bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Isaiah 14
Isaiah 14
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 13
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 15 →
1
کیونکہ خُداوند یعقُوبؔ پر رحم فرمائے گا بلکہ وہ اِسرائیل کو ہنُوز برگُزیدہ کرے گا اور اُن کو اُن کے مُلک میں پِھر قائِم کرے گا اور پردیسی اُن کے ساتھ میل کریں گے اور یعقُوبؔ کے گھرانے سے مِل جائیں گے۔
2
اور لوگ اُن کو لا کر اُن کے مُلک میں پُہنچائیں گے اور اِسرائیل کا گھرانا خُداوند کی سرزمِین میں اُن کا مالِک ہو کر اُن کو غُلام اور لَونڈیاں بنائے گا کیونکہ وہ اپنے اسِیر کرنے والوں کو اسِیر کریں گے اور اپنے ظُلم کرنے والوں پر حُکُومت کریں گے۔
3
اور یُوں ہو گا کہ جب خُداوند تُجھے تیری مِحنت و مشقّت سے اور سخت خِدمت سے جو اُنہوں نے تُجھ سے کرائی راحت بخشے گا۔
4
تب تُو شاہِ بابل کے خِلاف یہ مثل لائے گا اور کہے گا کہ ظالِم کَیسا نابُود ہو گیا! اور غاصِب کَیسا نیست ہُؤا!
5
خُداوند نے شرِیروں کا لٹھ یعنی بے اِنصاف حاکِموں کا عصا توڑ ڈالا۔
6
وُہی جو لوگوں کو قہر سے مارتا رہا اور قَوموں پر غضب کے ساتھ حُکمرانی کرتا رہا اور کوئی روک نہ سکا۔
7
ساری زمِین پر آرام و آسایش ہے۔ وہ یکایک گِیت گانے لگتے ہیں۔
8
ہاں صنوبر کے درخت اور لُبناؔن کے دیودار تُجھ پر یہ کہتے ہُوئے خُوشی کرتے ہیں کہ جب سے تُو گِرایا گیا تب سے کوئی کاٹنے والا ہماری طرف نہیں آیا۔
9
پاتال نِیچے سے تیرے سبب سے جُنبِش کھاتا ہے کہ تیرے آتے وقت تیرا اِستقبال کرے۔ وہ تیرے لِئے مُردوں کو یعنی زمِین کے سب سرداروں کو جگاتا ہے۔ وہ قَوموں کے سب بادشاہوں کو اُن کے تختوں پر سے اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔
10
وہ سب تُجھ سے کہیں گے کیا تُو بھی ہماری مانِند عاجِز ہو گیا؟ تُو اَیسا ہو گیا جَیسے ہم ہیں؟
11
تیری شان و شَوکت اور تیرے سازوں کی خُوش آوازی پاتال میں اُتاری گئی تیرے نِیچے کِیڑوں کا فرش ہُؤا اور کِیڑے ہی تیرا بالا پوش بنے۔
12
اَے صُبح کے روشن سِتارے تُو کیونکر آسمان پر سے گِر پڑا! اَے قَوموں کو پست کرنے والے تُو کیونکر زمِین پر پٹکا گیا!
