bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Jeremiah 22
Jeremiah 22
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 21
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 23 →
1
خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ شاہِ یہُوداؔہ کے گھر کو جا اور وہاں یہ کلام سُنا۔
2
اور کہہ اَے شاہِ یہُوداؔہ جو داؤُد کے تخت پر بَیٹھا ہے! خُداوند کا کلام سُن۔ تُو اور تیرے مُلازِم اور تیرے لوگ جو اِن دروازوں سے داخِل ہوتے ہیں۔
3
خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ عدالت اور صداقت کے کام کرو اور مظلُوم کو ظالِم کے ہاتھ سے چُھڑاؤ اور کِسی سے بدسلُوکی نہ کرو اور مُسافِر و یتِیم اور بیوہ پر ظُلم نہ کرو اِس جگہ بے گُناہ کا خُون نہ بہاؤ۔
4
کیونکہ اگر تُم اِس پر عمل کرو گے تو داؤُد کے جانشِین بادشاہ رتھوں پر اور گھوڑوں پر سوار ہو کر اِس گھر کے پھاٹکوں سے داخِل ہوں گے۔ بادشاہ اور اُس کے مُلازِم اور اُس کے لوگ۔
5
پر اگر تُم اِن باتوں کو نہ سُنو گے تو خُداوند فرماتا ہے مُجھے اپنی ذات کی قَسم یہ گھر وِیران ہو جائے گا۔
6
کیونکہ شاہِ یہُوداؔہ کے گھرانے کی بابت خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ اگرچہ تُو میرے لِئے جِلعاد ہے اور لُبناؔن کی چوٹی تَو بھی مَیں یقِیناً تُجھے اُجاڑ دُوں گا اور غَیر آباد شہر بناؤُں گا۔
7
اور مَیں تیرے خِلاف غارت گروں کو مُقرّر کرُوں گا۔ ہر ایک کو اُس کے ہتھیاروں سمیت اور وہ تیرے نفِیس دیوداروں کو کاٹیں گے اور اُن کو آگ میں ڈالیں گے۔
8
اور بُہت سی قَومیں اِس شہر کی طرف سے گُذریں گی اور اُن میں سے ایک دُوسرے سے کہے گا کہ خُداوند نے اِس بڑے شہر سے اَیسا کیوں کِیا ہے؟
9
تب وہ جواب دیں گے اِس لِئے کہ اُنہوں نے خُداوند اپنے خُدا کے عہد کو ترک کِیا اور غَیر معبُودوں کی عِبادت اور پرستِش کی۔
10
مُردہ پر نہ رو نہ نَوحہ کرو مگر اُس پر جو چلا جاتا ہے زار زار نالہ کرو کیونکہ وہ پِھر نہ آئے گا نہ اپنے وطن کو دیکھے گا۔
11
کیونکہ شاہِ یہُوداؔہ سلُوؔم بِن یُوسیاؔہ کی بابت جو اپنے باپ یُوسیاؔہ کا جانشِین ہُؤا اور اِس جگہ سے چلا گیا خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ وہ پِھر اِس طرف نہ آئے گا۔
12
بلکہ وہ اُسی جگہ مَرے گا جہاں اُسے اسِیر کر کے لے گئے ہیں اور اِس مُلک کو پِھر نہ دیکھے گا۔
13
اُس پر افسوس جو اپنے گھر کو بے اِنصافی سے اور اپنے بالا خانوں کو ظُلم سے بناتا ہے۔ جو اپنے پڑوسی سے بیگار لیتا ہے اور اُس کی مزدُوری اُسے نہیں دیتا۔
14
جو کہتا ہے مَیں اپنے لِئے بڑا مکان اور ہوادار بالاخانہ بناؤُں گا اور وہ اپنے لِئے جھنجھریاں بناتا ہے اور دیودار کی لکڑی کی چھت لگاتا ہے اور اُسے شنگرفی کرتا ہے۔
15
