bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Proverbs 20
Proverbs 20
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 19
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 21 →
1
مَے مسخرہ اور شراب ہنگامہ کرنے والی ہے اور جو کوئی اِن سے فریب کھاتا ہے دانا نہیں۔
2
بادشاہ کا رُعب شیر کی گرج کی مانِند ہے۔ جو کوئی اُسے غُصہ دِلاتا ہے اپنی جان سے بدی کرتا ہے۔
3
جھگڑے سے الگ رہنے میں آدمی کی عِزّت ہے لیکن ہر ایک احمق جھگڑتا رہتا ہے
4
کاہِل آدمی جاڑے کے باعِث ہل نہیں چلاتا اِس لِئے فصل کاٹنے کے وقت وہ بِھیک مانگے گا اور کُچھ نہ پائے گا۔
5
آدمی کے دِل کی بات گہرے پانی کی مانِند ہے لیکن صاحِبِ فہم آدمی اُسے کھینچ نِکالے گا۔
6
اکثر لوگ اپنا اپنا اِحسان جتاتے ہیں لیکن وفادار آدمی کِس کو مِلے گا؟
7
راست رَو صادِق کے بعد اُس کے بیٹے مُبارک ہوتے ہیں۔
8
بادشاہ جو تختِ عدالت پر بَیٹھتا ہے خُود دیکھ کر ہر طرح کی بدی کو پھٹکتا ہے۔
9
کَون کہہ سکتا ہے کہ مَیں نے اپنے دِل کو صاف کر لِیا ہے اور مَیں اپنے گُناہ سے پاک ہو گیا ہُوں؟
10
دو طرح کے باٹ اور دو طرح کے پَیمانے۔ اِن دونوں سے خُداوند کو نفرت ہے۔
11
بچّہ بھی اپنی حرکات سے پہچانا جاتا ہے کہ اُس کے کام نیک و راست ہیں کہ نہیں۔
12
سُننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھ دونوں کو خُداوند نے بنایا ہے۔
13
خواب دوست نہ ہو۔ مبادا تُو کنگال ہو جائے۔ اپنی آنکھیں کھول کہ تُو روٹی سے سیر ہو گا۔
14
خرِیدار کہتا ہے ردّی ہے ردّی! لیکن جب چل پڑتا ہے تو فخر کرتا ہے۔
15
زر و مرجان کی تو کثرت ہے لیکن بیش بہا سرمایہ عِلم والے ہونٹ ہیں۔
16
جو بیگانہ کا ضامِن ہو اُس کے کپڑے چِھین لے اور جو اجنبی کا ضامِن ہو اُس سے کُچھ گِرَو رکھ لے۔
17
دغا کی روٹی آدمی کو مِیٹھی لگتی ہے لیکن آخِر کو اُس کا مُنہ کنکروں سے بھرا جاتا ہے۔
18
ہر ایک کام مشوَرہ سے ٹِھیک ہوتا ہے اور تُو نیک صلاح لے کر جنگ کر۔
19
جو کوئی لُتراپن کرتا پِھرتا ہے راز فاش کرتا ہے اِس لِئے تُو مُنہ پَھٹ سے کُچھ واسِطہ نہ رکھ۔
20
جو اپنے باپ یا اپنی ماں پر لَعنت کرتا ہے اُس کا چراغ گہری تارِیکی میں بُجھایا جائے گا۔
21
اگرچہ اِبتدا میں مِیراث یک لخت حاصِل ہو تَو بھی اُس کا انجام مُبارک نہ ہو گا۔
22
تُو یہ نہ کہنا کہ مَیں بدی کا بدلہ لُوں گا۔ خُداوند کی آس رکھ اور وہ تُجھے بچائے گا۔
23
دو طرح کے باٹ سے خُداوند کو نفرت ہے اور دغا کے ترازُو ٹھِیک نہیں۔
24
آدمی کی رفتار خُداوند کی طرف سے ہے۔ پس اِنسان اپنی راہ کو کیوں کر جان سکتا ہے؟
25
جلد بازی سے کِسی چِیز کو مُقدّس ٹھہرانا اور مَنّت ماننے کے بعد دریافت کرنا آدمی کے لِئے پھندا ہے۔
26
دانا بادشاہ شرِیروں کو پھٹکتا ہے اور اُن پر داؤنے کا پہیا پِھرواتا ہے۔
27
آدمی کا ضِمیر خُداوند کا چراغ ہے جو اُس کے تمام اندرُونی حال کو دریافت کرتا ہے۔
28
شفقت اور سچّائی بادشاہ کی نِگہبان ہیں بلکہ شفقت ہی سے اُس کا تخت قائِم رہتا ہے۔
29
جوانوں کا زور اُن کی شَوکت ہے اور بُوڑھوں کے سفید بال اُن کی زِینت ہیں۔
30
کوڑوں کے زخم سے بدی دُور ہوتی ہے اور مار کھانے سے دِل صاف ہوتا ہے۔
← Chapter 19
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 21 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31