bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
Ezekiel 22
Ezekiel 22
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 21
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 23 →
1
رب کا کلام مجھ پر نازل ہوا،
2
"اے آدم زاد، کیا تُو یروشلم کی عدالت کرنے کے لئے تیار ہے؟ کیا تُو اِس قاتل شہر پر فیصلہ کرنے کے لئے مستعد ہے؟ پھر اُس پر اُس کی مکروہ حرکتیں ظاہر کر۔
3
اُسے بتا، ’رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اے یروشلم بیٹی، تیرا انجام قریب ہی ہے، اور یہ تیرا اپنا قصور ہے۔ کیونکہ تُو نے اپنے درمیان معصوموں کا خون بہایا اور اپنے لئے بُت بنا کر اپنے آپ کو ناپاک کر دیا ہے۔
4
اپنی خوں ریزی سے تُو مجرم بن گئی ہے، اپنی بُت پرستی سے ناپاک ہو گئی ہے۔ تُو خود اپنی عدالت کا دن قریب لائی ہے۔ اِسی وجہ سے تیرا انجام قریب آ گیا ہے، اِسی لئے مَیں تجھے دیگر اقوام کی لعن طعن اور تمام ممالک کے مذاق کا نشانہ بنا دوں گا۔
5
سب تجھ پر ٹھٹھا ماریں گے، خواہ وہ قریب ہوں یا دُور۔ تیرے نام پر داغ لگ گیا ہے، تجھ میں فساد حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔
6
اسرائیل کا جو بھی بزرگ تجھ میں رہتا ہے وہ اپنی پوری طاقت سے خون بہانے کی کوشش کرتا ہے۔
7
تیرے باشندے اپنے ماں باپ کو حقیر جانتے ہیں۔ وہ پردیسی پر سختی کر کے یتیموں اور بیواؤں پر ظلم کرتے ہیں۔
8
جو مجھے مُقدّس ہے اُسے تُو پاؤں تلے کچل دیتی ہے۔ تُو میرے سبت کے دنوں کی بےحرمتی بھی کرتی ہے۔
9
تجھ میں ایسے تہمت لگانے والے ہیں جو خوں ریزی پر تُلے ہوئے ہیں۔ تیرے باشندے پہاڑوں کی ناجائز قربان گاہوں کے پاس قربانیاں کھاتے اور تیرے درمیان شرم ناک حرکتیں کرتے ہیں۔
10
بیٹا ماں سے ہم بستر ہو کر باپ کی بےحرمتی کرتا ہے، شوہر ماہواری کے دوران بیوی سے صحبت کر کے اُس سے زیادتی کرتا ہے۔
11
ایک اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرتا ہے جبکہ دوسرا اپنی بہو کی بےحرمتی اور تیسرا اپنی سگی بہن کی عصمت دری کرتا ہے۔
12
تجھ میں ایسے لوگ ہیں جو رشوت کے عوض قتل کرتے ہیں۔ سود قابلِ قبول ہے، اور لوگ ایک دوسرے پر ظلم کر کے ناجائز نفع کماتے ہیں۔ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اے یروشلم، تُو مجھے سراسر بھول گئی ہے!
