bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Proverbs 23
Proverbs 23
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 22
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 24 →
1
جب تُو حاکِم کے ساتھ کھانے بَیٹھے تو خُوب غَور کر کہ تیرے سامنے کَون ہے۔
2
اگر تُو کھاؤُ ہے تو اپنے گلے پر چُھری رکھ دے۔
3
اُس کے مزہ دار کھانوں کی تمنّا نہ کر کیونکہ وہ دغابازی کا کھانا ہے۔
4
مال دار ہونے کے لِئے پریشان نہ ہو۔ اپنی اِس دانِش مندی سے باز آ۔
5
کیا تُو اُس چِیز پر آنکھ لگائے گا جو ہے ہی نہیں؟ کیونکہ دَولت یقِیناً عُقاب کی طرح پر لگا کر آسمان کی طرف اُڑ جاتی ہے۔
6
تُو تنگ چشم کی روٹی نہ کھا اور اُس کے مزہ دار کھانوں کی تمنّا نہ کر
7
کیونکہ جَیسے اُس کے دِل کے اندیشے ہیں وہ وَیسا ہی ہے۔ وہ تُجھ سے کہتا ہے کھا اور پی لیکن اُس کا دِل تیری طرف نہیں۔
8
جو نوالہ تُو نے کھایا ہے تُو اُسے اُگل دے گا اور تیری مِیٹھی باتیں بے سُود ہوں گی۔
9
اپنی باتیں احمق کو نہ سُنا کیونکہ وہ تیرے دانائی کے کلام کی تحِقیر کرے گا۔
10
قدِیم حدُود کو نہ سرکا اور یتیِموں کے کھیتوں میں دخل نہ کر۔
11
کیونکہ اُن کا رہائی بخشنے والا زبردست ہے۔ وہ خُود ہی تیرے خِلاف اُن کی وکالت کرے گا۔
12
تربِیّت پر دِل لگا اور عِلم کی باتیں سُن۔
13
لڑکے سے تادِیب کو دریغ نہ کر۔ اگر تُو اُسے چھڑی سے مارے گا تو وہ مَر نہ جائے گا۔
14
تُو اُسے چھڑی سے مارے گا اور اُس کی جان کو پاتال سے بچائے گا۔
15
اَے میرے بیٹے! اگر تُو دانا دِل ہے تو میرا دِل۔ ہاں میرا دِل خُوش ہو گا۔
16
اور جب تیرے لبوں سے سچّی باتیں نِکلیں گی تو میرا دِل شادمان ہو گا۔
17
تیرا دِل گُنہگاروں پر رشک نہ کرے بلکہ تُو دِن بھر خُداوند سے ڈرتا رہ۔
18
کیونکہ اجر یقِینی ہے اور تیری آس نہیں ٹُوٹے گی۔
19
اَے میرے بیٹے! تُو سُن اور دانا بن اور اپنے دِل کی راہبری کر۔
20
تُو شرابِیوں میں شامِل نہ ہو اور نہ حرِیص کبابِیوں میں
21
کیونکہ شرابی اور کھاؤُ کنگال ہو جائیں گے اور نِیند اُن کو چِتھڑے پہنائے گی۔
22
اپنے باپ کا جِس سے تُو پَیدا ہُؤا شنوا ہو اور اپنی ماں کو اُس کے بڑھاپے میں حِقیر نہ جان۔
23
سچّائی کو مول لے اور اُسے بیچ نہ ڈال حِکمت اور تربِیّت اور فہم کو بھی۔
24
صادِق کا باپ نہایت خُوش ہو گا اور دانِش مند کا باپ اُس سے شادمانی کرے گا۔
25
اپنے ماں باپ کو خُوش کر۔ اپنی والِدہ کو شادمان رکھ۔
26
اَے میرے بیٹے! اپنا دِل مُجھ کو دے اور میری راہوں سے تیری آنکھیں خُوش ہوں۔
27
کیونکہ فاحِشہ گہری خندق ہے اور بیگانہ عَورت تنگ گڑھا ہے۔
28
وہ راہزن کی طرح گھات میں لگی ہے اور بنی آدمؔ میں بدکاروں کا شُمار بڑھاتی ہے۔
29
کَون افسوس کرتا ہے؟ کَون غَم زدہ ہے؟ کَون جھگڑالُو ہے؟ کَون شاکی ہے؟ کَون بے سبب گھایل ہے؟ اور کِس کی آنکھوں میں سُرخی ہے؟
30
وُہی جو دیر تک مَے نوشی کرتے ہیں۔ وُہی جو مِلائی ہُوئی مَے کی تلاش میں رہتے ہیں۔
31
جب مَے لال لال ہو۔ جب اُس کا عکس جام پر پڑے اور جب وہ روانی کے ساتھ نِیچے اُترے تو اُس پر نظر نہ کر
32
کیونکہ انجام کار وہ سانپ کی طرح کاٹتی اور افعی کی طرح ڈس جاتی ہے۔
33
تیری آنکھیں عجِیب چِیزیں دیکھیں گی اور تیرے مُنہ سے اُلٹی سِیدھی باتیں نِکلیں گی۔
34
بلکہ تُو اُس کی مانِند ہو گا جو سمُندر کے درمیان لیٹ جائے یا اُس کی مانِند جو مستُول کے سِرے پر سو رہے۔
35
تُو کہے گا اُنہوں نے تو مُجھے مارا ہے پر مُجھ کو چوٹ نہیں لگی۔ اُنہوں نے مُجھے پِیٹا ہے پر مُجھے معلُوم بھی نہیں ہُؤا۔ مَیں کب بیدار ہُوں گا؟ مَیں پِھر اُس کا طالِب ہُوں گا۔
← Chapter 22
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 24 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31