میرے باپ اِصحاقؔ کے خُدا، آپ نے مُجھ سے کہا، ’اَپنے مُلک اَور اَپنے رشتہ داروں میں واپس چلا جاؤں اَور مَیں تُمہیں برومند کروں گا،‘
10
آپ نے اَپنے خادِم کے ساتھ جو مہربانی اَور وفاداری جتائی میں اُس کے لائق نہیں۔ جَب مَیں نے اِس یردنؔ کو عبور کیا تھا تَب میرے پاس صِرف میرا عصا تھا اَور اَب مَیں دو خیموں میں بٹ چُکا ہُوں۔
11
میری یہ اِلتجا ہے کہ مُجھے اَپنے بھایٔی عیسَوؔ کے ہاتھ سے بچا لیجئے کیونکہ مُجھے خوف ہے کہ وہ آکر مُجھے اَور اِن ماؤں کو اُن کے بچّوں سمیت مار ڈالے گا۔
12
لیکن آپ نے کہا، ’میں یقیناً تُمہیں برومند کروں گا اَور مَیں تمہاری نَسل کو سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانند بڑھاؤں گا جو شُمار سے باہر ہوگی۔‘ “
13
یعقوب نے رات وہیں گزاری، اَورجو کچھ اُن کے پاس تھا اُس میں سے اَپنے بھایٔی عیسَوؔ کے لیٔے یہ تحفہ مُنتخب کیا:
14
دو سَو بکریاں اَور بیس بکرے، دو سَو بھیڑیں اَور بیس مینڈھے،
15
تیس اُونٹنیاں اَور اُن کے بچّے، چالیس گائیں اَور دس بَیل اَور تیس گدھیاں اَور دس گدھے۔
16
یعقوب نے ہر گلّہ کو الگ الگ اَپنے خادِموں کے سُپرد کیا، اَور اُن سے کہا، ”مُجھ سے آگے نکل جاؤ اَور ایک گلّے کو دُوسرے سے جُدا رکھنا۔“
17
یعقوب نے سَب سے آگے والے خادِم کو ہدایت دی: ”جَب میرا بھایٔی عیسَوؔ تُم سے ملے اَور تُم سے پُوچھے، ’تُم کِس کے خادِم ہو اَور کہاں جا رہے ہو اَور یہ سَب جانور جو تمہارے آگے آگے ہیں کِس کے ہیں؟‘
18
تَب تُم عیسَوؔ سے کہنا، ’یہ تمہارے خادِم یعقوب کے ہیں اَور اُن کے آقا عیسَوؔ کو بطور تحفہ بھیجے گیٔے ہیں اَور وہ خُود بھی ہمارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔‘ “
19
یعقوب نے دُوسرے، تیسرے اَور باقی سَب خادِموں کو بھی جو گلّوں کے پیچھے چل رہے تھے ہدایت کی: ”تُم بھی جَب عیسَوؔ سے مِلو تو یہی کہنا۔
20
اَور یہ ضروُر کہنا، ’آپ کے خادِم یعقوب بھی ہمارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔‘ “ کیونکہ یعقوب نے سوچا، ”اِن تحفوں سے جنہیں میں اَپنے آگے بھیج رہا ہُوں، عیسَوؔ کے غُصّہ کو ٹھنڈا کر دُوں گا تاکہ بعد میں جَب مَیں اُن کے سامنے آؤں تو شاید وہ مُجھے قبُول کر لیں۔“
21
چنانچہ یعقوب کے تحفے لے کر آگے بڑھ گیٔے، لیکن یعقوب نے وہ رات اَپنے ہی خیمے میں گزاری۔
22
اُس رات یعقوب اُٹھے اَور اَپنی دو بیویوں اَپنی دو خادِماؤں اَور اَپنے گیارہ بیٹوں کو لے کر اُنہیں یبّوقؔ کے گھاٹ کے پار اُتارا۔
23
اُنہیں یردنؔ کے اُس پار بھیجنے کے بعد اَپنا سَب مال و اَسباب بھی بھیج دیا۔
24
تَب یعقوب تنہا رہ گئے اَور ایک آدمی پَو پھٹنے تک اُن سے کُشتی لڑتا رہا۔
25
جَب اُس آدمی نے دیکھا کہ وہ یعقوب پر غالب نہیں آسکتا تو اُس نے یعقوب کی ران کے جوڑ کو اَیسا چھُوا کہ اُس آدمی سے کُشتی لڑتے لڑتے اُن کی نس چڑھ گئی۔
26
تَب اُس آدمی نے کہا، ”مُجھے جانے دے کیونکہ اَب پَو پھٹنے کو ہے۔“ لیکن یعقوب نے جَواب دیا، ”جَب تک آپ مُجھے برکت نہ دیں مَیں آپ کو جانے نہیں دُوں گا۔“
27
تَب اُس آدمی نے پُوچھا، ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”یعقوب۔“
28
تَب اُس آدمی نے کہا، ”اَب سے تمہارا نام یعقوب نہیں بَلکہ اِسرائیل ہوگا کیونکہ تُم نے خُدا اَور آدمیوں کے ساتھ زورآزمائی کی اَور غالب ہُوئے۔“
29
تَب یعقوب نے کہا، ”براہِ کرم مُجھے اَپنا نام بتائیے۔“ لیکن اُس نے جَواب دیا، ”تُمہیں میرے نام سے کیا مطلب؟“ اَور اُس نے وہاں یعقوب کو برکت دی۔
30
چنانچہ یعقوب نے اُس مقام کا نام یہ کہتے ہویٔے پنی ایل رکھا، ”مَیں نے خُدا کو رُوبرو دیکھا، تو بھی میری جان سلامت رہی!“
31
جَب وہ پنی ایل یعنی پینو ایل سے چلے تو سُورج نکل چُکاتھا اَور وہ اَپنی ران کی وجہ سے لنگڑا کر چل رہے تھے۔
32
اِسی لیٔے بنی اِسرائیل اُس نس کو جو ران کے جوڑ سے جڑی ہوتی ہے آج تک نہیں کھاتے کیونکہ اُس آدمی نے یعقوب کی ران کے جوڑ کی اُسی نس کے پاس چھُوا تھا۔
← Chapter 31
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 33 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50