bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Genesis 20
Genesis 20
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 19
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 21 →
1
اور ابرہامؔ وہاں سے جنُوب کے مُلک کی طرف چلا اور قادِؔس اور شورؔ کے درمِیان ٹھہرا اور جرارؔ میں قیام کِیا۔
2
اور ابرہامؔ نے اپنی بِیوی سارہؔ کے حق میں کہا کہ وہ میری بہن ہے اور جرارؔ کے بادشاہ ابی مَلک ؔنے سارہؔ کو بُلوا لِیا۔
3
لیکن رات کو خُدا ابی مَلِکؔ کے پاس خواب میں آیا اور اُسے کہا کہ دیکھ تُو اُس عَورت کے سبب سے جِسے تُو نے لِیا ہے ہلاک ہو گا کیونکہ وہ شَوہر والی ہے۔
4
پر ابی مَلِکؔ نے اُس سے صُحبت نہیں کی تھی۔ سو اُس نے کہا اَے خُداوند کیا تُو صادِق قَوم کو بھی مارے گا؟
5
کیا اُس نے خُود مُجھ سے نہیں کہا کہ یہ میری بہن ہے؟ اور وہ آپ بھی یِہی کہتی تھی کہ وہ میرا بھائی ہے۔ مَیں نے تو اپنے سچّے دِل اور پاکِیزہ ہاتھوں سے یہ کِیا۔
6
اور خُدا نے اُسے خواب میں کہا ہاں مَیں جانتا ہُوں کہ تُو نے اپنے سچّے دل سے یہ کِیا اور مَیں نے بھی تُجھے روکا کہ تُو میرا گُناہ نہ کرے۔ اِسی لِئے مَیں نے تُجھے اُس کو چُھونے نہ دِیا۔
7
اب تُو اُس مَرد کی بِیوی کو واپس کر دے کیونکہ وہ نبی ہے اور وہ تیرے لِئے دُعا کرے گا اور تُو جِیتا رہے گا۔ پر اگر تُو اُسے واپس نہ کرے تو جان لے کہ تُو بھی اور جِتنے تیرے ہیں سب ضرُور ہلاک ہوں گے۔
8
تب ابی مَلِکؔ نے صُبح سویرے اُٹھ کر اپنے سب نوکروں کو بُلایا اور اُن کو یہ سب باتیں کہہ سُنائِیں۔ تب وہ لوگ بُہت ڈر گئے۔
9
اور ابی مَلِکؔ نے ابرہامؔ کو بُلا کر اُس سے کہا کہ تُو نے ہم سے یہ کیا کِیا؟ اور مُجھ سے تیرا کیا قصُور ہُؤا کہ تُو مُجھ پر اور میری بادشاہی پر ایک گُناہِ عظِیم لایا؟ تُو نے مُجھ سے وہ کام کِئے جِن کا کرنا مُناسِب نہ تھا۔
10
ابی مَلِکؔ نے ابرہامؔ سے یہ بھی کہا کہ تُو نے کیا سمجھ کر یہ بات کی؟
11
ابرہامؔ نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ خُدا کا خوف تو اِس جگہ ہرگِز نہ ہو گا اور وہ مُجھے میری بِیوی کے سبب سے مار ڈالیں گے۔
12
اور فی الحقِیقت وہ میری بہن بھی ہے کیونکہ وہ میرے باپ کی بیٹی ہے اگرچہ میری ماں کی بیٹی نہیں۔ پِھر وہ میری بِیوی ہُوئی۔
13
اور جب خُدا نے میرے باپ کے گھر سے مُجھے آوارہ کِیا تو مَیں نے اِس سے کہا کہ مُجھ پر یہ تیری مِہربانی ہو گی کہ جہاں کہِیں ہم جائیں تُو میرے حق میں یِہی کہنا کہ یہ میرا بھائی ہے۔
14
تب ابی مَلِکؔ نے بھیڑ بکرِیاں اور گائے بَیل اور غُلام اور لَونڈِیاں ابرہامؔ کو دِیں اور اُس کی بِیوی سارہؔ کو بھی اُسے واپس کر دِیا۔
15
اور ابی مَلِکؔ نے کہا کہ دیکھ میرا مُلک تیرے سامنے ہے۔ جہاں جی چاہے رہ۔
16
اور اُس نے سارہؔ سے کہا کہ دیکھ مَیں نے تیرے بھائی کو چاندی کے ہزار سِکّے دِئے ہیں۔ وہ اُن سب کے سامنے جو تیرے ساتھ ہیں تیرے لِئے آنکھ کا پردہ ہے اور سب کے سامنے تیری دادرسی ہو گئی۔
17
تب ابرہامؔ نے خُدا سے دُعا کی اور خُدا نے ابی مَلِکؔ اور اُس کی بِیوی اور اُس کی لَونڈِیوں کو شِفا بخشی اور اُن کے اَولاد ہونے لگی۔
18
کیونکہ خُداوند نے ابرہامؔ کی بِیوی سارہؔ کے سبب سے ابی مَلِکؔ کے خاندان کے سب رَحِم بند کر دِئے تھے۔
← Chapter 19
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 21 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50