13
تُو تو اپنے دِل میں کہتا تھا مَیں آسمان پر چڑھ جاؤُں گا۔ مَیں اپنے تخت کو خُدا کے سِتاروں سے بھی اُونچا کرُوں گا اور مَیں شِمالی اطراف میں جماعت کے پہاڑ پر بَیٹُھوں گا۔
14
مَیں بادلوں سے بھی اُوپر چڑھ جاؤُں گا۔ مَیں خُدا تعالیٰ کی مانِند ہُوں گا۔
15
لیکن تُو پاتال میں گڑھے کی تہہ میں اُتارا جائے گا۔
16
اور جِن کی نظر تُجھ پر پڑے گی تُجھے غَور سے دیکھ کر کہیں گے کیا یہ وُہی شخص ہے جِس نے زمِین کو لرزایا اور مُملکتوں کو ہِلا دِیا۔
17
جِس نے جہان کو وِیران کِیا اور اُس کی بستِیاں اُجاڑ دِیں۔ جِس نے اپنے اسِیروں کو آزاد نہ کِیا کہ گھر کی طرف جائیں؟
18
قَوموں کے تمام بادشاہ سب کے سب اپنے اپنے مسکن میں شَوکت کے ساتھ آرام کرتے ہیں۔
19
لیکن تُو اپنی گور سے باہر نِکمّی شاخ کی مانِند نِکال پھینکا گیا۔ تُو اُن مقتُولوں کے نِیچے دبا ہے جو تلوار سے چھیدے گئے اور گڑھے کے پتّھروں پر گِرے ہیں۔ اُس لاش کی مانِند جو پاؤں سے لتاڑی گئی ہو۔
20
تُو اُن کے ساتھ کبھی قبر میں دفن نہ کِیا جائے گا کیونکہ تُو نے اپنی مُملکت کو وِیران کِیا اور اپنی رعیّت کو قتل کِیا۔ بدکرداروں کی نسل کا نام باقی نہ رہے گا۔
21
اُس کے فرزندوں کے لِئے اُن کے باپ دادا کے گُناہوں کے سبب سے قتل کے سامان تیّار کرو تاکہ وہ پِھر اُٹھ کر مُلک کے مالِک نہ ہو جائیں اور رُویِ زمِین کو شہروں سے معمُور نہ کریں۔
22
کیونکہ ربُّ الافواج فرماتا ہے مَیں اُن کی مُخالفت کو اُٹھوں گا اور مَیں بابل کا نام مِٹاؤُں گا اور اُن کو جو باقی ہیں بیٹوں اور پوتوں سمیت کاٹ ڈالُوں گا۔ یہ خُداوند کا فرمان ہے۔
23
ربُّ الافواج فرماتا ہے مَیں اُسے خارپُشت کی مِیراث اور تالاب بنا دُوں گا اور مَیں اُسے فنا کے جھاڑُو سے صاف کر دُوں گا۔
24
ربُّ الافواج قَسم کھا کر فرماتا ہے کہ یقِیناً جَیسا مَیں نے چاہا وَیسا ہی ہو جائے گا اور جَیسا مَیں نے اِرادہ کِیا ہے وَیسا ہی وُقُوع میں آئے گا۔
25
مَیں اپنے ہی مُلک میں اسُوری کو شِکست دُوں گا اور اپنے پہاڑوں پر اُسے پاؤں تلے لتاڑُوں گا۔ تب اُس کا جُوأ اُن پر سے اُترے گا اور اُس کا بوجھ اُن کے کندھوں پر سے ٹلے گا۔
26
ساری دُنیا کی بابت یِہی ہے اور سب قَوموں پر یِہی ہاتھ بڑھایا گیا ہے۔
27
کیونکہ ربُّ الافواج نے اِرادہ کِیا ہے۔ کَون اُسے باطِل کرے گا؟ اور اُس کا ہاتھ بڑھایا گیا ہے۔ اُسے کَون روکے گا؟
28
جِس سال آخز بادشاہ نے وفات پائی اُسی سال یہ بارِ نبُوّت آیا۔
29
اَے کُل فلِستِین تُو اِس پر خُوش نہ ہو کہ تُجھے مارنے والا لٹھ ٹُوٹ گیا کیونکہ سانپ کی اصل سے ایک ناگ نِکلے گا اور اُس کا پَھل ایک اُڑنے والا آتِشی سانپ ہو گا۔
30
تب مِسکِینوں کے پہلوٹھے کھائیں گے اور مُحتاج آرام سے سوئیں گے پر مَیں تیری جڑ کال سے برباد کر دُوں گا اور تیرے باقی لوگ قتل کِئے جائیں گے۔
31
اَے پھاٹک! تُو واوَیلا کر۔ اَے شہر! تُو چِلاّ۔ اَے فلِستِین تُو بِالکُل گُداز ہو گئی کیونکہ شِمال سے ایک دُھواں اُٹھے گا اور اُس کے لشکروں میں سے کوئی پِیچھے نہ رہ جائے گا۔
32
اُس وقت قَوم کے قاصِدوں کو کوئی کیا جواب دے گا؟ کہ خُداوند نے صِیُّون کو تعمِیر کِیا ہے اور اُس میں اُس کے مِسکِین بندے پناہ لیں گے۔
← Chapter 13
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 15 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66