bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Isaiah 36
Isaiah 36
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 35
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 37 →
1
اور حِزقیاہ بادشاہ کی سلطنت کے چَودھویں برس یُوں ہُؤا کہ شاہِ اسُور سنحیرِؔیب نے یہُوداؔہ کے سب فصِیل دار شہروں پر چڑھائی کی اور اُن کو لے لِیا۔
2
اور شاہِ اسُور نے ربشاقی کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ لکِیس سے حِزقیاہ کے پاس یروشلیِم کو بھیجا اور اُس نے اُوپر کے تالاب کی نالی پر دھوبیوں کے مَیدان کی راہ میں مقام کِیا۔
3
تب الِیاقِیم بِن خِلقیاہ جو گھر کا دِیوان تھا اور شبنا مُنشی اور مُحرِّر یُوآؔخ بِن آسف نِکل کر اُس کے پاس آئے۔
4
اور ربشاقی نے اُن سے کہا تُم حِزقیاہ سے کہو کہ ملِکِ مُعظّم شاہِ اسُور یُوں فرماتا ہے کہ تُو کیا اِعتماد کِئے بَیٹھا ہے؟
5
کیا مشورَت اور جنگ کی قُوّت مُنہ کی باتیں ہی ہیں؟ آخِر کِس کے بِرتے پر تُو نے مُجھ سے سرکشی کی ہے؟
6
دیکھ تُجھے اُس مسلے ہُوئے سرکنڈے کے عصا یعنی مِصرؔ پر بھروسا ہے۔ اُس پر اگر کوئی ٹیک لگائے تو وہ اُس کے ہاتھ میں گڑ جائے گا اور اُسے چھید دے گا۔ شاہِ مِصرؔ فرِعونؔ اُن سب کے لِئے جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں اَیسا ہی ہے۔
7
پر اگر تُو مُجھ سے یُوں کہے کہ ہمارا توکُّل خُداوند ہمارے خُدا پر ہے تو کیا وہ وُہی نہیں ہے جِس کے اُونچے مقاموں اور مذبحوں کو ڈھا کر حِزقیاہ نے یہُوداؔہ اور یروشلیِم سے کہا ہے کہ تُم اِس مذبح کے آگے سِجدہ کِیا کرو؟
8
اِس لِئے اب ذرا میرے آقا شاہِ اسُور کے ساتھ شرط باندھ اور مَیں تُجھے دو ہزار گھوڑے دُوں گا بشرطیکہ تُو اپنی طرف سے اُن پر سوار چڑھا سکے۔
9
بھلا پِھر تُو کیونکر میرے آقا کے کمترِین مُلازِموں میں سے ایک سردار کا بھی مُنہ پھیر سکتا ہے؟ اور تُو رتھوں اور سواروں کے لِئے مِصرؔ پر بھروسا کرتا ہے؟
10
اور کیا اب مَیں نے خُداوند کے بے کہے ہی اِس مقام کو غارت کرنے کے لِئے اِس پر چڑھائی کی ہے؟ خُداوند ہی نے تو مُجھ سے کہا کہ اِس مُلک پر چڑھائی کر اور اِسے غارت کر دے۔
11
تب الیاقِیم اور شبنا اور یُوآخ نے ربشاقی سے عرض کی کہ اپنے خادِموں سے ارامی زُبان میں بات کر کیونکہ ہم اُسے سمجھتے ہیں اور دِیوار پر کے لوگوں کے سُنتے ہُوئے یہُودیوں کی زُبان میں ہم سے بات نہ کر۔
12
لیکن ربشاقی نے کہا کیا میرے آقا نے مُجھے یہ باتیں کہنے کو تیرے آقا کے پاس یا تیرے پاس بھیجا ہے؟ کیا اُس نے مُجھے اُن لوگوں کے پاس نہیں بھیجا جو تُمہارے ساتھ اپنی ہی نجاست کھانے اور اپنا ہی قارُورہ پِینے کو دِیوار پر بَیٹھے ہیں؟
13
پِھر ربشاقی کھڑا ہو گیا اور یہُودیوں کی زُبان میں بُلند آواز سے یُوں کہنے لگا کہ ملکِ مُعظّم شاہِ اسُور کا کلام سُنو۔
14
بادشاہ یُوں فرماتا ہے کہ حِزقیاہ تُم کو فریب نہ دے کیونکہ وہ تُم کو چُھڑا نہیں سکے گا۔
15
اور نہ وہ یہ کہہ کر تُم سے خُداوند پر بھروسا کرائے کہ خُداوند ضرُور ہم کو چُھڑائے گا اور یہ شہر شاہِ اسُور کے حوالہ نہ کِیا جائے گا۔
16
حِزقیاہ کی نہ سُنو کیونکہ شاہِ اسُور یُوں فرماتا ہے کہ تُم مُجھ سے صُلح کر لو اور نِکل کر میرے پاس آؤ اور تُم میں سے ہر ایک اپنی تاک اور اپنے انجِیر کے درخت کا میوہ کھاتا اور اپنے حَوض کا پانی پِیتا رہے۔
17
جب تک کہ مَیں آ کر تُم کو اَیسے مُلک میں نہ لے جاؤُں جو تُمہارے مُلک کی مانِند غلّہ اور مَے کا مُلک۔ روٹی اور تاکِستانوں کا مُلک ہے۔
18
خبردار! اَیسا نہ ہو کہ حِزقیاہ تُم کو یہ کہہ کر ترغِیب دے کہ خُداوند ہم کو چُھڑائے گا کیا قَوموں کے معبُودوں میں سے کِسی نے بھی اپنے مُلک کو شاہِ اسُور کے ہاتھ سے چُھڑایا ہے؟
19
حمات اور ارفاؔد کے دیوتا کہاں ہیں؟ سِفروائِیم کے دیوتا کہاں ہیں؟ کیا اُنہوں نے سامرِؔیہ کو میرے ہاتھ سے بچا لِیا؟
20
اِن مُلکوں کے تمام دیوتاؤں میں سے کِس کِس نے اپنا مُلک میرے ہاتھ سے چُھڑا لِیا جو خُداوند بھی یروشلیِم کو میرے ہاتھ سے چُھڑا لے گا؟
21
لیکن وہ خاموش رہے اور اُس کے جواب میں اُنہوں نے ایک بات بھی نہ کہی کیونکہ بادشاہ کا حُکم یہ تھا کہ اُسے جواب نہ دینا۔
22
اور الِیاقِیم بِن خِلقیاہ جو گھر کا دِیوان تھا اور شبنا مُنشی اور یُوآخ بِن آسف مُحرِّر اپنے کپڑے چاک کِئے ہُوئے حِزقیاہ کے پاس آئے اور ربشاقی کی باتیں اُسے سُنائِیں۔
← Chapter 35
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 37 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66