bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Jeremiah 46
Jeremiah 46
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 45
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 47 →
1
خُداوند کا کلام جو یَرمِیاؔہ نبی پر اقوام کی بابت نازِل ہُؤا۔
2
مِصرؔ کی بابت:۔ شاہِ مِصرؔ فرِعونؔ نِکوؔہ کی فَوج کی بابت جو دریایِ فُراؔت کے کنارے پر کرکمِیس میں تھی جِس کو شاہِ بابل نبُوکدؔرضر نے شاہِ یہُوداؔہ یہُویقِیم بِن یوسیاؔہ کے چَوتھے برس میں شِکست دی۔
3
سِپر اور ڈھال کو تیّار کرو اور لڑائی پر چلے آؤ۔
4
گھوڑوں پر ساز لگاؤ۔ اَے سوارو! تُم سوار ہو اور خَود پہن کر نِکلو۔ نیزوں کو صَیقل کرو۔ بکتر پہنو۔
5
مَیں اُن کو گھبرائے ہُوئے کیوں دیکھتا ہُوں؟ وہ پلٹ گئے۔ اُن کے بہادُروں نے شِکست کھائی۔ وہ بھاگ نِکلے اور پِیچھے پِھر کر نہیں دیکھتے کیونکہ چاروں طرف خَوف ہے خُداوند فرماتا ہے۔
6
نہ سبُکپا بھاگنے پائے گا نہ بہادُر بچ نِکلے گا۔ شِمال میں دریایِ فُراؔت کے کنارے اُنہوں نے ٹھوکر کھائی اور گِر پڑے۔
7
یہ کَون ہے جو دریایِ نِیل کی مانِند بڑھا چلا آتا ہے۔ جِس کا پانی سَیلاب کی مانِند مَوجزن ہے؟
8
مِصرؔ نِیل کی طرح اُٹھتا ہے اور اُس کا پانی سَیلاب کی مانِند مَوجزن ہے اور وہ کہتا ہے کہ مَیں چڑُھوں گا اور زمِین کو چِھپا لُوں گا۔ مَیں شہروں کو اور اُن کے باشِندوں کو نیست کر دُوں گا۔
9
گھوڑے برانگیختہ ہوں۔ رتھ ہوا ہو جائیں اور کُوؔش و فُوؔط کے بہادُر جو سِپر بردار ہیں اور لُودی جو کمان کشی اور تِیر اندازی میں ماہِر ہیں نِکلیں۔
10
کیونکہ یہ خُداوند ربُّ الافواج کا دِن یعنی اِنتقام کا روز ہے تاکہ وہ اپنے دُشمنوں سے اِنتقام لے۔ پس تلوار کھا جائے گی اور سیر ہو گی اور اُن کے خُون سے مست ہو گی کیونکہ خُداوند ربُّ الافواج کے لِئے شِمالی سرزمِین میں دریایِ فُراؔت کے کنارے ایک ذبِیحہ ہے۔
11
اَے کُنواری دُخترِ مِصرؔ! جِلعاد کو چڑھ جا اور بلسان لے۔ تُو بے فائِدہ طرح طرح کی دوائیں اِستعمال کرتی ہے۔ تُو شِفا نہ پائے گی۔
12
قَوموں نے تیری رُسوائی کا حال سُنا اور زمِین تیرے نالہ سے معمُور ہو گئی کیونکہ بہادُر ایک دُوسرے سے ٹکرا کر باہم گِر گئے۔
13
وہ کلام جو خُداوند نے یَرمِیاؔہ نبی کو شاہِ بابل نبُوکدؔرضر کے آنے اور مُلکِ مِصرؔ کو شِکست دینے کے بارے میں فرمایا۔
14
مِصرؔ میں آشکارا کرو۔ مِجداؔل میں اِشتہار دو ہاں نُوف اور تحفخِیس میں مُنادی کرو۔ کہو کہ اپنے آپ کو تیّار کر کیونکہ تلوار تیری چاروں طرف کھائے جاتی ہے۔
15
تیرے بہادُر کیوں بھاگ گئے؟ وہ کھڑے نہ رہ سکے کیونکہ خُداوند نے اُن کو گِرا دِیا۔
16