کیا تُو اِسی لِئے سلطنت کرے گا کہ تُجھے دیودار کے کام کا شَوق ہے؟ کیا تیرے باپ نے نہیں کھایا پِیا اور عدالت و صداقت نہیں کی جِس سے اُس کا بھلا ہُؤا؟
16
اُس نے مِسکِین اور مُحتاج کا اِنصاف کِیا۔ اِسی سے اُس کا بھلا ہُؤا۔ کیا یِہی میرا عِرفان نہ تھا؟ خُداوند فرماتا ہے۔
17
پر تیری آنکھیں اور تیرا دِل فقط لالچ اور بے گُناہ کا خُون بہانے اور ظُلم و سِتم پر لگے ہیں۔
18
اِسی لِئے خُداوند یہُوؔیقِیم شاہِ یہُوداؔہ بِن یوسیاؔہ کی بابت یُوں فرماتا ہے کہ اُس پر ہائے میرے بھائی! یا ہائے بہن! کہہ کر ماتم نہیں کریں گے۔ اُس کے لِئے ہائے آقا! یا ہائے مالِک! کہہ کر نَوحہ نہیں کریں گے۔
19
اُس کا دفن گدھے کا سا ہو گا۔ اُس کو گھسِیٹ کر یروشلیِم کے پھاٹکوں کے باہر پھینک دیں گے۔
20
تُو لُبناؔن پر چڑھ جا اور چِلاّ اور بسن میں اپنی آواز بُلند کر اور عبارِیم پر سے نالہ کر کیونکہ تیرے سب چاہنے والے مارے گئے۔
21
مَیں نے تیری اِقبال مندی کے ایّام میں تُجھ سے کلام کِیا پر تُو نے کہا مَیں نہ سنُوں گی۔ تیری جوانی سے تیری یِہی چال ہے کہ تُو میری آواز کو نہیں سُنتی۔
22
ایک آندھی تیرے چرواہوں کو اُڑا لے جائے گی اور تیرے عاشِق اَسِیری میں جائیں گے۔ تب تُو اپنی ساری شرارت کے لِئے شرمسار اور پشیمان ہو گی۔
23
اَے لُبناؔن کی بسنے والی جو اپنا آشیانہ دیوداروں پر بناتی ہے تُو کَیسی عاجِز ہو گی جب تُو زچّہ کی مانِند دردِ زِہ میں مُبتلا ہو گی!
24
خُداوند فرماتا ہے مُجھے اپنی حیات کی قَسم اگرچہ تُو اَے شاہِ یہُوداؔہ کونیاؔہ بِن یہُویقِیم میرے دہنے ہاتھ کی انگُوٹھی ہوتا تَو بھی مَیں تُجھے نِکال پھینکتا۔
25
اور مَیں تُجھ کو تیرے جانی دُشمنوں کے جِن سے تُو ڈرتا ہے یعنی شاہِ بابل نبُوکدؔرضر اور کسدیوں کے حوالہ کرُوں گا۔
26
ہاں مَیں تُجھے اور تیری ماں کو جِس سے تُو پَیدا ہُؤا غَیر مُلک میں جو تُمہاری زادبُوم نہیں ہے ہانک دُوں گا اور تُم وہِیں مرو گے۔
27
جِس مُلک میں وہ واپس آنا چاہتے ہیں ہرگِز لَوٹ کر نہ آئیں گے۔
28
کیا یہ شخص کونیاؔہ ناچِیز ٹُوٹا برتن ہے یا اَیسا برتن جِسے کوئی نہیں پُوچھتا؟ وہ اور اُس کی اَولاد کیوں نِکال دِئے گئے اور اَیسے مُلک میں جلاوطن کِئے گئے جِسے وہ نہیں جانتے؟
29
اَے زمِین زمِین زمِین! خُداوند کا کلام سُن۔
30
خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ اِس آدمی کو بے اَولاد لِکھو جو اپنے دِنوں میں اِقبال مندی کا مُنہ نہ دیکھے گا کیونکہ اُس کی اَولاد میں سے کبھی کوئی اَیسا اِقبال مند نہ ہو گا کہ داؤُد کے تخت پر بَیٹھے اور یہُوداؔہ پر سلطنت کرے۔
← Chapter 21
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 51
Chapter 52
Chapter 23 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52