bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Genesis 25
Genesis 25
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 24
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 26 →
1
اور ابرہامؔ نے پِھر ایک اور بِیوی کی جِس کا نام قطُورہؔ تھا۔
2
اور اُس سے زِمرانؔ اور یُقسانؔ اور مِدانؔ اور مِدیانؔ اور اِسباؔق اور سُوخؔ پَیدا ہُوئے۔
3
اور یُقسانؔ سے سِباؔ اور دداؔن پَیدا ہُوئے اور ددانؔ کی اَولاد سے اَسُوریؔ اور لطوسیؔ اور لُومیؔ تھے۔
4
اور مِدیانؔ کے بیٹے عیفاہؔ اور عِفر ؔاور حنُوؔک اور ابیداعؔ اور الدوعاؔ تھے۔ یہ سب بنی قطُورؔہ تھے۔
5
اور ابرہامؔ نے اپنا سب کُچھ اِضحاقؔ کو دِیا۔
6
اور اپنی حرموں کے بیٹوں کو ابرہامؔ نے بُہت کُچھ اِنعام دے کر اپنے جِیتے جی اُن کو اپنے بیٹے اِضحاقؔ کے پاس سے مشرِق کی طرف یعنی مشرِق کے مُلک میں بھیج دِیا۔
7
اور ابرہامؔ کی کُل عُمر جب تک کہ وہ جِیتا رہا ایک سَو پچھتّر برس کی ہُوئی۔
8
تب ابرہامؔ نے دَم چھوڑ دِیا اور خُوب بُڑھاپے میں نِہایت ضعِیف اور پُوری عُمر کا ہو کر وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جا مِلا۔
9
اور اُس کے بیٹے اِضحاقؔ اور اِسمٰعیلؔ نے مَکفیلہؔ کے غار میں جو مَمرے کے سامنے حِتّی صُحرؔ کے بیٹے عِفرونؔ کے کھیت میں ہے اُسے دفن کِیا۔
10
یہ وُہی کھیت ہے جِسے ابرہامؔ نے بنی حِتؔ سے خرِیدا تھا۔ وہِیں ابرہامؔ اور اُس کی بِیوی سارہؔ دفن ہُوئے۔
11
اور ابرہامؔ کی وفات کے بعد خُدا نے اُس کے بیٹے اِضحاقؔ کو برکت بخشی اور اِضحاقؔ بئیر لَحی روئیؔ کے نزدِیک رہتا تھا۔
12
یہ نسب نامہ ابرہامؔ کے بیٹے اِسمٰعیلؔ کا ہے جو ابرہامؔ سے سارہؔ کی لَونڈی ہاجرہؔ مِصری کے بطن سے پَیدا ہُؤا۔
13
اور اِسمٰعیلؔ کے بیٹوں کے نام یہ ہیں۔ یہ نام ترتِیب وار اُن کی پَیدایش کے مُطابِق ہیں۔ اِسمٰعیلؔ کا پہلوٹھا نبایوتؔ تھا۔ پِھر قِیدارؔ اور اَدبئیلؔ اور مِبسامؔ۔
14
اور مِشماعؔ اور دُومہؔ اور مسّاؔ۔
15
حددؔ اور تَیماؔ اور یطُورؔ اور نفیسؔ اور قِدمہؔ۔
16
یہ اِسمٰعیلؔ کے بیٹے ہیں اور اِن ہی کے ناموں سے اِن کی بستِیاں اور چھاؤنیاں نامزد ہُوئِیں اور یِہی بارہ اپنے اپنے قبِیلہ کے سردار ہُوئے۔
17
اور اِسمٰعیلؔ کی کُل عُمر ایک سَو سَینتِیس برس کی ہُوئی تب اُس نے دَم چھوڑ دِیا اور وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جا مِلا۔
18
اور اُس کی اَولاد حویلہؔ سے شورؔ تک جو مِصرؔ کے سامنے اُس راستہ پر ہے جِس سے اَسُورؔ کو جاتے ہیں آباد تھی۔ یہ لوگ اپنے سب بھائِیوں کے سامنے بسے ہُوئے تھے۔
