bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Isaiah 19
Isaiah 19
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 18
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 20 →
1
مِصرؔ کی بابت بارِ نبُوّت۔ دیکھو خُداوند ایک تیز رَو بادل پر سوار ہو کر مِصرؔ میں آتا ہے اور مِصرؔ کے بُت اُس کے حضُور لرزان ہوں گے اور مِصرؔ کا دِل پِگھل جائے گا۔
2
اور مَیں مِصریوں کو آپس میں مُخالِف کر دُوں گا۔ اُن میں ہر ایک اپنے بھائی سے اور ہر ایک اپنے ہمسایہ سے لڑے گا۔ شہر شہر سے اور صُوبہ صُوبہ سے۔
3
اور مِصرؔ کی رُوح افسُردہ ہو جائے گی اور مَیں اُس کے منصُوبہ کو فنا کرُوں گا اور وہ بُتوں اور افسُوں گروں اور جِنّات کے یاروں اور جادُوگروں کی تلاش کریں گے۔
4
پر مَیں مِصریوں کو ایک سِتم گر حاکِم کے قابُو میں کر دُوں گا اور زبردست بادشاہ اُن پر سلطنت کرے گا۔ یہ خُداوند ربُّ الافواج کا فرمان ہے۔
5
اور دریا کا پانی سُوکھ جائے گا اور ندی خُشک اور خالی ہو جائے گی۔
6
اور نالے بدبُو ہو جائیں گے اور مِصرؔ کی نہریں خالی ہوں گی اور سُوکھ جائیں گی اور بید اور نَے مُرجھا جائیں گے۔
7
دریائے نِیل کے کنارہ کی چراگاہیں اور وہ سب چِیزیں جو اُس کے آس پاس بوئی جاتی ہیں مُرجھا جائیں گی اور بِالکُل نیست و نابُود ہو جائیں گی۔
8
تب ماہی گِیر ماتم کریں گے اور وہ سب جو دریا میں شست ڈالتے ہیں غمگِین ہوں گے اور پانی میں جال ڈالنے والے نِہایت بیتاب ہو جائیں گے۔
9
اور سَن جھاڑنے اور کتان بُننے والے گھبرا جائیں گے۔
10
ہاں اُس کے ارکان شِکستہ اور تمام مزدُور رنجِیدہ خاطِر ہوں گے۔
11
ضُعن کے شاہزادے بِالکُل احمق ہیں۔ فرِعونؔ کے سب سے دانِش مند مُشِیروں کی مشوَرت وحشیانہ ٹھہری۔ پس تُم کیونکر فرِعونؔ سے کہتے ہو کہ مَیں دانِش مندوں کا فرزند اور شاہانِ قدِیم کی نسل ہُوں؟
12
اب تیرے دانِشور کہاں ہیں؟ وہ تُجھے خبر دیں اگر وہ جانتے ہوں کہ ربُّ الافواج نے مِصرؔ کے حق میں کیا اِرادہ کِیا ہے۔
13
ضُعن کے شاہزادے احمق بن گئے ہیں۔ نُوف کے شاہزادوں نے فریب کھایا اور جِن پر مِصری قبائِل کا بھروسا تھا اُن ہی نے اُن کو گُمراہ کِیا۔
14
خُداوند نے کج رَوی کی رُوح اُن میں ڈال دی ہے اور اُنہوں نے مِصریوں کو اُن کے سب کاموں میں اُس متوالے کی طرح بھٹکایا جو قَے کرتے ہُوئے ڈگمگاتا ہے۔
15
اور مِصریوں کا کوئی کام نہ ہو گا جو سر یا دُم یا خاص و عام کر سکے۔
16
اُس وقت ربُّ الافواج کے ہاتھ چلانے سے جو وہ مِصرؔ پر چلائے گا مِصری عَورتوں کی مانِند ہو جائیں گے اور ہَیبت زدہ اور ہِراسان ہوں گے۔
17
تب یہُوداؔہ کا مُلک مِصرؔ کے لِئے دہشت ناک ہو گا۔ ہر ایک جِس سے اُس کا ذِکر ہو خَوف کھائے گا۔ اُس اِرادہ کے سبب سے جو ربُّ الافواج نے اُن کے خِلاف کر رکھّا ہے۔
18
اُس روز مُلکِ مِصرؔ میں پانچ شہر ہوں گے جو کنعانی زُبان بولیں گے اور ربُّ الافواج کی قَسم کھائیں گے۔ اُن میں سے ایک کا نام شہرِ آفتاب ہو گا۔
19
اُس وقت مُلکِ مِصرؔ کے وسط میں خُداوند کا ایک مذبح اور اُس کی سرحد پر خُداوند کا ایک سُتُون ہو گا۔
20
اور وہ مُلکِ مِصرؔ میں ربُّ الافواج کے لِئے نِشان اور گواہ ہو گا اِس لِئے کہ وہ سِتم گروں کے ظُلم سے خُداوند سے فریاد کریں گے اور وہ اُن کے لِئے رہائی دینے والا اور حامی بھیجے گا اور وہ اُن کو رہائی دے گا۔
21
اور خُداوند اپنے آپ کو مِصریوں پر ظاہِر کرے گا اور اُس وقت مِصری خُداوند کو پہچانیں گے اور ذبِیحے اور ہدئے گُذرانیں گے ہاں وہ خُداوند کے لِئے مَنّت مانیں گے اور ادا کریں گے۔
22
اور خُداوند مِصریوں کو مارے گا۔ مارے گا اور شِفا بخشے گا اور وہ خُداوند کی طرف رجُوع لائیں گے اور وہ اُن کی دُعا سُنے گا اور اُن کو صِحت بخشے گا۔
23
اُس وقت مِصرؔ سے اسُور تک ایک شاہراہ ہو گی اور اسُوری مِصرؔ میں آئیں گے اور مِصری اسُور کو جائیں گے۔ اور مِصری اسُوریوں کے ساتھ مِل کر عِبادت کریں گے۔
24
تب اِسرائیل مِصرؔ اور اسُور کے ساتھ تِیسرا ہو گا اور رُویِ زمِین پر برکت کا باعِث ٹھہرے گا۔
25
کیونکہ ربُّ الافواج اُن کو برکت بخشے گا اور فرمائے گا مُبارک ہو مِصرؔ میری اُمّت اسُور میرے ہاتھ کی صنعت اور اِسرائیل میری مِیراث۔
← Chapter 18
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 53
Chapter 54
Chapter 55
Chapter 56
Chapter 57
Chapter 58
Chapter 59
Chapter 60
Chapter 61
Chapter 62
Chapter 63
Chapter 64
Chapter 65
Chapter 66
Chapter 20 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66