bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Numbers 23
Numbers 23
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 22
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 24 →
1
بِلعاؔم نے بلقؔ سے کہا، ”میرے لیٔے یہاں سات مذبحے تعمیر کرو اَور میرے لیٔے سات بَیل اَور سات مینڈھے بھی تیّار رکھو۔“
2
بلقؔ نے بِلعاؔم کے کہنے کے مُطابق کیا اَور اُن دونوں نے ہر مذبح پر ایک ایک بَیل اَور ایک ایک مینڈھا قُربان کیا۔
3
تَب بِلعاؔم نے بلقؔ سے کہا، ”تُم اَپنی سوختنی نذر کے پاس کھڑے رہو جَب تک میں جاتا ہُوں۔ شاید یَاہوِہ مُجھ سے مُلاقات کرنے آئیں۔ وہ جو کچھ مُجھ پر ظاہر کریں گے میں تُمہیں بتاؤں گا۔“ پھر وہ ایک برہنہ ٹیلے پر جا چڑھا۔
4
وہاں خُدا بِلعاؔم سے مِلے اَور بِلعاؔم نے کہا، ”مَیں نے سات مذبحے بنائے ہیں اَور ہر مذبح پر ایک ایک بَیل اَور ایک ایک مینڈھا چڑھایا ہے۔“
5
تَب یَاہوِہ نے بِلعاؔم کے مُنہ میں اَپنا کلام ڈالا اَور کہا، ”بلقؔ کے پاس لَوٹ جا اَور اُسے میرا پیغام پہُنچا۔“
6
چنانچہ وہ اُس کے پاس لَوٹ کر آیا اَور اُسے مُوآب کے سَب حاکم سمیت اَپنی سوختنی نذر کے پاس کھڑا پایا۔
7
تَب بِلعاؔم نے اَپنا پیغام بَیان کیا: ”بلقؔ نے مُجھے ارام سے، یعنی شاہِ مُوآب نے، مُجھے مشرقی پہاڑوں سے بُلوایا۔ اَور فرمایا، ’آ جاؤ اَور میری طرف سے یعقوب پر لعنت بھیجو؛ آ جاؤ اَور اِسرائیل کو دھمکاؤ۔‘
8
میں اُن پر لعنت کیسے کروں، جِن پر خُدا نے لعنت نہیں کی؟ میں اُنہیں کیسے دھمکی دُوں، جنہیں یَاہوِہ نے دھمکی نہیں دی؟
9
چٹّانوں کی چوٹیوں پر سے وہ مُجھے نظر آتے ہیں، اَور پہاڑوں کی اُونچائی سے اُنہیں دیکھتا ہُوں۔ میں اَیسی قوم کو دیکھ رہا ہُوں جو الگ رہتی ہے اَور دُوسری قوموں میں اَپنا شُمار نہیں کرتی۔
10
یعقوب کی خاک کے ذرّوں کو کون گِن سَکتا ہے یا اِسرائیل کے چوتھے حِصّہ کو کون شُمار کر سَکتا ہے؟ کاش میں راستبازوں کی موت مروں اَور میرا اَنجام بھی اُن ہی کی مانند ہو!“
11
بلقؔ نے بِلعاؔم سے کہا، ”تُونے میرے ساتھ یہ کیا کیا؟ مَیں نے تُجھے اَپنے دُشمنوں پر لعنت کرنے کے لیٔے بُلایا لیکن تُونے اُنہیں برکت دینے کے سِوا کچھ نہ کیا!“
12
اُس نے جَواب دیا، ”کیا میں وہ بات نہ کہُوں جو یَاہوِہ نے میرے مُنہ میں ڈالی ہے؟“
13
تَب بلقؔ نے بِلعاؔم سے کہا، ”اَب میرے ساتھ دُوسری جگہ چلو جہاں سے تُم اُن کو دیکھ سکوگے۔ تُم اُن سَب کو تو نہیں لیکن اُن چھاؤنی کے بیرونی حِصّہ کو دیکھ پاؤگے اَور وہاں سے تُم اُن پر میری خاطِر لعنت کرنا۔“
14
