bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Jeremiah 13
Jeremiah 13
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 12
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 14 →
1
خُداوند نے مُجھے یُوں فرمایا کہ تُو جا کر اپنے لِئے ایک کتانی کمربند خرِید لے اور اپنی کمر پر باندھ پر اُسے پانی میں مت بِھگو۔
2
سو مَیں نے خُداوند کے کلام کے مُوافِق ایک کمربند خرِید لِیا اور اپنی کمر پر باندھا۔
3
اور خُداوند کا کلام دوبارہ مُجھ پر نازِل ہُؤا اور اُس نے فرمایا۔
4
کہ اِس کمربند کو جو تُو نے خرِیدا اور جو تیری کمر پر ہے لے کر اُٹھ اور فُرات کو جا اور وہاں چٹان کے ایک شِگاف میں اُسے چِھپا دے۔
5
چُنانچہ مَیں گیا اور اُسے فُرات کے کنارے چِھپا دِیا جَیسا خُداوند نے مُجھے فرمایا تھا۔
6
اور بُہت دِنوں کے بعد یُوں ہُؤا کہ خُداوند نے مُجھے فرمایا کہ اُٹھ فُرات کی طرف جا اور اُس کمربند کو جِسے تُو نے میرے حُکم سے وہاں چِھپا رکھّا ہے نِکال لے۔
7
تب مَیں فُرات کو گیا اور کھودا اور کمربند کو اُس جگہ سے جہاں مَیں نے اُسے گاڑ دِیا تھا نِکالا اور دیکھ وہ کمربند اَیسا خراب ہو گیا تھا کہ کِسی کام کا نہ رہا۔
8
تب خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہُؤا
9
کہ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ اِسی طرح مَیں یہُوداؔہ کے گَھمنڈ اور یروشلیِم کے بڑے غُرُور کو نیست کرُوں گا۔
10
یہ شرِیر لوگ جو میرا کلام سُننے سے اِنکار کرتے ہیں اور اپنے ہی دِل کی سختی کے پَیرو ہوتے اور غَیر معبُودوں کے طالِب ہو کر اُن کی عِبادت کرتے اور اُن کو پُوجتے ہیں وہ اِس کمربند کی مانِند ہوں گے جو کِسی کام کا نہیں۔
11
کیونکہ جَیسا کمربند اِنسان کی کمر سے لِپٹا رہتا ہے وَیسا ہی خُداوند فرماتا ہے مَیں نے اِسرائیل کے تمام گھرانے اور یہُوداؔہ کے تمام گھرانے کو لِیا کہ مُجھ سے لِپٹے رہیں تاکہ وہ میرے لوگ ہوں اور اُن کے سبب سے میرا نام ہو اور میری سِتایش کی جائے اور میرا جلال ہو پر اُنہوں نے نہ سُنا۔
12
پس تُو اُن سے یہ بات بھی کہہ دے کہ خُداوند اِسرائیل کا خُدا یُوں فرماتا ہے کہ ہر ایک مٹکے میں مَے بھری جائے گی اور وہ تُجھ سے کہیں گے کیا ہم نہیں جانتے کہ ہر ایک مٹکے میں مَے بھری جائے گی؟
13
تب تُو اُن سے کہنا خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ دیکھو مَیں اِس مُلک کے سب باشِندوں کو ہاں اُن بادشاہوں کو جو داؤُد کے تخت پر بَیٹھتے ہیں اور کاہِنوں اور نبِیوں اور یروشلیِم کے سب باشِندوں کو مستی سے بھر دُوں گا۔
14
اور مَیں اُن کو ایک دُوسرے پر یہاں تک کہ باپ کو بیٹوں پر دے مارُوں گا۔ خُداوند فرماتا ہے مَیں نہ شفقت کرُوں گا نہ رِعایت اور نہ رحم کرُوں گا کہ اُن کو ہلاک نہ کرُوں۔
15
سُنو اور کان لگاؤ۔ گَھمنڈ نہ کرو کیونکہ خُداوند نے فرمایا ہے۔
16
خُداوند اپنے خُدا کی تمجِید کرو اِس سے پہلے کہ وہ تارِیکی لائے اور تُمہارے پاؤں گُھپ اندھیرے میں ٹھوکر کھائیں اور جب تُم رَوشنی کا اِنتِظار کرو تو وہ اُسے مَوت کے سایہ سے بدل ڈالے اور اُسے سخت تارِیکی بنا دے۔
17
لیکن اگر تُم نہ سُنو گے تو میری جان تُمہارے غُرور کے سبب سے خَلوت خانوں میں غم کھایا کرے گی۔ ہاں میری آنکھیں پُھوٹ پُھوٹ کر روئیں گی اور آنسُو بہائیں گی کیونکہ خُداوند کا گلّہ اَسِیری میں چلا گیا۔
18
بادشاہ اور اُس کی والِدہ سے کہہ کہ عاجِزی کرو اور نِیچے بَیٹھو کیونکہ تُمہاری بزُرگی کا تاج تُمہارے سر پر سے اُتار لِیا گیا ہے۔
19
جنُوب کے شہر بند ہو گئے اور کوئی نہیں کھولتا۔ سب بنی یہُوداؔہ اسِیر ہو گئے۔ سب کو اسِیر کر کے لے گئے۔
20
اپنی آنکھیں اُٹھا اور اُن کو جو شِمال سے آتے ہیں دیکھ۔ وہ گلّہ جو تُجھے دِیا گیا تھا۔ تیرا خُوش نُما گلّہ کہاں ہے؟
21
جب وہ تُجھ پر اُن کو مُقرّر کرے گا جِن کو تُو نے اپنی حِمایت کی تعلِیم دی ہے تو تُو کیا کہے گی؟ کیا تُو اُس عَورت کی مانِند جِسے دردِ زِہ ہو درد میں مُبتلا نہ ہو گی؟
22
اور اگر تُو اپنے دِل میں کہے کہ یہ حادِثے مُجھ پر کیوں گُذرے؟ تیری بدکرداری کی شِدّت سے تیرا دامن اُٹھایا گیا اور تیری ایڑِیاں جبراً برہنہ کی گئِیں۔
23
حبشی اپنے چمڑے کو یا چِیتا اپنے داغوں کو بدل سکے تو تُم بھی جو بدی کے عادی ہو نیکی کر سکو گے۔
24
اِس لِئے مَیں اُن کو اُس بُھوسے کی مانِند جو بیابان کی ہوا سے اُڑتا پِھرتا ہے تِتّربِتّر کرُوں گا۔
25
خُداوند فرماتا ہے کہ میری طرف سے یِہی تیرا بخرہ تیرا نپا ہُؤا حِصّہ ہے کیونکہ تُو نے مُجھے فراموش کر کے بُطلان پر توکُّل کِیا ہے۔
26
پس مَیں بھی تیرا دامن تیرے سامنے سے اُٹھا دُوں گا تاکہ تُو بے پردہ ہو۔
27
مَیں نے تیری بدکاری تیرا ہِنہنانا تیری حرام کاری اور تیرے نفرت انگیز کام جو تُو نے پہاڑوں پر اور مَیدانوں میں کِئے دیکھے ہیں۔ اَے یروشلیِم تُجھ پر افسوس! تُو اپنے آپ کو کب تک پاک و صاف نہ کرے گی؟
← Chapter 12
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 14 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52