اُس نے بُہتوں کو گُمراہ کِیا۔ ہاں وہ ایک دُوسرے پر گِر پڑے اور اُنہوں نے کہا اُٹھو ہم مُہلک تلوار کے ظُلم سے اپنے لوگوں میں اور اپنے وطن کو پِھر جائیں۔
17
وہ وہاں چِلاّئے کہ شاہِ مِصرؔ فِرعَوؔن برباد ہُؤا۔ اُس نے مُقرّرہ وقت کو گُذر جانے دِیا۔
18
وہ بادشاہ جِس کا نام ربُّ الافواج ہے یُوں فرماتا ہے کہ مُجھے اپنی حیات کی قَسم جَیسا تبُور پہاڑوں میں اور جَیسا کرمِل سمُندر کے کنارے ہے وَیسا ہی وہ آئے گا۔
19
اَے بیٹی جو مِصرؔ میں رہتی ہے! اَسِیری میں جانے کا سامان کر کیونکہ نُوف وِیران اور بھسم ہو گا۔ اُس میں کوئی بسنے والا نہ رہے گا۔
20
مِصرؔ نِہایت خُوب صُورت بچِھیا ہے لیکن شِمال سے تباہی آتی ہے بلکہ آ پُہنچی۔
21
اُس کے مزدُور سِپاہی بھی اُس کے درمِیان موٹے بچھڑوں کی مانِند ہیں پر وہ بھی رُوگردان ہُوئے۔ وہ اِکٹّھے بھاگے۔ وہ کھڑے نہ رہ سکے کیونکہ اُن کی ہلاکت کا دِن اُن پر آ گیا۔ اُن کی سزا کا وقت آ پُہنچا۔
22
وہ سانپ کی مانِند چلچلائے گی کیونکہ وہ فَوج لے کر چڑھائی کریں گے اور کُلہاڑے لے کر لکڑہاروں کی مانِند اُس پر چڑھ آئیں گے۔
23
وہ اُس کا جنگل کاٹ ڈالیں گے۔ اگرچہ وہ اَیسا گھنا ہے کہ کوئی اُس میں سے گُذر نہیں سکتا خُداوند فرماتا ہے کیونکہ وہ ٹِڈّیوں سے زِیادہ بلکہ بے شُمار ہیں۔
24
دُخترِ مِصرؔ رُسوا ہو گی۔ وہ شِمالی لوگوں کے حوالہ کی جائے گی۔
25
ربُّ الافواج اِسرائیل کا خُدا فرماتا ہے دیکھ مَیں آمُونِ نُو کو اور فرِعونؔ اور مِصرؔ اور اُس کے معبُودوں اور اُس کے بادشاہوں کو یعنی فرِعونؔ اور اُن کو جو اُس پر بھروسا رکھتے ہیں سزا دُوں گا۔
26
اور مَیں اُن کو اُن کے جانی دُشمنوں اور شاہِ بابل نبُوکدؔرضر اور اُس کے مُلازِموں کے حوالہ کر دُوں گا لیکن اِس کے بعد وہ پِھر اَیسی آباد ہو گی جَیسی اگلے دِنوں میں تھی خُداوند فرماتا ہے۔
27
لیکن اَے میرے خادِم یعقُوبؔ ہِراسان نہ ہو اور اَے اِسرائیل گھبرا نہ جا کیونکہ دیکھ مَیں تُجھے دُور سے اور تیری اَولاد کو اُن کی اَسِیری کی زمِین سے رہائی دُوں گا اور یعقُوبؔ واپس آئے گا اور آرام و راحت سے رہے گا اور کوئی اُسے نہ ڈرائے گا۔
28
اَے میرے خادِم یعقُوبؔ ہِراسان نہ ہو خُداوند فرماتا ہے کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہُوں۔ اگرچہ مَیں اُن سب قَوموں کو جِن میں مَیں نے تُجھے ہانک دِیا نیست و نابُود کرُوں تَو بھی مَیں تُجھے نیست و نابُود نہ کرُوں گا بلکہ مُناسِب تنبِیہہ کرُوں گا اور ہرگِز بے سزا نہ چھوڑُوں گا۔
← Chapter 45
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 47 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52