چنانچہ وہ اُسے پِسگہؔ کی چوٹی پر ضوفیمؔ کے میدان میں لے گیا اَور وہاں اُس نے سات مذبحے بنائے اَور ہر مذبح پر ایک ایک بَیل اَور ایک ایک مینڈھا چڑھایا۔
15
بِلعاؔم نے بلقؔ سے کہا، ”تُم یہاں اَپنی سوختنی نذر کے پاس ٹھہرے رہو جَب تک کہ میں وہاں یَاہوِہ سے مِل لُوں۔“
16
اَور یَاہوِہ بِلعاؔم سے ملے اَور اُنہُوں نے اُس کے مُنہ میں اَپنا کلام ڈالا اَور کہا، ”بلقؔ کے پاس لَوٹ جا اَور اُسے یہ پیغام پہُنچا۔“
17
چنانچہ وہ اُس کے پاس لَوٹ آیا اَور اُسے مُوآب کے حاکم سمیت اَپنی سوختنی نذر کے پاس کھڑا پایا۔ بلقؔ نے اُس سے پُوچھا، ”یَاہوِہ نے کیا کہا ہے؟“
18
تَب اُس نے اَپنا پیغام بَیان کیا: ”اُٹھ اَے بلقؔ اَور سُن؛ اَے اِبن صِفُورؔ! میری بات پر کان لگا۔
19
خُدا اِنسان نہیں کہ جھُوٹ بولیں، اَور نہ وہ آدمؔ زاد ہے کہ اَپنا اِرادہ بدلے۔ کیا جو کچھ وہ کہتے ہیں اُس پر عَمل نہیں کرتے؟ اَورجو وعدہ کرتے ہیں اُسے پُورا نہیں کرتے؟
20
مُجھے تو برکت دینے کا حُکم مِلا ہے؛ وہ برکت دے چُکے ہیں اَور مَیں اُسے ردّ نہیں کر سَکتا۔
21
”یعقوب میں کویٔی بدبختی نہیں پائی جاتی، اَور نہ اِسرائیل کی تباہی اُن کی نظر میں ہے۔ یَاہوِہ اُن کا خُدا اُن کے ساتھ ہے؛ اَور بادشاہ کی للکار اُن کے درمیان ہے۔
22
خُدا اُنہیں مِصر سے نکال کر لائے ہیں؛ اَور اُن میں جنگلی سانڈ کی سِی طاقت ہے۔
23
یعقوب کے خِلاف کویٔی سحر نہیں چلتا، اَور نہ اِسرائیل کے خِلاف فالگیری ہو سکتی ہے۔ بَلکہ یعقوب اَور اِسرائیل کے حق میں اَب یہ کہا جائے گا، ’دیکھو خُدا نے کیسے عجِیب کام کئے ہیں۔‘
24
یہ لوگ شیرنی کی مانند اُٹھتے ہیں، اَور اَپنے آپ کو اُس شیر کی مانند تن کر کھڑا رکھتے ہیں جو اُس وقت تک نہیں سُستاتا جَب تک کہ اَپنا شِکار نہ کھالے اَور اَپنے مقتولوں کا خُون نہ پی لے۔“
25
تَب بلقؔ نے بِلعاؔم سے کہا، ”تُم اُن پر نہ تو لعنت کرنا، نہ ہی اُنہیں برکت دینا!“
26
بِلعاؔم نے بلقؔ کو جَواب دیا، ”کیا مَیں نے تُمہیں نہیں بتایا کہ میں وُہی کروں گا جو یَاہوِہ فرمائیں گے؟“
27
تَب بلقؔ نے بِلعاؔم سے کہا، ”اَچھّا مَیں تُجھے ایک اَور جگہ لے چلتا ہُوں۔ شاید خُدا کو پسند آئے کہ تُو میری خاطِر وہاں سے اُن پر لعنت کرے۔“
28
اَور بلقؔ بِلعاؔم کو پعورؔ کی چوٹی پر لے گیا جہاں سے بنجر علاقہ نظر آتا ہے۔
29
بِلعاؔم نے بلقؔ سے کہا، ”میرے لیٔے یہاں سات مذبحے بنا اَور سات بَیل اَور سات مینڈھے تیّار کر۔“
30
بلقؔ نے بِلعاؔم کے کہنے کے مُطابق کیا اَور ہر مذبح پر ایک بَیل اَور ایک مینڈھا چڑھایا۔
← Chapter 22
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 24 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36