bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Jeremiah 25
Jeremiah 25
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 24
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 26 →
1
وہ کلام جو شاہِ یہُوداؔہ یہویقِیم بِن یوسیاؔہ کے چَوتھے برس میں جو شاہِ بابل نبُوکدنضرؔ کا پہلا برس تھا یہُوداؔہ کے سب لوگوں کی بابت یَرمِیاؔہ پر نازِل ہُؤا۔
2
جو یَرمِیاؔہ نبی نے یہُوداؔہ کے سب لوگوں اور یروشلیِم کے سب باشِندوں کو سُنایا اور کہا۔
3
کہ شاہِ یہُوداؔہ یوسیاؔہ بِن آمُوؔن کے تیرھویں برس سے آج تک یہ تیئِیس برس خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہوتا رہا اور مَیں تُم کو سُناتا اور بر وقت جتاتا رہا پر تُم نے نہ سُنا۔
4
اور خُداوند نے اپنے سب خِدمت گُذار نبِیوں کو تُمہارے پاس بھیجا۔ اُس نے اُن کو بر وقت بھیجا پر تُم نے نہ سُنا اور نہ کان لگایا۔
5
اُنہوں نے کہا کہ تُم سب اپنی اپنی بُری راہ سے اور اپنے بُرے کاموں سے باز آؤ اور اُس مُلک میں جو خُداوند نے تُم کو اور تُمہارے باپ دادا کو قدِیم سے ہمیشہ کے لِئے دِیا ہے بسو۔
6
اور غَیر معبُودوں کی پَیروی نہ کرو کہ اُن کی عِبادت و پرستِش کرو اور اپنے ہاتھوں کے کاموں سے مُجھے غضب ناک نہ کرو اور مَیں تُم کو کُچھ ضرر نہ پُہنچاؤُں گا۔
7
پر خُداوند فرماتا ہے تُم نے میری نہ سُنی تاکہ اپنے ہاتھوں کے کاموں سے اپنے زِیان کے لِئے مُجھے غضب ناک کرو۔
8
اِس لِئے ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ چُونکہ تُم نے میری بات نہ سُنی۔
9
دیکھو مَیں تمام شِمالی قبائِل کو اور اپنے خِدمت گُذار شاہِ بابل نبُوکدؔرضر کو بُلا بھیجُوں گا خُداوند فرماتا ہے اور مَیں اُن کو اِس مُلک اور اِس کے باشِندوں پر اور اِن سب قَوموں پر جو آس پاس ہیں چڑھا لاؤُں گا اور اِن کو بِالکُل نیست و نابُود کر دُوں گا اور اِن کو حَیرانی اور سُسکار کا باعِث بناؤُں گا اور ہمیشہ کے لِئے وِیران کرُوں گا۔
10
بلکہ مَیں اِن میں سے خُوشی و شادمانی کی آواز دُلہے اور دُلہن کی آواز چکّی کی آواز اور چراغ کی رَوشنی مَوقُوف کر دُوں گا۔
11
اور یہ ساری سرزمِین وِیرانہ اور حَیرانی کا باعِث ہو جائے گی اور یہ قَومیں ستّر برس تک شاہِ بابل کی غُلامی کریں گی۔
12
خُداوند فرماتا ہے جب ستّر برس پُورے ہوں گے تو مَیں شاہِ بابل کو اور اُس قَوم کو اور کسدیوں کے مُلک کو اُن کی بدکرداری کے سبب سے سزا دُوں گا اور مَیں اُسے اَیسا اُجاڑُوں گا کہ ہمیشہ تک وِیران رہے۔
13
اور مَیں اُس مُلک پر اپنی سب باتیں جو مَیں نے اُس کی بابت کہِیں یعنی وہ سب جو اِس کِتاب میں لِکھی ہیں جو یَرمِیاؔہ نے نبُوّت کر کے سب قَوموں کو کہہ سُنائِیں پُوری کرُوں گا۔
14
کہ اُن سے ہاں اُن ہی سے بُہت سی قَومیں اور بڑے بڑے بادشاہ غُلام کی سی خِدمت لیں گے۔ تب مَیں اُن کے اَعمال کے مُطابِق اور اُن کے ہاتھوں کے کاموں کے مُطابِق اُن کو بدلہ دُوں گا۔
15
چُونکہ خُداوند اِسرائیل کے خُدا نے مُجھے فرمایا کہ غضب کی مَے کا یہ پِیالہ میرے ہاتھ سے لے اور اُن سب قَوموں کو جِن کے پاس مَیں تُجھے بھیجتا ہُوں پِلا۔
16
کہ وہ پِئیں اور لڑکھڑائیں اور اُس تلوار کے سبب سے جو مَیں اُن کے درمِیان چلاؤُں گا بے حواس ہوں۔
17
اِس لِئے مَیں نے خُداوند کے ہاتھ سے وہ پِیالہ لِیا اور اُن سب قَوموں کو جِن کے پاس خُداوند نے مُجھے بھیجا تھا پِلایا۔
18
یعنی یروشلیِم اور یہُوداؔہ کے شہروں کو اور اُس کے بادشاہوں اور اُمرا کو تاکہ وہ برباد ہوں اور حَیرانی اور سُسکار اور لَعنت کا باعِث ٹھہریں جَیسے اب ہیں۔
