bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
1 Chronicles 18
1 Chronicles 18
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 17
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 19 →
1
پھر ایسا وقت آیا کہ داؤد نے فلستیوں کو شکست دے کر اُنہیں اپنے تابع کر لیا اور جات شہر پر گرد و نواح کی آبادیوں سمیت قبضہ کر لیا۔
2
اُس نے موآبیوں پر بھی فتح پائی، اور وہ اُس کے تابع ہو کر اُسے خراج دینے لگے۔
3
داؤد نے شمالی شام کے شہر ضوباہ کے بادشاہ ہدد عزر کو بھی حمات کے قریب ہرا دیا جب ہدد عزر دریائے فرات پر قابو پانے کے لئے نکل آیا تھا۔
4
داؤد نے 1,000 رتھوں، 7،000 گھڑسواروں اور 20,000 پیادہ سپاہیوں کو گرفتار کر لیا۔ رتھوں کے 100 گھوڑوں کو اُس نے اپنے لئے محفوظ رکھا جبکہ باقیوں کی اُس نے کونچیں کاٹ دیں تاکہ وہ آئندہ جنگ کے لئے استعمال نہ ہو سکیں۔
5
جب دمشق کے اَرامی باشندے ضوباہ کے بادشاہ ہدد عزر کی مدد کرنے آئے تو داؤد نے اُن کے 22,000 افراد ہلاک کر دیئے۔
6
پھر اُس نے دمشق کے علاقے میں اپنی فوجی چوکیاں قائم کیں۔ اَرامی اُس کے تابع ہو گئے اور اُسے خراج دیتے رہے۔ جہاں بھی داؤد گیا وہاں رب نے اُسے کامیابی بخشی۔
7
سونے کی جو ڈھالیں ہدد عزر کے افسروں کے پاس تھیں اُنہیں داؤد یروشلم لے گیا۔
8
ہدد عزر کے دو شہروں کون اور طبحت سے اُس نے کثرت کا پیتل چھین لیا۔ بعد میں سلیمان نے یہ پیتل رب کے گھر میں ’سمندر‘ نامی پیتل کا حوض، ستون اور پیتل کا مختلف سامان بنانے کے لئے استعمال کیا۔
9
جب حمات کے بادشاہ تُوعی کو اطلاع ملی کہ داؤد نے ضوباہ کے بادشاہ ہدد عزر کی پوری فوج پر فتح پائی ہے
10
تو اُس نے اپنے بیٹے ہدورام کو داؤد کے پاس بھیجا تاکہ اُسے سلام کہے۔ ہدورام نے داؤد کو ہدد عزر پر فتح کے لئے مبارک باد دی، کیونکہ ہدد عزر تُوعی کا دشمن تھا، اور اُن کے درمیان جنگ رہی تھی۔ ہدورام نے داؤد کو سونے، چاندی اور پیتل کے بہت سے تحفے بھی پیش کئے۔
11
داؤد نے یہ چیزیں رب کے لئے مخصوص کر دیں۔ جہاں بھی وہ دوسری قوموں پر غالب آیا وہاں کی سونا چاندی اُس نے رب کے لئے مخصوص کر دیا۔ یوں ادوم، موآب، عمون، فلستیہ اور عمالیق کی سونا چاندی رب کو پیش کی گئی۔
12
ابی شے بن ضرویاہ نے نمک کی وادی میں ادومیوں پر فتح پا کر 18,000 افراد ہلاک کر دیئے۔
13
اُس نے ادوم کے پورے ملک میں اپنی فوجی چوکیاں قائم کیں، اور تمام ادومی داؤد کے تابع ہو گئے۔ داؤد جہاں بھی جاتا رب اُس کی مدد کر کے اُسے فتح بخشتا۔
14
جتنی دیر داؤد پورے اسرائیل پر حکومت کرتا رہا اُتنی دیر تک اُس نے دھیان دیا کہ قوم کے ہر ایک شخص کو انصاف مل جائے۔
15
یوآب بن ضرویاہ فوج پر مقرر تھا۔ یہوسفط بن اخی لود بادشاہ کا مشیرِ خاص تھا۔
16
صدوق بن اخی طوب اور ابی مَلِک بن ابیاتر امام تھے۔ شَوشا میرمنشی تھا۔
17
بنایاہ بن یہویدع داؤد کے خاص دستے بنام کریتی اور فلیتی کا کپتان مقرر تھا۔ داؤد کے بیٹے اعلیٰ افسر تھے۔
← Chapter 17
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 19 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29