bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
Ezekiel 34
Ezekiel 34
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 33
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 35 →
1
رب مجھ سے ہم کلام ہوا،
2
"اے آدم زاد، اسرائیل کے گلہ بانوں کے خلاف نبوّت کر! اُنہیں بتا، ’رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اسرائیل کے گلہ بانوں پر افسوس جو صرف اپنی ہی فکر کرتے ہیں۔ کیا گلہ بان کو ریوڑ کی فکر نہیں کرنی چاہئے؟
3
تم بھیڑبکریوں کا دودھ پیتے، اُن کی اُون کے کپڑے پہنتے اور بہترین جانوروں کا گوشت کھاتے ہو۔ توبھی تم ریوڑ کی دیکھ بھال نہیں کرتے!
4
نہ تم نے کمزوروں کو تقویت، نہ بیماروں کو شفا دی یا زخمیوں کی مرہم پٹی کی۔ نہ تم آوارہ پھرنے والوں کو واپس لائے، نہ گم شدہ جانوروں کو تلاش کیا بلکہ سختی اور ظالمانہ طریقے سے اُن پر حکومت کرتے رہے۔
5
گلہ بان نہ ہونے کی وجہ سے بھیڑبکریاں تتر بتر ہو کر درندوں کا شکار ہو گئیں۔
6
میری بھیڑبکریاں تمام پہاڑوں اور بلند جگہوں پر آوارہ پھرتی رہیں۔ ساری زمین پر وہ منتشر ہو گئیں، اور کوئی نہیں تھا جو اُنہیں ڈھونڈ کر واپس لاتا۔
7
چنانچہ اے گلہ بانو، رب کا جواب سنو!
8
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ میری حیات کی قَسم، میری بھیڑبکریاں لٹیروں کا شکار اور تمام درندوں کی غذا بن گئی ہیں۔ اُن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ میرے گلہ بان میرے ریوڑ کو ڈھونڈ کر واپس نہیں لاتے بلکہ صرف اپنا ہی خیال کرتے ہیں۔
9
چنانچہ اے گلہ بانو، رب کا جواب سنو!
10
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ مَیں گلہ بانوں سے نپٹ کر اُنہیں اپنی بھیڑبکریوں کے لئے ذمہ دار ٹھہراؤں گا۔ تب مَیں اُنہیں گلہ بانی کی ذمہ داری سے فارغ کروں گا تاکہ صرف اپنا ہی خیال کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے۔ مَیں اپنی بھیڑبکریوں کو اُن کے منہ سے نکال کر بچاؤں گا تاکہ آئندہ وہ اُنہیں نہ کھائیں۔
11
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ آئندہ مَیں خود اپنی بھیڑبکریوں کو ڈھونڈ کر واپس لاؤں گا، خود اُن کی دیکھ بھال کروں گا۔
12
جس طرح چرواہا چاروں طرف بکھری ہوئی اپنی بھیڑبکریوں کو اکٹھا کر کے اُن کی دیکھ بھال کرتا ہے اُسی طرح مَیں اپنی بھیڑبکریوں کی دیکھ بھال کروں گا۔ مَیں اُنہیں اُن تمام مقاموں سے نکال کر بچاؤں گا جہاں اُنہیں گھنے بادلوں اور تاریکی کے دن منتشر کر دیا گیا تھا۔
13
مَیں اُنہیں دیگر اقوام اور ممالک میں سے نکال کر جمع کروں گا اور اُنہیں اُن کے اپنے ملک میں واپس لا کر اسرائیل کے پہاڑوں، گھاٹیوں اور تمام آبادیوں میں چَراؤں گا۔
14
تب مَیں اچھی چراگاہوں میں اُن کی دیکھ بھال کروں گا، اور وہ اسرائیل کی بلندیوں پر ہی چریں گی۔ وہاں وہ سرسبز میدانوں میں آرام کر کے اسرائیل کے پہاڑوں پر بہترین گھاس چریں گی۔
15
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ مَیں خود اپنی بھیڑبکریوں کی دیکھ بھال کروں گا، خود اُنہیں بٹھاؤں گا۔
