bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Isaiah 42
Isaiah 42
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 41
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 43 →
1
دیکھو میرا خادِم جِس کو مَیں سنبھالتا ہُوں۔ میرا برگُزِیدہ جِس سے میرا دِل خُوش ہے۔ مَیں نے اپنی رُوح اُس پر ڈالی۔ وہ قَوموں میں عدالت جاری کرے گا۔
2
وہ نہ چِلاّئے گا اور نہ شور کرے گا اور نہ بازاروں میں اُس کی آواز سُنائی دے گی۔
3
وہ مسلے ہُوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور ٹمٹاتی بتّی کو نہ بُجھائے گا۔ وہ راستی سے عدالت کرے گا۔
4
وہ ماندہ نہ ہو گا اور ہمّت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمِین پر قائِم نہ کر لے۔ جزِیرے اُس کی شرِیعت کا اِنتظار کریں گے۔
5
جِس نے آسمان کو پَیدا کِیا اور تان دِیا۔ جِس نے زمِین کو اور اُن کو جو اُس میں سے نِکلتے ہیں پَھیلایا۔ جو اُس کے باشِندوں کو سانس اور اُس پر چلنے والوں کو رُوح عِنایت کرتا ہے یعنی خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے۔
6
مَیں خُداوند نے تُجھے صداقت سے بُلایا۔ مَیں ہی تیرا ہاتھ پکڑُوں گا اور تیری حِفاظت کرُوں گا اور لوگوں کے عہد اور قَوموں کے نُور کے لِئے تُجھے دُوں گا۔
7
کہ تُو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسِیروں کو قَید سے نِکالے اور اُن کو جو اندھیرے میں بَیٹھے ہیں قَید خانہ سے چُھڑائے۔
8
یہوواؔہ مَیں ہُوں۔ یِہی میرا نام ہے۔ مَیں اپنا جلال کِسی دُوسرے کے لِئے اور اپنی حمد کھودی ہُوئی مُورتوں کے لِئے روا نہ رکُھّوں گا۔
9
دیکھو پُرانی باتیں پُوری ہو گئِیں اور مَیں نئی باتیں بتاتا ہُوں۔ اِس سے پیشتر کہ واقِع ہوں مَیں تُم سے بیان کرتا ہُوں۔
10
اَے سمُندر پر گُذرنے والو اور اُس میں بسنے والو! اے جزِیرو اور اُن کے باشِندو خُداوند کے لِئے نیا گِیت گاؤ۔ زمِین پر سر تا سِر اُسی کی سِتایش کرو۔
11
بیابان اور اُس کی بستِیاں۔ قِیدار کے آباد گاؤں اپنی آواز بُلند کریں۔ سلع کے بسنے والے گِیت گائیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں۔
12
وہ خُداوند کا جلال ظاہِر کریں اور جزِیروں میں اُس کی ثنا خوانی کریں۔
13
خُداوند بہادُر کی مانِند نِکلے گا۔ وہ جنگی مَرد کی مانِند اپنی غَیرت دِکھائے گا۔ وہ نعرہ مارے گا۔ ہاں وہ للکارے گا۔ وہ اپنے دُشمنوں پر غالِب آئے گا۔
14
مَیں بُہت مُدّت سے چُپ رہا۔ مَیں خاموش ہو رہا اور ضبط کرتا رہا پر اب مَیں دردِ زِہ والی کی طرح چِلاّؤُں گا۔ مَیں ہا نپُوں گا اور زور زور سے سانس لُوں گا۔
15
مَیں پہاڑوں اور ٹِیلوں کو وِیران کر ڈالُوں گا اور اُن کے سبزہ زاروں کو خُشک کرُوں گا اور اُن کی ندیوں کو جزِیرے بناؤُں گا اور تالابوں کو سُکھا دُوں گا۔
16
اور اندھوں کو اُس راہ سے جِسے وہ نہیں جانتے لے جاؤُں گا۔ مَیں اُن کو اُن راستوں پر جِن سے وہ آگاہ نہیں لے چلُوں گا۔ مَیں اُن کے آگے تارِیکی کو روشنی اور اُونچی نِیچی جگہوں کو ہموار کر دُوں گا۔ مَیں اُن سے یہ سلُوک کرُوں گا اور اُن کو ترک نہ کرُوں گا۔
17
جو کھودی ہُوئی مُورتوں پر بھروسا کرتے اور ڈھالے ہُوئے بُتوں سے کہتے ہیں تُم ہمارے معبُود ہو وہ پِیچھے ہٹیں گے اور بُہت شرمِندہ ہوں گے۔
18
اَے بہرو سُنو! اَے اندھو! نظر کرو تاکہ تُم دیکھو۔
19
میرے خادِم کے سِوا اندھا کَون ہے؟ اور کَون اَیسا بہرا ہے جَیسا میرا رسُول جِسے مَیں بھیجتا ہُوں؟ میرے دوست کی اور خُداوند کے خادِم کی مانِند نابِینا کَون ہے؟
20
تُو بُہت سی چِیزوں پر نظر کرتا ہے پر دیکھتا نہیں۔ کان تو کُھلے ہیں پر سُنتا نہیں۔
21
خُداوند کو پسند آیا کہ اپنی صداقت کی خاطِر شرِیعت کو بزُرگی دے اور اُسے قابِلِ تعظِیم بنائے۔
22
لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو لُٹ گئے اور غارت ہُوئے۔ وہ سب کے سب زِندانوں میں گرِفتار اور قَیدخانوں میں پوشِیدہ ہیں۔ وہ شِکار ہُوئے اور کوئی نہیں چُھڑاتا۔ وہ لُٹ گئے اور کوئی نہیں کہتا پھیر دو۔
23
تُم میں کَون ہے جو اِس پر کان لگائے؟ جو آیندہ کی بابت توجُّہ سے سُنے؟
24
کِس نے یعقُوبؔ کو حوالہ کِیا کہ غارت ہو اور اِسرائیل کو کہ لُٹیروں کے ہاتھ میں پڑے؟ کیا خُداوند نے نہیں جِس کے خِلاف ہم نے گُناہ کِیا؟ کیونکہ اُنہوں نے نہ چاہا کہ اُس کی راہوں پر چلیں اور وہ اُس کی شرِیعت کے تابِع نہ ہُوئے۔
25
اِس لِئے اُس نے اپنے قہر کی شِدّت اور جنگ کی سختی کو اُس پر ڈالا اور اُسے ہر طرف سے آگ لگ گئی پر وہ اُسے دریافت نہیں کرتا۔ وہ اُس سے جل جاتا ہے پر خاطِر میں نہیں لاتا۔
← Chapter 41
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 43 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66