bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Proverbs 26
Proverbs 26
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 25
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 27 →
1
جِس طرح ایّامِ گرمی میں برف اور دِرَو کے وقت بارِش اُسی طرح احمق کو عِزّت زیب نہیں دیتی۔
2
جِس طرح گوریّا آوارہ پِھرتی اور ابابِیل اُڑتی رہتی ہے اُسی طرح بے سبب لَعنت بے محلّ ہے۔
3
گھوڑے کے لِئے چابُک اور گدھے کے لِئے لگام لیکن احمق کی پِیٹھ کے لِئے چھڑی ہے۔
4
احمق کو اُس کی حماقت کے مُطابِق جواب نہ دے مبادا تُو بھی اُس کی مانِند ہو جائے۔
5
احمق کو اُس کی حماقت کے مُطابِق جواب دے مبادا وہ اپنی نظر میں دانا ٹھہرے۔
6
جو احمق کے ہاتھ پَیغام بھیجتا ہے اپنے پاؤں پر کُلہاڑا مارتا اور نُقصان کا پیالہ پِیتا ہے۔
7
جِس طرح لنگڑے کی ٹانگ لڑکھڑاتی ہے اُسی طرح احمق کے مُنہ میں تمِثیل ہے۔
8
احمق کی تعظِیم کرنے والا گویا جواہِر کو پتّھروں کے ڈھیر میں رکھتا ہے۔
9
احمق کے مُنہ میں تمِثیل شرابی کے ہاتھ میں چُبھنے والے کانٹے کی مانِند ہے۔
10
جو احمقوں اور راہ گُذروں کو مزدُوری پر لگاتا ہے اُس تِیرانداز کی مانِند ہے جو سب کو زخمی کرتا ہے۔
11
جِس طرح کُتّا اپنے اُگلے ہوئے کو پِھر کھاتا ہے اُسی طرح احمق اپنی حماقت کو دُہراتا ہے۔
12
کیا تُو اُس کو جو اپنی نظر میں دانا ہے دیکھتا ہے؟ اُس کے مُقابلہ میں احمق سے زِیادہ اُمِّید ہے۔
13
سُست آدمی کہتا ہے راہ میں شیر ہے۔ شیرِ بَبر گلیوں میں ہے۔
14
جِس مجھطرح دروازہ اپنی چُولوں پر پِھرتا ہے اُسی طرح سُست آدمی اپنے بِستر پر کروٹ بدلتا رہتا ہے۔
15
سُست آدمی اپنا ہاتھ تھالی میں ڈالتا ہے اور اُسے پِھر مُنہ تک لانا اُس کو تھکا دیتا ہے
16
کاہِل اپنی نظر میں دانا ہے بلکہ دلِیل لانے والے سات شخصوں سے بڑھ کر۔
17
جو راستہ چلتے ہُوئے پرائے جھگڑے میں دخل دیتا ہے اُس کی مانِند ہے جو کُتّے کو کان سے پکڑتا ہے۔
18
جَیسا وہ دِیوانہ جو جلتی لکڑیاں اور مَوت کے تِیر پھینکتا ہے
19
وَیسا ہی وہ شخص ہے جو اپنے ہمسایہ کو دغا دیتا ہے اور کہتا ہے مَیں تو دِل لگی کر رہا تھا۔
20
لکڑی نہ ہونے سے آگ بُجھ جاتی ہے سو جہاں غِیبت گو نہیں وہاں جھگڑا مَوقُوف ہو جاتا ہے۔
21
جَیسے انگاروں پر کوئلے اور آگ پر اِیندھن ہے وَیسے ہی جھگڑالُو جھگڑا برپا کرنے کے لِئے ہے۔
22
غِیبت گو کی باتیں لذِیذ نوالے ہیں اور وہ خُوب ہضم ہو جاتی ہیں۔
23
اُلفتی لب بدخواہ دِل کے ساتھ اُس ٹِھیکرے کی مانِند ہیں جِس پر کھوٹی چاندی منڈھی ہو۔
24
کِینہ ور دِل میں دغا رکھتا ہے لیکن اپنی باتوں سے چِھپاتا ہے۔
25
جب وہ مِیٹھی مِیٹھی باتیں کرے تو اُس کا یقِین نہ کر کیونکہ اُس کے دِل میں کمال نفرت ہے۔
26
اگرچہ اُس کی بدخواہی مکر میں چِھپی ہے تَو بھی اُس کی بدی جماعت کے رُوبرُو فاش کی جائے گی۔
27
جو گڑھا کھودتا ہے آپ ہی اُس میں گرے گا اور جو پتھّر ڈھلکاتا ہے وہ پلٹ کر اُسی پر پڑے گا۔
28
جُھوٹی زُبان اُن کا کِینہ رکھتی ہے جِن کو اُس نے گھایل کِیا ہے اور چاپلُوس مُنہ تباہی کرتا ہے۔
← Chapter 25
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 27 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31