19
شاہِ مِصرؔ فرِعونؔ کو اور اُس کے مُلازِموں اور اُس کے اُمرا اور اُس کے سب لوگوں کو۔
20
اور سب مِلے جُلے لوگوں اور عُوض کی زمِین کے سب بادشاہوں اور فلِستِیوں کی سرزمِین کے سب بادشاہوں اور اسقلُوؔن اور غزّہ اور عقرُوؔن اور اشدُود کے باقی لوگوں کو۔
21
ادُوؔم اور موآؔب اور بنی عمُّون کو۔
22
اور صُور کے سب بادشاہوں اور صَیدا کے سب بادشاہوں اور سمُندر پار کے بحری مُمالِک کے بادشاہوں کو۔
23
ددان اور تیما اور بُوز اور اُن سب کو جو گاو دُم داڑھی رکھتے ہیں۔
24
اور عرب کے سب بادشاہوں اور اُن مِلے جُلے لوگوں کے سب بادشاہوں کو جو بیابان میں بستے ہیں۔
25
اور زِمرؔی کے سب بادشاہوں اور عیلاؔم کے سب بادشاہوں اور مادَی کے سب بادشاہوں کو۔
26
اور شِمال کے سب بادشاہوں کو جو نزدِیک اور جو دُور ہیں ایک دُوسرے کے ساتھ اور دُنیا کی سب سلطنتوں کو جو رُویِ زمِین پر ہیں اور اُن کے بعد شیشک کا بادشاہ پِئے گا۔
27
اور تُو اُن سے کہے گا کہ اِسرائیل کا خُدا ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ تُم پِیو اور مست ہو اور قَے کرو اور گِر پڑو اور پِھر نہ اُٹھو۔ اُس تلوار کے سبب سے جو مَیں تُمہارے درمِیان بھیجُوں گا۔
28
اور یُوں ہو گا کہ اگر وہ پِینے کو تیرے ہاتھ سے پِیالہ لینے سے اِنکار کریں تو اُن سے کہنا کہ ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ یقِیناً تُم کو پِینا ہو گا۔
29
کیونکہ دیکھ مَیں اِس شہر پر جو میرے نام سے کہلاتا ہے آفت لانا شرُوع کرتا ہُوں اور کیا تُم صاف بے سزا چُھوٹ جاؤ گے؟ تُم بے سزا نہ چُھوٹو گے کیونکہ مَیں زمِین کے سب باشِندوں پر تلوار کو طلب کرتا ہُوں ربُّ الافواج فرماتا ہے۔
30
اِس لِئے تُو یہ سب باتیں اُن کے خِلاف نبُوّت سے بیان کر اور اُن سے کہہ دے کہ خُداوند بُلندی پر سے گرجے گا اور اپنے مُقدّس مکان سے للکارے گا۔ وہ بڑے زور و شور سے اپنی چراگاہ پر گرجے گا۔ انگُور لتاڑنے والوں کی مانِند وہ زمِین کے سب باشِندوں کو للکارے گا۔
31
ایک غَوغا زمِین کی سرحدّوں تک پُہنچا ہے کیونکہ خُداوند قَوموں سے جھگڑے گا۔ وہ تمام بشر کو عدالت میں لائے گا۔ وہ شرِیروں کو تلوار کے حوالہ کرے گا خُداوند فرماتا ہے۔
32
ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ قَوم سے قَوم تک بَلا نازِل ہو گی اور زمِین کی سرحدّوں سے ایک سخت طُوفان برپا ہو گا۔
33
اور خُداوند کے مقتُول اُس روز زمِین کے ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک پڑے ہوں گے اُن پر کوئی نَوحہ نہ کرے گا۔ نہ وہ جمع کِئے جائیں گے نہ دفن ہوں گے وہ کھاد کی طرح رُویِ زمِین پر پڑے رہیں گے۔
34
اَے چرواہو واوَیلا کرو اور چِلاّؤ اور اَے گلّہ کے سردارو تُم خُود راکھ میں لیٹ جاؤ کیونکہ تُمہارے قتل کے ایّام آ پُہنچے ہیں۔ مَیں تُم کو چکنا چُور کرُوں گا۔ تُم نفِیس برتن کی طرح گِر جاؤ گے۔
35
اور نہ چرواہوں کو بھاگنے کی کوئی راہ مِلے گی نہ گلّہ کے سرداروں کو بچ نِکلنے کی۔
36
چرواہوں کے نالہ کی آواز اور گلّہ کے سرداروں کا نَوحہ ہے کیونکہ خُداوند نے اُن کی چراگاہ کو برباد کِیا ہے۔
37
اور سلامتی کے بھیڑ خانے خُداوند کے قہرِ شدِید سے برباد ہو گئے۔
38
وہ جوان شیر کی طرح اپنی کمِین گاہ سے نِکلا ہے۔ یقِیناً سِتم گر کے ظُلم سے اور اُس کے قہر کی شِدّت سے اُن کا مُلک وِیران ہو گیا۔
← Chapter 24
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 26 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52