bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Jeremiah 14
Jeremiah 14
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 13
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 15 →
1
خُداوند کا وہ کلام جو خُشک سالی کی بابت یَرمِیاؔہ پر نازِل ہُؤا۔:۔
2
یہُوداؔہ ماتم کرتا ہے اور اُس کے پھاٹکوں پر اُداسی چھائی ہے۔ وہ ماتمی لِباس میں خاک پر بَیٹھے ہیں اور یروشلیِم کا نالہ بُلند ہُؤا ہے۔
3
اُن کے اُمرا اپنے ادنیٰ لوگوں کو پانی کے لِئے بھیجتے ہیں۔ وہ چشموں تک جاتے ہیں پر پانی نہیں پاتے اور خالی گھڑے لِئے لَوٹ آتے ہیں۔ وہ شرمِندہ و پشیمان ہو کر اپنے سر ڈھانپتے ہیں۔
4
چُونکہ مُلک میں بارِش نہ ہُوئی اِس لِئے زمِین پھٹ گئی اور کِسان سراسِیمہ ہُوئے۔ وہ اپنے سر ڈھانپتے ہیں۔
5
چُنانچہ ہرنی مَیدان میں بچّہ دے کر اُسے چھوڑ دیتی ہے کیونکہ گھاس نہیں مِلتی۔
6
اور گورخر اُونچی جگہوں پر کھڑے ہو کر گِیدڑوں کی مانِند ہانپتے ہیں۔ اُن کی آنکھیں رہ جاتی ہیں کیونکہ گھاس نہیں ہے۔
7
اگرچہ ہماری بدکرداری ہم پر گواہی دیتی ہے تَو بھی اَے خُداوند! اپنے نام کی خاطِر کُچھ کر کیونکہ ہماری برگشتگی بُہت ہے۔ ہم تیرے خطاکار ہیں۔
8
اَے اِسرائیل کی اُمّید! مُصِیبت کے وقت اُس کے بچانے والے! تُو کیوں مُلک میں پردیسی کی مانِند بنا اور اُس مُسافِر کی مانِند جو رات کاٹنے کے لِئے ڈیرا ڈالے؟
9
تُو کیوں اِنسان کی مانِند ہکّا بکّا ہے اور اُس بہادُر کی مانِند جو رہائی نہیں دے سکتا؟ بہر حال اَے خُداوند! تُو تو ہمارے درمِیان ہے اور ہم تیرے نام سے کہلاتے ہیں۔ تُو ہم کو ترک نہ کر۔
10
خُداوند اِن لوگوں سے یُوں فرماتا ہے کہ اِنہوں نے گُمراہی کو یُوں دوست رکھّا ہے اور اپنے پاؤں کو نہیں روکا اِس لِئے خُداوند اِن کو قبُول نہیں کرتا۔ اب وہ اِن کی بدکرداری یاد کرے گا اور اِن کے گُناہ کی سزا دے گا۔
11
اور خُداوند نے مُجھے فرمایا کہ اِن لوگوں کے لِئے دُعایِ خَیر نہ کر۔
12
کیونکہ جب یہ روزہ رکھّیں تو مَیں اِن کا نالہ نہ سنُوں گا اور جب سوختنی قُربانی اور ہدیہ گُذرانیں تو قبُول نہ کرُوں گا بلکہ مَیں تلوار اور کال اور وبا سے اِن کو ہلاک کرُوں گا۔
13
تب مَیں نے کہا آہ! اَے خُداوند خُدا دیکھ انبیا اُن سے کہتے ہیں تُم تلوار نہ دیکھو گے اور تُم میں کال نہ پڑے گا بلکہ مَیں اِس مقام میں تُم کو حقِیقی سلامتی بخشُوں گا۔
14
تب خُداوند نے مُجھے فرمایا کہ انبیا میرا نام لے کر جُھوٹی نبُوّت کرتے ہیں۔ مَیں نے نہ اُن کو بھیجا اور نہ حُکم دِیا اور نہ اُن سے کلام کِیا۔ وہ جُھوٹی رُویا اور جُھوٹا عِلمِ غَیب اور بطالت اور اپنے دِلوں کی مکّاری نبُوّت کی صُورت میں تُم پر ظاہِر کرتے ہیں۔
15
اِس لِئے خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ وہ نبی جِن کو مَیں نے نہیں بھیجا جو میرا نام لے کر نُبوّت کرتے اور کہتے ہیں کہ تلوار اور کال اِس مُلک میں نہ آئیں گے وہ تلوار اور کال ہی سے ہلاک ہوں گے۔
16
اور جِن لوگوں سے وہ نبُوّت کرتے ہیں وہ کال اور تلوار کے سبب سے یروشلیِم کے کُوچوں میں پھینک دِئے جائیں گے۔ اُن کو اور اُن کی بِیوِیوں اور اُن کے بیٹوں اور اُن کی بیٹِیوں کو دفن کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ مَیں اُن کی بُرائی اُن پر اُنڈیل دُوں گا۔
17
اور تُو اُن سے یُوں کہنا کہ میری آنکھیں شب و روز آنسُو بہائیں اور ہرگِز نہ تھمیں کیونکہ میری کُنواری دُخترِ قَوم بڑی خستگی اور ضربِ شدِید سے شِکستہ ہے۔
18
اگر مَیں باہر مَیدان میں جاؤُں تو وہاں تلوار کے مقتُول ہیں! اور اگر مَیں شہر میں داخِل ہوؤں تو وہاں کال کے مارے ہیں! ہاں نبی اور کاہِن دونوں ایک اَیسے مُلک کو جائیں گے جِسے وہ نہیں جانتے۔
19
کیا تُو نے یہُوداؔہ کو بِالکُل رَدّ کر دِیا؟ کیا تیری جان کو صِیُّون سے نفرت ہے؟ تُو نے ہم کو کیوں مارا اور ہمارے لِئے شِفا نہیں؟ سلامتی کا اِنتِظار تھا پر کُچھ فائِدہ نہ ہُؤا اور شِفا کے وقت کا پر دیکھو دہشت!
20
اَے خُداوند! ہم اپنی شرارت اور اپنے باپ دادا کی بدکرداری کا اِقرار کرتے ہیں کیونکہ ہم نے تیرا گُناہ کِیا ہے۔
21
اپنے نام کی خاطِر رَدّ نہ کر اور اپنے جلال کے تخت کی تحقِیر نہ کر۔ یاد فرما اور ہم سے رِشتۂِ عہد کو نہ توڑ۔
22
قَوموں کے بُتوں میں کوئی ہے جو مِینہہ برسا سکے یا افلاک بارِش پر قادِر ہیں؟ اَے خُداوند ہمارے خُدا! کیا وہ تُو ہی نہیں ہے؟ پس ہم تُجھ ہی پر اُمّید رکھّیں گے کیونکہ تُو ہی نے یہ سب کام کِئے ہیں۔
← Chapter 13
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 15 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52