19
اور ابرہامؔ کے بیٹے اِضحاقؔ کا نسب نامہ یہ ہے۔ ابرہامؔ سے اِضحاقؔ پَیدا ہُؤا۔
20
اِضحاقؔ چالِیس برس کا تھا جب اُس نے رِبقہؔ سے بیاہ کِیا جو فدّان ارامؔ کے باشِندہ بیتُوایلؔ ارامی کی بیٹی اور لابنؔ ارامی کی بہن تھی۔
21
اور اِضحاقؔ نے اپنی بِیوی کے لِئے خُداوند سے دُعا کی کیونکہ وہ بانجھ تھی اور خُداوند نے اُس کی دُعا قبُول کی اور اُس کی بِیوی رِبقہؔ حامِلہ ہُوئی۔
22
اور اُس کے پیٹ میں دو لڑکے آپس میں مُزاحمت کرنے لگے۔ تب اُس نے کہا اگر اَیسا ہی ہے تو مَیں جِیتی کیوں ہُوں؟ اور وہ خُداوند سے پُوچھنے گئی۔
23
خُداوند نے اُسے کہا دو قومیں تیرے پیٹ میں ہیں اور دو قبیلے تیرے بطن سے نِکلتے ہی الگ الگ ہو جائیں گے اور ایک قبیلہ دُوسرے قبیلہ سے زورآور ہو گا اور بڑا چھوٹے کی خِدمت کرے گا۔
24
اور جب اُس کے وضعِ حمل کے دِن پُورے ہُوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اُس کے پیٹ میں تَوأم ہیں۔
25
اور پہلا جو پَیدا ہُؤا تو سُرخ تھا اور اُوپر سے اَیسا جَیسے پشمِینہ اور اُنہوں نے اُس کا نام عیسوؔ رکھّا۔
26
اُس کے بعد اُس کا بھائی پَیدا ہُؤا اور اُس کا ہاتھ عیسوؔ کی ایڑی کو پکڑے ہُوئے تھا اور اُس کا نام یعقُوبؔ رکھّا گیا۔ جب وہ رِبقہؔ سے پَیدا ہُوئے تو اِضحاقؔ ساٹھ برس کا تھا۔
27
اور وہ لڑکے بڑھے اور عیسوؔ شِکار میں ماہِر ہو گیا اور جنگل میں رہنے لگا اور یعقُوبؔ سادہ مِزاج ڈیروں میں رہنے والا آدمی تھا۔
28
اور اِضحاقؔ عیسوؔ کو پیار کرتا تھا کیونکہ وہ اُس کے شِکار کا گوشت کھاتا تھا اور رِبقہؔ یعقُوبؔ کو پیار کرتی تھی۔
29
اور یعقُوبؔ نے دال پکائی اور عیسوؔ جنگل سے آیا اور بے دَم ہو رہا تھا۔
30
اور عیسوؔ نے یعقُوبؔ سے کہا کہ یہ جو لال لال ہے مُجھے کِھلا دے کیونکہ مَیں بے دَم ہو رہا ہُوں۔ اِسی لِئے اُس کا نام ادُوؔم بھی ہو گیا۔
31
تب یعقُوبؔ نے کہا تُو آج اپنا پہلوٹھے کا حق میرے ہاتھ بیچ دے۔
32
عیسوؔ نے کہا دیکھ مَیں تو مرا جاتا ہُوں پہلوٹھے کا حق میرے کِس کام آئے گا؟
33
تب یعقُوبؔ نے کہا کہ آج ہی مُجھ سے قَسم کھا۔ اُس نے اُس سے قَسم کھائی اور اُس نے اپنا پہلوٹھے کا حق یعقُوبؔ کے ہاتھ بیچ دِیا۔
34
تب یعقُوبؔ نے عیسوؔ کو روٹی اور مسُور کی دال دی۔ وہ کھا پی کر اُٹھا اور چلا گیا۔ یُوں عیسوؔ نے اپنے پہلوٹھے کے حق کو ناچِیز جانا۔
← Chapter 24
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 26 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50