bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Exodus 1
Exodus 1
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 2 →
1
اِسرائیل کے بیٹوں کے نام جو اَپنے اَپنے گھرانے سمیت یعقوب کے ساتھ مِصر میں آئے وہ یہ ہیں:
2
رُوبِنؔ، شمعُونؔ، لیوی، یہُوداہؔ؛
3
یِسَّکاؔر، زبُولُون، بِنیامین؛
4
دانؔ اَور نفتالی؛ گادؔ اَور آشیر۔
5
اَور یعقوب کی نَسل کی کُل تعداد ستّر تھی، اَور یُوسیفؔ تو پہلے ہی مِصر میں تھے۔
6
اَور یُوسیفؔ اَور اُن کے سَب بھایٔی اَور وہ ساری پُشت فنا ہو گئی۔
7
لیکن بنی اِسرائیل سرفراز ہویٔے اَور افزائشِ نَسل کے باعث خُوب بڑھے اَور شُمار میں اِس قدر زِیادہ ہو گئے کہ وہ مُلک اُن سے بھر گیا۔
8
اُس وقت ایک نیا بادشاہ، جو یُوسیفؔ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا، مِصر پر حُکمراں ہو چُکاتھا۔
9
”دیکھو،“ اُس نے اَپنے لوگوں سے کہا، ”ہمارے مُقابلہ میں بنی اِسرائیل کی تعداد بہت زِیادہ ہو گئی ہے۔
10
پس آؤ ہم اُن کے ساتھ ہوشیاری سے کام لیں، ورنہ اگر جنگ چھڑ گئی، تو وہ ہمارے دُشمنوں کے ساتھ مِل جایٔیں گے، اَور ہمارے خِلاف لڑیں گے اَور مُلک سے نکل جایٔیں گے۔“
11
لہٰذا اُنہُوں نے اُن پر بیگار لینے والے سرداروں کو مُقرّر کیا تاکہ اُن سے سخت کام لے کر اُن کو ستائیں اَور اُنہُوں نے فَرعوہؔ کے ذخیروں کے لیٔے شہر پِتومؔ اَور رَعمسیسؔ بنائے۔
12
لیکن اِسرائیلی جِس قدر زِیادہ ستائے گیٔے، اُسی قدر اُن کی تعداد اَور زِیادہ بڑھی اَور وہ پھیلتے چلے گیٔے۔ لہٰذا مِصری اُن سے خوف کھانے لگے۔
13
مِصری غُلام اِسرائیلیوں سے اَور بھی زِیادہ سختی سے کام لینے لگے۔
14
اَور اُنہُوں نے اُن سے اینٹیں اَور گارا بنوا بنوا کر اَور کھیتوں میں ہر قِسم کی خدمت لے کر اُن کی زندگیاں تلخ کر دیں، اَور اُن کی ساری محنت اَور مشقّت میں مِصری اُن پر تشدّد کرتے تھے۔
15
اَور مِصر کے بادشاہ نے عِبرانی دائیوں، کو جِن کے نام شِفرہؔ اَور پُوعہؔ تھے کہا،
16
”جَب تُم عِبرانی عورتوں کو بچّہ پیدا کرنے میں مدد کرو اَور اُنہیں وضعِ حَمل کی تِپائی پر بیٹھی دیکھو تو اگر لڑکا ہو تو اُسے مار ڈالنا؛ لیکن اگر لڑکی ہو تو، اُسے زندہ رہنے دینا۔“
17
مگر اُن دائیوں نے خُدا کا خوف کرتے ہویٔے، اَیسا کام نہ کیا جو مِصر کے بادشاہ نے اُنہیں کرنے کے لیٔے حُکم دیا تھا؛ بَلکہ اُنہُوں نے لڑکوں کو زندہ رہنے دیا۔
18
تَب مِصر کے بادشاہ نے اُن دائیوں کو طلب کیا اَور اُن سے بازپُرس کی، ”تُم نے اَیسا کیوں کیا؟ تُم نے لڑکوں کو کیوں زندہ رہنے دیا؟“
19
اُن دائیوں نے فَرعوہؔ کو جَواب دیا، ”عِبرانی عورتیں مِصری عورتوں کی مانند نہیں ہیں؛ وہ اَیسی توانا ہوتی ہیں، دائیوں کے آنے سے پیشتر ہی بچّہ پیدا کر لیتی ہیں۔“
20
پس خُدا اُن دائیوں پر مہربان تھا، اَور لوگ بڑھتے چلے گیٔے اَور تعداد میں اَور بھی زِیادہ ہو گئے۔
21
اَور چونکہ دائیوں نے خُدا کا خوف مانا، اِس لیٔے خُدا نے اُنہیں بھی بال بچّے والیاں بنا دیا۔
22
تَب فَرعوہؔ نے اَپنے تمام لوگوں کو یہ حُکم دیا: ”ہر اِسرائیلی لڑکا جو پیدا ہو وہ ضروُر دریائے نیل میں پھینک دیا جائے۔ لیکن ہر ایک لڑکی کو زندہ رہنے دیا جائے۔“
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 2 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40