bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Proverbs 1
Proverbs 1
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 2 →
1
اِسرائیلؔ کے بادشاہ سُلیماؔن بِن داؤُد کی امثال۔
2
حِکمت اور تربِیّت حاصِل کرنے اور فہم کی باتوں کا اِمتیاز کرنے کے لِئے۔
3
عقل مندی اور صداقت اور عدل اور راستی میں تربِیّت حاصِل کرنے کے لِئے۔
4
سادہ دِلوں کو ہوشیاری۔ جوان کو عِلم اور تمِیز بخشنے کے لِئے
5
تاکہ دانا آدمی سُن کر عِلم میں ترقّی کرے اور فہِیم آدمی درُست مشوَرت تک پُہنچے۔
6
جِس سے مِثل اور تمثِیل کو۔ داناؤں کی باتوں اور اُن کے مُعمّوں کو سمجھ سکے۔
7
خُداوند کا خَوف عِلم کا شرُوع ہے لیکن احمق حِکمت اور تربِیّت کی حقارت کرتے ہیں۔
8
اَے میرے بیٹے! اپنے باپ کی تربِیّت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلِیم کو ترک نہ کر۔
9
کیونکہ وہ تیرے سر کے لِئے زِینت کا سِہرا اور تیرے گلے کے لِئے طَوق ہوں گی۔
10
اَے میرے بیٹے! اگر گُنہگار تُجھے پُھسلائیں تُو رضامند نہ ہونا۔
11
اگر وہ کہیں ہمارے ساتھ چل۔ ہم خُون کرنے کے لِئے تاک میں بَیٹھیں اور چِھپ کر بے گُناہ کے لِئے ناحق گھات لگائیں۔
12
ہم اُن کو اِس طرح جِیتا اور سمُوچا نِگل جائیں جِس طرح پاتال مُردوں کو نِگل جاتا ہے۔
13
ہم کو ہر قِسم کا نفِیس مال مِلے گا۔ ہم اپنے گھروں کو لُوٹ سے بھر لیں گے۔
14
تُو ہمارے ساتھ مِل جا۔ ہم سب کی ایک ہی تَھیلی ہو گی۔
15
تو اَے میرے بیٹے! تُو اُن کے ہمراہ نہ جانا۔ اُن کی راہ سے اپنا پاؤں روکنا۔
16
کیونکہ اُن کے پاؤں بدی کی طرف دَوڑتے ہیں اور خُون بہانے کے لِئے جلدی کرتے ہیں۔
17
کیونکہ پرِندہ کی آنکھوں کے سامنے جال بِچھانا عبث ہے۔
18
اور یہ لوگ تو اپنا ہی خُون کرنے کے لِئے تاک میں بَیٹھتے ہیں اور چِھپ کر اپنی ہی جان کی گھات لگاتے ہیں۔
19
نفع کے لالچی کی راہیں اَیسی ہی ہیں۔ اَیسا نفع اُس کی جان لے کر ہی چھوڑتا ہے۔
20
حِکمت کُوچہ میں زور سے پُکارتی ہے۔ وہ راستوں میں اپنی آواز بُلند کرتی ہے۔
21
وہ پُرہجُوم بازار میں چِلاّتی ہے۔ وہ پھاٹکوں کے مدخل پر اور شہر میں یہ کہتی ہے:-
22
اَے نادانو! تُم کب تک نادانی کو دوست رکھّو گے؟ اور ٹھٹّھاباز کب تک ٹھٹّھابازی سے خُوش رہیں گے اور احمق کب تک عِلم سے عداوت رکھّیں گے؟
23
تُم میری ملامت کو سُن کر باز آؤ۔ دیکھو! مَیں اپنی رُوح تُم پر اُنڈیلُوں گی۔ مَیں تُم کو اپنی باتیں بتاؤُں گی۔
24
چُونکہ مَیں نے بُلایا اور تُم نے اِنکار کِیا مَیں نے ہاتھ پَھیلایا اور کِسی نے خیال نہ کِیا۔
25
بلکہ تُم نے میری تمام مشوَرت کو ناچِیز جانا اور میری ملامت کی بے قدری کی
26
اِس لِئے مَیں بھی تُمہاری مُصِیبت کے دِن ہنسُوں گی اور جب تُم پر دہشت چھا جائے گی تو ٹھٹّھا مارُوں گی۔
27
یعنی جب دہشت طُوفان کی طرح آ پڑے گی۔ اور آفت بگُولے کی طرح تُم کو آ لے گی۔ جب مُصِیبت اور جان کنی تُم پر ٹُوٹ پڑے گی
28
تب وہ مُجھے پُکاریں گے لیکن مَیں جواب نہ دُوں گی۔ اور دِل و جان سے مُجھے ڈُھونڈیں گے پر نہ پائیں گے۔
29
اِس لِئے کہ اُنہوں نے عِلم سے عداوت رکھّی اور خُداوند کے خَوف کو اِختیار نہ کِیا۔
30
اُنہوں نے میری تمام مشوَرت کی بے قدری کی اور میری ملامت کو حقِیر جانا۔
31
پس وہ اپنی ہی روِش کا پَھل کھائیں گے اور اپنے ہی منصُوبوں سے پیٹ بھریں گے۔
32
کیونکہ نادانوں کی برگشتگی اُن کو قتل کرے گی اور احمقوں کی فارِغُ البالی اُن کی ہلاکت کا باعِث ہو گی۔
33
لیکن جو میری سُنتا ہے وہ محفُوظ ہو گا اور آفت سے نِڈر ہو کر اِطمِینان سے رہے گا۔
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 2 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31