16
مَیں گم شدہ بھیڑبکریوں کا کھوج لگاؤں گا اور آوارہ پھرنے والوں کو واپس لاؤں گا۔ مَیں زخمیوں کی مرہم پٹی کروں گا اور کمزوروں کو تقویت دوں گا۔ لیکن موٹے تازے اور طاقت ور جانوروں کو مَیں ختم کروں گا۔ مَیں انصاف سے ریوڑ کی گلہ بانی کروں گا۔
17
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اے میرے ریوڑ، جہاں بھیڑوں، مینڈھوں اور بکروں کے درمیان ناانصافی ہے وہاں مَیں اُن کی عدالت کروں گا۔
18
کیا یہ تمہارے لئے کافی نہیں کہ تمہیں کھانے کے لئے چراگاہ کا بہترین حصہ اور پینے کے لئے صاف شفاف پانی مل گیا ہے؟ تم باقی چراگاہ کو کیوں روندتے اور باقی پانی کو پاؤں سے گدلا کرتے ہو؟
19
میرا ریوڑ کیوں تم سے کچلی ہوئی گھاس کھائے اور تمہارا گدلا کیا ہوا پانی پیئے؟
20
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ جہاں موٹی اور دُبلی بھیڑبکریوں کے درمیان ناانصافی ہے وہاں مَیں خود فیصلہ کروں گا۔
21
کیونکہ تم موٹی بھیڑوں نے کمزوروں کو کندھوں سے دھکا دے کر اور سینگوں سے مار مار کر اچھی گھاس سے بھگا دیا ہے۔
22
لیکن مَیں اپنی بھیڑبکریوں کو تم سے بچا لوں گا۔ آئندہ اُنہیں لُوٹا نہیں جائے گا بلکہ مَیں خود اُن میں انصاف قائم رکھوں گا۔
23
مَیں اُن پر ایک ہی گلہ بان یعنی اپنے خادم داؤد کو مقرر کروں گا جو اُنہیں چَرا کر اُن کی دیکھ بھال کرے گا۔ وہی اُن کا صحیح چرواہا رہے گا۔
24
مَیں، رب اُن کا خدا ہوں گا اور میرا خادم داؤد اُن کے درمیان اُن کا حکمران ہو گا۔ یہ میرا، رب کا فرمان ہے۔
25
مَیں اسرائیلیوں کے ساتھ سلامتی کا عہد باندھ کر درندوں کو ملک سے نکال دوں گا۔ پھر وہ حفاظت سے سو سکیں گے، خواہ ریگستان میں ہوں یا جنگل میں۔
26
مَیں اُنہیں اور اپنے پہاڑ کے ارد گرد کے علاقے کو برکت دوں گا۔ مَیں ملک میں وقت پر بارش برساتا رہوں گا۔ ایسی مبارک بارشیں ہوں گی
27
کہ ملک کے باغوں اور کھیتوں میں زبردست فصلیں پکیں گی۔ لوگ اپنے ملک میں محفوظ ہوں گے۔ پھر جب مَیں اُن کے جوئے کو توڑ کر اُنہیں اُن سے رِہائی دوں گا جنہوں نے اُنہیں غلام بنایا تھا تب وہ جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔
28
آئندہ نہ دیگر اقوام اُنہیں لُوٹیں گی، نہ وہ درندوں کی خوراک بنیں گے بلکہ وہ حفاظت سے اپنے گھروں میں بسیں گے۔ ڈرانے والا کوئی نہیں ہو گا۔
29
میرے حکم پر زمین ایسی فصلیں پیدا کرے گی جن کی شہرت دُور دُور تک پھیلے گی۔ آئندہ نہ وہ بھوکوں مریں گے، نہ اُنہیں دیگر اقوام کی لعن طعن سننی پڑے گی۔
30
رب قادرِ مطلق خدا فرماتا ہے کہ اُس وقت وہ جان لیں گے کہ مَیں جو رب اُن کا خدا ہوں اُن کے ساتھ ہوں، کہ اسرائیلی میری قوم ہیں۔
31
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ تم میرا ریوڑ، میری چراگاہ کی بھیڑبکریاں ہو۔ تم میرے لوگ، اور مَیں تمہارا خدا ہوں‘۔"
← Chapter 33
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 35 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48