13
تیرا ناجائز نفع اور تیرے بیچ میں خوں ریزی دیکھ کر مَیں غصے میں تالی بجاتا ہوں۔
14
سوچ لے! جس دن مَیں تجھ سے نپٹوں گا تو کیا تیرا حوصلہ قائم اور تیرے ہاتھ مضبوط رہیں گے؟ یہ میرا، رب کا فرمان ہے، اور مَیں یہ کروں گا بھی۔
15
مَیں تجھے دیگر اقوام و ممالک میں منتشر کر کے تیری ناپاکی دُور کروں گا۔
16
پھر جب دیگر قوموں کے دیکھتے دیکھتے تیری بےحرمتی ہو جائے گی تب تُو جان لے گی کہ مَیں ہی رب ہوں‘۔"
17
رب مزید مجھ سے ہم کلام ہوا،
18
"اے آدم زاد، اسرائیلی قوم میرے نزدیک اُس مَیل کی مانند بن گئی ہے جو چاندی کو خالص کرنے کے بعد بھٹی میں باقی رہ جاتا ہے۔ سب کے سب اُس تانبے، ٹین، لوہے اور سیسے کی مانند ہیں جو بھٹی میں رہ جاتا ہے۔ وہ کچرا ہی ہیں۔
19
چنانچہ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ چونکہ تم بھٹی میں بچا ہوا مَیل ہو اِس لئے مَیں تمہیں یروشلم میں اکٹھا کر کے
20
بھٹی میں پھینک دوں گا۔ جس طرح چاندی، تانبے، لوہے، سیسے اور ٹین کی آمیزش کو تپتی بھٹی میں پھینکا جاتا ہے تاکہ پگھل جائے اُسی طرح مَیں تمہیں غصے میں اکٹھا کروں گا اور بھٹی میں پھینک کر پگھلا دوں گا۔
21
مَیں تمہیں جمع کر کے آگ میں پھینک دوں گا اور بڑے غصے سے ہَوا دے کر تمہیں پگھلا دوں گا۔
22
جس طرح چاندی بھٹی میں پگھل جاتی ہے اُسی طرح تم یروشلم میں پگھل جاؤ گے۔ تب تم جان لو گے کہ مَیں رب نے اپنا غضب تم پر نازل کیا ہے۔"
23
رب مجھ سے ہم کلام ہوا،
24
"اے آدم زاد، ملکِ اسرائیل کو بتا، ’غضب کے دن تجھ پر مینہ نہیں برسے گا بلکہ تُو بارش سے محروم رہے گا۔‘
25
ملک کے بیچ میں سازش کرنے والے راہنما شیرببر کی مانند ہیں جو دہاڑتے دہاڑتے اپنا شکار پھاڑ لیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ہڑپ کر کے اُن کے خزانے اور قیمتی چیزیں چھین لیتے اور ملک کے درمیان ہی متعدد عورتوں کو بیوائیں بنا دیتے ہیں۔
26
ملک کے امام میری شریعت سے زیادتی کر کے اُن چیزوں کی بےحرمتی کرتے ہیں جو مجھے مُقدّس ہیں۔ نہ وہ مُقدّس اور عام چیزوں میں امتیاز کرتے، نہ پاک اور ناپاک اشیا کا فرق سکھاتے ہیں۔ نیز، وہ میرے سبت کے دن اپنی آنکھوں کو بند رکھتے ہیں تاکہ اُس کی بےحرمتی نظر نہ آئے۔ یوں اُن کے درمیان ہی میری بےحرمتی کی جاتی ہے۔
27
ملک کے درمیان کے بزرگ بھیڑیوں کی مانند ہیں جو اپنے شکار کو پھاڑ پھاڑ کر خون بہاتے اور لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارتے ہیں تاکہ ناروا نفع کمائیں۔
28
ملک کے نبی فریب دہ رویائیں اور جھوٹے پیغامات سنا کر لوگوں کے بُرے کاموں پر سفیدی پھیر دیتے ہیں تاکہ اُن کی غلطیاں نظر نہ آئیں۔ وہ کہتے ہیں، ’رب قادرِ مطلق فرماتا ہے‘ حالانکہ رب نے اُن پر کچھ نازل نہیں کیا ہوتا۔
29
ملک کے عام لوگ بھی ایک دوسرے کا استحصال کرتے ہیں۔ وہ ڈکیت بن کر غریبوں اور ضرورت مندوں پر ظلم کرتے اور پردیسیوں سے بدسلوکی کر کے اُن کا حق مارتے ہیں۔
30
اسرائیل میں مَیں ایسے آدمی کی تلاش میں رہا جو ملک کے لئے حفاظتی چاردیواری تعمیر کرے، جو میرے حضور آ کر دیوار کے رخنے میں کھڑا ہو جائے تاکہ مَیں ملک کو تباہ نہ کروں۔ لیکن مجھے ایک بھی نہ ملا جو اِس قابل ہو۔
31
چنانچہ مَیں اپنا غضب اُن پر نازل کروں گا اور اُنہیں اپنے سخت قہر سے بھسم کروں گا۔ تب اُن کے غلط کاموں کا نتیجہ اُن کے اپنے سروں پر آئے گا۔ یہ رب قادرِ مطلق کا فرمان ہے۔"
← Chapter 21
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 23 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48