bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Isaiah 21
Isaiah 21
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 20
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 22 →
1
دشتِ دریا کی بابت بارِ نبُوّت۔ جِس طرح جنُوبی گِردباد زور سے چلا آتا ہے اُسی طرح وہ دشت سے اور مُہِیب سرزمِین سے نزدِیک آ رہا ہے۔
2
ایک ہَولناک رویا مُجھے نظر آئی۔ دغاباز دغابازی کرتا ہے اور غارت گر غارت کرتا ہے۔ اَے عیلاؔم چڑھائی کر۔ اَے مادَی مُحاصرہ کر۔ مَیں وہ سب کراہنا جو اُس کے سبب سے ہُؤا مَوقُوف کرتا ہُوں۔
3
سو میری کمر میں سخت درد ہے اور مَیں گویا دَردِ زِہ میں تڑپتا ہُوں۔ مَیں اَیسا ہِراسان ہُوں کہ سُن نہیں سکتا۔ مَیں اَیسا پریشان ہُوں کہ دیکھ نہیں سکتا۔
4
میرا دِل دھڑکتا ہے اور ہَول یکایک مُجھ پر غالِب آ گیا۔ شفقِ شام جِس کا مَیں آرزُو مند تھا میرے لِئے خَوفناک ہو گئی۔
5
دسترخوان بِچھایا گیا۔ نِگہبان کھڑا کِیا گیا۔ وہ کھاتے ہیں اور پِیتے ہیں۔ اُٹھو اَے سردارو! سِپر پر تیل ملو۔
6
کیونکہ خُداوند نے مُجھے یُوں فرمایا کہ جا نِگہبان بِٹھا۔ وہ جو کُچھ دیکھے سو بتائے۔
7
اُس نے سوار دیکھے جو دو دو آتے تھے اور گدھوں اور اُونٹوں پر سوار۔ اور اُس نے بڑے غَور سے سُنا۔
8
تب اُس نے شیر کی سی آواز سے پُکارا اَے خُداوند! مَیں اپنی دِیدگاہ پر تمام دِن کھڑا رہا اور مَیں نے ہر رات پہرے کی جگہ پر کاٹی۔
9
اور دیکھ سِپاہِیوں کے غول اور اُن کے سوار دو دو کر کے آتے ہیں۔ پِھر اُس نے یُوں کہا کہ بابل گِر پڑا گِر پڑا اور اُس کے معبُودوں کی سب تراشی ہُوئی مُورتیں بِالکُل ٹُوٹی پڑی ہیں۔
10
اَے میرے گاہے ہُوئے اور میرے کھلِیہان کے غلّہ جو کُچھ مَیں نے ربُّ الافواج اِسرائیل کے خُدا سے سُنا تُم سے کہہ دِیا۔
11
دُومہ کی بابت بارِ نُبوّت۔ کِسی نے مُجھ کو شعِیر سے پُکارا کہ اَے نِگہبان رات کی کیا خبر ہے؟ اَے نِگہبان رات کی کیا خبر ہے؟
12
نِگہبان نے کہا صُبح ہوتی ہے اور رات بھی۔ اگر تُم پُوچھنا چاہتے ہو تو پُوچھو۔ تُم پِھر آنا۔
13
عرب کے بابت بارِ نُبوّت۔ اَے ددانِیوں کے قافِلو تُم عرب کے جنگل میں رات کاٹو گے۔
14
وہ پِیاسے کے پاس پانی لائے۔ تیما کی سرزمِین کے باشِندے روٹی لے کر بھاگنے والے سے مِلنے کو نِکلے۔
15
کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہُوئی کمان سے اور جنگ کی شِدّت سے بھاگے ہیں۔
16
کیونکہ خُداوند نے مُجھ سے یُوں فرمایا کہ مزدُور کے برسوں کے مُطابِق ایک برس کے اندر اندر قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی۔
17
اور تِیر اندازوں کی تعداد کا بقِیّہ یعنی بنی قیدار کے بہادُر تھوڑے سے ہوں گے کیونکہ خُداوند اِسرائیل کے خُدا نے یُوں فرمایا ہے۔
← Chapter 20
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 22 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66