bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
Ezekiel 30
Ezekiel 30
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 29
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 31 →
1
رب مجھ سے ہم کلام ہوا،
2
"اے آدم زاد، نبوّت کر کے یہ پیغام سنا دے، ’رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ آہ و زاری کرو! اُس دن پر افسوس
3
جو آنے والا ہے۔ کیونکہ رب کا دن قریب ہی ہے۔ اُس دن گھنے بادل چھا جائیں گے، اور مَیں اقوام کی عدالت کروں گا۔
4
مصر پر تلوار نازل ہو کر وہاں کے باشندوں کو مار ڈالے گی۔ ملک کی دولت چھین لی جائے گی، اور اُس کی بنیادوں کو ڈھا دیا جائے گا۔ یہ دیکھ کر ایتھوپیا لرز اُٹھے گا،
5
کیونکہ اُس کے لوگ بھی تلوار کی زد میں آ جائیں گے۔ کئی قوموں کے افراد مصریوں کے ساتھ ہلاک ہو جائیں گے۔ ایتھوپیا کے، لبیا کے، لُدیہ کے، مصر میں بسنے والے تمام اجنبی قوموں کے، کوب کے اور میرے عہد کی قوم اسرائیل کے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔
6
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ مصر کو سہارا دینے والے سب گر جائیں گے، اور جس طاقت پر وہ فخر کرتا ہے وہ جاتی رہے گی۔ شمال میں مجدال سے لے کر جنوبی شہر اسوان تک اُنہیں تلوار مار ڈالے گی۔ یہ رب قادرِ مطلق کا فرمان ہے۔
7
ارد گرد کے دیگر ممالک کی طرح مصر بھی ویران و سنسان ہو گا، ارد گرد کے دیگر شہروں کی طرح اُس کے شہر بھی ملبے کے ڈھیر ہوں گے۔
8
جب مَیں مصر میں یوں آگ لگا کر اُس کے مددگاروں کو کچل ڈالوں گا تو لوگ جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔
9
اب تک ایتھوپیا اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے، لیکن اُس دن میری طرف سے قاصد نکل کر اُس ملک کے باشندوں کو ایسی خبر پہنچائیں گے جس سے وہ تھرتھرا اُٹھیں گے۔ کیونکہ قاصد کشتیوں میں بیٹھ کر دریائے نیل کے ذریعے اُن تک پہنچیں گے اور اُنہیں اطلاع دیں گے کہ مصر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ سن کر وہاں کے لوگ کانپ اُٹھیں گے۔ یقین کرو، یہ دن جلد ہی آنے والا ہے۔
10
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ شاہِ بابل نبوکدنضر کے ذریعے مَیں مصر کی شان و شوکت چھین لوں گا۔
11
اُسے فوج سمیت مصر میں لایا جائے گا تاکہ اُسے تباہ کرے۔ تب اقوام میں سے سب سے ظالم یہ لوگ اپنی تلواروں کو چلا کر ملک کو مقتولوں سے بھر دیں گے۔
12
مَیں دریائے نیل کی شاخوں کو خشک کروں گا اور مصر کو فروخت کر کے شریر آدمیوں کے حوالے کر دوں گا۔ پردیسیوں کے ذریعے مَیں ملک اور جو کچھ بھی اُس میں ہے تباہ کر دوں گا۔ یہ میرا، رب کا فرمان ہے۔
13
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ مَیں مصری بُتوں کو برباد کروں گا اور میمفِس کے مجسمے ہٹا دوں گا۔ مصر میں حکمران نہیں رہے گا، اور مَیں ملک پر خوف طاری کروں گا۔
14
میرے حکم پر جنوبی مصر برباد اور ضُعن نذرِ آتش ہو گا۔ مَیں تھیبس کی عدالت
15
اور مصری قلعے پلوسیئم پر اپنا غضب نازل کروں گا۔ ہاں، تھیبس کی شان و شوکت نیست و نابود ہو جائے گی۔
16
مَیں مصر کو نذرِ آتش کروں گا۔ تب پلوسیئم دردِ زہ میں مبتلا عورت کی طرح پیچ و تاب کھائے گا، تھیبس دشمن کے قبضے میں آئے گا اور میمفِس مسلسل مصیبت میں پھنسا رہے گا۔
17
دشمن کی تلوار ہیلیوپلس اور بوبستس کے جوانوں کو مار ڈالے گی جبکہ بچی ہوئی عورتیں غلام بن کر جلاوطن ہو جائیں گی۔
18
تحفن حیس میں دن تاریک ہو جائے گا جب مَیں وہاں مصر کے جوئے کو توڑ دوں گا۔ وہیں اُس کی زبردست طاقت جاتی رہے گی۔ گھنا بادل شہر پر چھا جائے گا، اور گرد و نواح کی آبادیاں قیدی بن کر جلاوطن ہو جائیں گی۔
19
یوں مَیں مصر کی عدالت کروں گا اور وہ جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں‘۔"
20
یہویاکین بادشاہ کی جلاوطنی کے گیارھویں سال میں رب مجھ سے ہم کلام ہوا۔ پہلے مہینے کا ساتواں دن تھا۔ اُس نے فرمایا تھا،
21
"اے آدم زاد، مَیں نے مصری بادشاہ فرعون کا بازو توڑ ڈالا ہے۔ شفا پانے کے لئے لازم تھا کہ بازو پر پٹی باندھی جائے، کہ ٹوٹی ہوئی ہڈی کے ساتھ کھپچّی باندھی جائے تاکہ بازو مضبوط ہو کر تلوار چلانے کے قابل ہو جائے۔ لیکن اِس قسم کا علاج ہوا نہیں۔
22
چنانچہ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ مَیں مصری بادشاہ فرعون سے نپٹ کر اُس کے دونوں بازوؤں کو توڑ ڈالوں گا، صحت مند بازو کو بھی اور ٹوٹے ہوئے کو بھی۔ تب تلوار اُس کے ہاتھ سے گر جائے گی
23
اور مَیں مصریوں کو مختلف اقوام و ممالک میں منتشر کر دوں گا۔
24
مَیں شاہِ بابل کے بازوؤں کو تقویت دے کر اُسے اپنی ہی تلوار پکڑا دوں گا۔ لیکن فرعون کے بازوؤں کو مَیں توڑ ڈالوں گا، اور وہ شاہِ بابل کے سامنے مرنے والے زخمی آدمی کی طرح کراہ اُٹھے گا۔
25
شاہِ بابل کے بازوؤں کو مَیں تقویت دوں گا جبکہ فرعون کے بازو بےحس و حرکت ہو جائیں گے۔ جس وقت مَیں اپنی تلوار کو شاہِ بابل کو پکڑا دوں گا اور وہ اُسے مصر کے خلاف چلائے گا اُس وقت لوگ جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔
26
ہاں، جس وقت مَیں مصریوں کو دیگر اقوام و ممالک میں منتشر کر دوں گا اُس وقت وہ جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔"
← Chapter 29
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 31 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48