bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Proverbs 7
Proverbs 7
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 6
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 8 →
1
اَے میرے بیٹے! میری باتوں کو مان اور میرے فرمان کو نِگاہ میں رکھ۔
2
میرے فرمان کو بجا لا اور زِندہ رہ اور میری تعلِیم کو اپنی آنکھ کی پُتلی جان۔
3
اُن کو اپنی اُنگلیوں پر باندھ لے۔ اُن کو اپنے دِل کی تختی پر لِکھ لے۔
4
حِکمت سے کہہ تُو میری بِہن ہے اور فہم کو اپنا رِشتہ دار قرار دے۔
5
تاکہ وہ تُجھ کو پرائی عَورت سے بچائیں یعنی بیگانہ عَورت سے جو چاپلُوسی کی باتیں کرتی ہے۔
6
کیونکہ مَیں نے اپنے گھر کی کھِڑکی سے یعنی جھروکے میں سے باہر نِگاہ کی
7
اور مَیں نے ایک بے عقل جوان کو نادانوں کے درمِیان دیکھا۔ یعنی نَوجوانوں کے درمِیان وہ مُجھے نظر آیا
8
کہ اُس عَورت کے گھر کے پاس گلی کے موڑ سے جا رہا ہے اور اُس نے اُس کے گھر کا راستہ لِیا۔
9
دِن چِھپے شام کے وقت۔ رات کے اندھیرے اور تارِیکی میں
10
اور دیکھو! وہاں اُس سے ایک عَورت آ مِلی جو دِل کی چالاک اور کسبی کا لِباس پہنے تھی۔
11
وہ غَوغائی اور خُود سر ہے۔ اُس کے پاؤں اپنے گھر میں نہیں ٹِکتے۔
12
ابھی وہ کُوچوں میں ہے۔ ابھی بازاروں میں اور ہر موڑ پر گھات میں بَیٹھتی ہے۔
13
سو اُس نے اُس کو پکڑ کر چُوما اور بے حیا مُنہ سے اُسے کہنے لگی
14
سلامتی کی قُربانی کے ذبِیحے مُجھ پر فرض تھے۔ آج مَیں نے اپنی نذریں ادا کی ہیں۔
15
اِسی لئے مَیں تیری مُلاقات کو نِکلی کہ کِسی طرح تیرا دِیدار حاصِل کرُوں۔ سو تُو مُجھے مِل گیا۔
16
مَیں نے اپنے پلنگ پر کامدار غالِیچے اور مِصرؔ کے سُوت کے دھاری دار کپڑے بِچھائے ہیں۔
17
مَیں نے اپنے بِستر کو مُر اور عُود اور دارچِینی سے مُعطّر کِیا ہے۔
18
آ ہم صُبح تک دِل بھر کر عِشق بازی کریں اور مُحبّت کی باتوں سے دِل بہلائیں۔
19
کیونکہ میرا شَوہر گھر میں نہیں۔ اُس نے دُور کا سفر کِیا ہے۔
20
وہ اپنے ساتھ روپَے کی تَھیلی لے گیا ہے اور پُورے چاند کے وقت گھر آئے گا۔
21
اُس نے مِیٹھی مِیٹھی باتوں سے اُس کو پُھسلا لِیا اور اپنے لبوں کی چاپلُوسی سے اُس کو بہکا لِیا۔
22
وہ فوراً اُس کے پِیچھے ہو لِیا۔ جَیسے بَیل ذبح ہونے کو جاتا ہے یا بیڑیوں میں احمق سزا پانے کو۔
23
جَیسے پرِندہ جال کی طرف تیز جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ وہ اُس کی جان کے لِئے ہے۔ حتّیٰ کہ تِیر اُس کے جگر کے پار ہو جائے گا۔
24
سو اب اَے بیٹو! میری سُنو اور میرے مُنہ کی باتوں پر توجُّہ کرو۔
25
تیرا دِل اُس کی راہوں کی طرف مائِل نہ ہو۔ تُو اُس کے راستوں میں گُمراہ نہ ہونا۔
26
کیونکہ اُس نے بُہتوں کو زخمی کر کے گِرا دِیا ہے۔ بلکہ اُس کے مقتُول بے شُمار ہیں۔
27
اُس کا گھر پاتال کا راستہ ہے اور مَوت کی کوٹھریوں کو جاتا ہے۔
← Chapter 6
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 8 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31