bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
/
Ezekiel 7
Ezekiel 7
Urdu Bible (UGV) 2019 (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
← Chapter 6
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 8 →
1
رب مجھ سے ہم کلام ہوا،
2
"اے آدم زاد، رب قادرِ مطلق ملکِ اسرائیل سے فرماتا ہے کہ تیرا انجام قریب ہی ہے! جہاں بھی دیکھو، پورا ملک تباہ ہو جائے گا۔
3
اب تیرا ستیاناس ہونے والا ہے، مَیں خود اپنا غضب تجھ پر نازل کروں گا۔ مَیں تیرے چال چلن کو پرکھ پرکھ کر تیری عدالت کروں گا، تیری مکروہ حرکتوں کا پورا اجر دوں گا۔
4
نہ مَیں تجھ پر ترس کھاؤں گا، نہ رحم کروں گا بلکہ تجھے تیرے چال چلن کا مناسب اجر دوں گا۔ کیونکہ تیری مکروہ حرکتوں کا بیج تیرے درمیان ہی اُگ کر پھل لائے گا۔ تب تم جان لو گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔"
5
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے، "آفت پر آفت ہی آ رہی ہے۔
6
تیرا انجام، ہاں، تیرا انجام آ رہا ہے۔ اب وہ اُٹھ کر تجھ پر لپک رہا ہے۔
7
اے ملک کے باشندے، تیری فنا پہنچ رہی ہے۔ اب وہ وقت قریب ہی ہے، وہ دن جب تیرے پہاڑوں پر خوشی کے نعروں کے بجائے افرا تفری کا شور مچے گا۔
8
اب مَیں جلد ہی اپنا غضب تجھ پر نازل کروں گا، جلد ہی اپنا غصہ تجھ پر اُتاروں گا۔ مَیں تیرے چال چلن کو پرکھ پرکھ کر تیری عدالت کروں گا، تیری گھنونی حرکتوں کا پورا اجر دوں گا۔
9
نہ مَیں تجھ پر ترس کھاؤں گا، نہ رحم کروں گا بلکہ تجھے تیرے چال چلن کا مناسب اجر دوں گا۔ کیونکہ تیری مکروہ حرکتوں کا بیج تیرے درمیان ہی اُگ کر پھل لائے گا۔ تب تم جان لو گے کہ مَیں یعنی رب ہی ضرب لگا رہا ہوں۔
10
دیکھو، مذکورہ دن قریب ہی ہے! تیری ہلاکت پہنچ رہی ہے۔ ناانصافی کے پھول اور شوخی کی کونپلیں پھوٹ نکلی ہیں۔
11
لوگوں کا ظلم بڑھ بڑھ کر لاٹھی بن گیا ہے جو اُنہیں اُن کی بےدینی کی سزا دے گی۔ کچھ نہیں رہے گا، نہ وہ خود، نہ اُن کی دولت، نہ اُن کا شور شرابہ، اور نہ اُن کی شان و شوکت۔
12
عدالت کا دن قریب ہی ہے۔ اُس وقت جو کچھ خریدے وہ خوش نہ ہو، اور جو کچھ فروخت کرے وہ غم نہ کھائے۔ کیونکہ اب اِن چیزوں کا کوئی فائدہ نہیں، الٰہی غضب سب پر نازل ہو رہا ہے۔
13
بیچنے والے بچ بھی جائیں تو وہ اپنا کاروبار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ سب پر الٰہی غضب کا فیصلہ اٹل ہے اور منسوخ نہیں ہو سکتا۔ لوگوں کے گناہوں کے باعث ایک جان بھی نہیں چھوٹے گی۔
14
بےشک لوگ بِگل بجا کر جنگ کی تیاریاں کریں، لیکن کیا فائدہ؟ لڑنے کے لئے کوئی نہیں نکلے گا، کیونکہ سب کے سب میرے قہر کا نشانہ بن جائیں گے۔
15
باہر تلوار، اندر مہلک وبا اور بھوک۔ کیونکہ دیہات میں لوگ تلوار کی زد میں آ جائیں گے، شہر میں کال اور مہلک وبا سے ہلاک ہو جائیں گے۔
16
جتنے بھی بچیں گے وہ پہاڑوں میں پناہ لیں گے، گھاٹیوں میں فاختاؤں کی طرح غوں غوں کر کے اپنے گناہوں پر آہ و زاری کریں گے۔
17
ہر ہاتھ سے طاقت جاتی رہے گی، ہر گھٹنا ڈانواں ڈول ہو جائے گا۔
18
وہ ٹاٹ کے ماتمی کپڑے اوڑھ لیں گے، اُن پر کپکپی طاری ہو جائے گی۔ ہر چہرے پر شرمندگی نظر آئے گی، ہر سر منڈوایا گیا ہو گا۔
19
اپنی چاندی کو وہ گلیوں میں پھینک دیں گے، اپنے سونے کو غلاظت سمجھیں گے۔ کیونکہ جب رب کا غضب اُن پر نازل ہو گا تو نہ اُن کی چاندی اُنہیں بچا سکے گی، نہ سونا۔ اُن سے نہ وہ اپنی بھوک مٹا سکیں گے، نہ اپنے پیٹ کو بھر سکیں گے، کیونکہ یہی چیزیں اُن کے لئے گناہ کا باعث بن گئی تھیں۔
20
اُنہوں نے اپنے خوب صورت زیورات پر فخر کر کے اُن سے اپنے گھنونے بُت اور مکروہ مجسمے بنائے، اِس لئے مَیں ہونے دوں گا کہ وہ اپنی دولت سے گھن کھائیں گے۔
21
مَیں یہ سب کچھ پردیسیوں کے حوالے کر دوں گا، اور وہ اُسے لُوٹ لیں گے۔ دنیا کے بےدین اُسے چھین کر اُس کی بےحرمتی کریں گے۔
22
مَیں اپنا منہ اسرائیلیوں سے پھیر لوں گا تو اجنبی میرے قیمتی مقام کی بےحرمتی کریں گے۔ ڈاکو اُس میں گھس کر اُسے ناپاک کریں گے۔
23
زنجیریں تیار کر! کیونکہ ملک میں قتل و غارت عام ہو گئی ہے، شہر ظلم و تشدد سے بھر گیا ہے۔
24
مَیں دیگر اقوام کے سب سے شریر لوگوں کو بُلاؤں گا تاکہ اسرائیلیوں کے گھروں پر قبضہ کریں، مَیں زورآوروں کا تکبر خاک میں ملا دوں گا۔ جو بھی مقام اُنہیں مُقدّس ہو اُس کی بےحرمتی کی جائے گی۔
25
جب دہشت اُن پر طاری ہو گی تو وہ امن و امان تلاش کریں گے، لیکن بےفائدہ۔ امن و امان کہیں بھی پایا نہیں جائے گا۔
26
آفت پر آفت ہی اُن پر آئے گی، یکے بعد دیگرے بُری خبریں اُن تک پہنچیں گی۔ وہ نبی سے رویا ملنے کی اُمید کریں گے، لیکن بےفائدہ۔ نہ امام اُنہیں شریعت کی تعلیم، نہ بزرگ اُنہیں مشورہ دے سکیں گے۔
27
بادشاہ ماتم کرے گا، رئیس ہیبت زدہ ہو گا، اور عوام کے ہاتھ تھرتھرائیں گے۔ مَیں اُن کے چال چلن کے مطابق اُن سے نپٹوں گا، اُن کے اپنے ہی اصولوں کے مطابق اُن کی عدالت کروں گا۔ تب وہ جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔"
← Chapter 6
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 8 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48