bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Genesis 21
Genesis 21
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 20
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 22 →
1
اور خُداوند نے جَیسا اُس نے فرمایا تھا سارہؔ پر نظر کی اور اُس نے اپنے وعدہ کے مُطابِق سارہؔ سے کِیا۔
2
سو سارہؔ حامِلہ ہُوئی اور ابرہامؔ کے لِئے اُس کے بُڑھاپے میں اُسی مُعیّن وقت پر جِس کا ذِکر خُدا نے اُس سے کِیا تھا اُس کے بیٹا ہُؤا۔
3
اور ابرہامؔ نے اپنے بیٹے کا نام جو اُس سے سارہؔ کے پَیدا ہُؤا اِضحاقؔ رکھّا۔
4
اور ابرہامؔ نے خُدا کے حُکم کے مُطابِق اپنے بیٹے اِضحاقؔ کا خَتنہ اُس وقت کِیا جب وہ آٹھ دِن کا ہُؤا۔
5
اور جب اُس کا بیٹا اِضحاقؔ اُس سے پَیدا ہُؤا تو ابرہامؔ سَو برس کا تھا۔
6
اور سارہؔ نے کہا کہ خُدا نے مُجھے ہنسایا اور سب سُننے والے میرے ساتھ ہنسیں گے۔
7
اور یہ بھی کہا کہ بھلا کوئی ابرہامؔ سے کہہ سکتا تھا کہ سارہؔ لڑکوں کو دُودھ پِلائے گی؟ کیونکہ اُس سے اُس کے بُڑھاپے میں میرے ایک بیٹا ہُؤا۔
8
اور وہ لڑکا بڑھا اور اُس کا دُودھ چُھڑایا گیا اور اِضحاقؔ کے دُودھ چُھڑانے کے دِن ابرہامؔ نے بڑی ضِیافت کی۔
9
اور سارہؔ نے دیکھا کہ ہاجرہؔ مِصری کا بیٹا جو اُس کے ابرہامؔ سے ہُؤا تھا ٹھٹھّے مارتا ہے۔
10
تب اُس نے ابرہامؔ سے کہا کہ اِس لَونڈی کو اور اُس کے بیٹے کو نِکال دے کیونکہ اِس لَونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اِضحاقؔ کے ساتھ وارِث نہ ہو گا۔
11
پر ابرہامؔ کو اُس کے بیٹے کے باعِث یہ بات نِہایت بُری معلُوم ہُوئی۔
12
اور خُدا نے ابرہامؔ سے کہا کہ تُجھے اِس لڑکے اور اپنی لَونڈی کے باعِث بُرا نہ لگے۔ جو کُچھ سارہؔ تُجھ سے کہتی ہے تُو اُس کی بات مان کیونکہ اِضحاقؔ سے تیری نسل کا نام چلے گا۔
13
اور اِس لَونڈی کے بیٹے سے بھی مَیں ایک قَوم پَیدا کرُوں گا اِس لِئے کہ وہ تیری نسل ہے۔
14
تب ابرہامؔ نے صُبح سویرے اُٹھ کر روٹی اور پانی کی ایک مشک لی اور اُسے ہاجرہؔ کو دِیا بلکہ اُسے اُس کے کندھے پر دھر دِیا اور لڑکے کو بھی اُس کے حوالہ کر کے اُسے رُخصت کر دِیا۔ سو وہ چلی گئی اور بیرسبعؔ کے بیابان میں آوارہ پِھرنے لگی۔
15
اور جب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو اُس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے نِیچے ڈال دِیا۔
16
اور آپ اُس کے مُقابِل ایک تِیر کے ٹپّے پر دُور جا بَیٹھی اور کہنے لگی کہ مَیں اِس لڑکے کا مَرنا تو نہ دیکُھوں۔ سو وہ اُس کے مُقابِل بَیٹھ گئی اور چِلّا چِلّا کر رونے لگی۔
17
اور خُدا نے اُس لڑکے کی آواز سُنی اور خُدا کے فرِشتہ نے آسمان سے ہاجرہؔ کو پُکارا اور اُس سے کہا اَے ہاجرہؔ تُجھ کو کیا ہُؤا؟ مت ڈر کیونکہ خُدا نے اُس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اُس کی آواز سُن لی ہے۔
18
اُٹھ اور لڑکے کو اُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کیونکہ مَیں اُس کو ایک بڑی قَوم بناؤں گا۔
19
پِھر خُدا نے اُس کی آنکھیں کھولِیں اور اُس نے پانی کا ایک کُنواں دیکھا اور جا کر مشک کو پانی سے بھر لِیا اور لڑکے کو پِلایا۔
20
اور خُدا اُس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑا ہُؤا اور بیابان میں رہنے لگا اور تِیرانداز بنا۔
21
اور وہ فاران کے بیابان میں رہتا تھا اور اُس کی ماں نے مُلکِ مِصرؔ سے اُس کے لِئے بِیوی لی۔
22
پِھر اُس وقت یُوں ہُؤا کہ ابی مَلِکؔ اور اُس کے لشکر کے سردار فِیکُلؔ نے ابرہامؔ سے کہا کہ ہر کام میں جو تُو کرتا ہے خُدا تیرے ساتھ ہے۔
23
اِس لِئے تُو اب مُجھ سے خُدا کی قَسم کھا کہ تُو نہ مُجھ سے نہ میرے بیٹے سے اور نہ میرے پوتے سے دغا کرے گا بلکہ جو مِہربانی مَیں نے تُجھ پر کی ہے وَیسی ہی تُو بھی مُجھ پر اور اِس مُلک پر جِس میں تُو نے قیام کِیا ہے کرے گا۔
24
تب ابرہامؔ نے کہا مَیں قَسم کھاؤں گا۔
25
اور ابرہامؔ نے پانی کے ایک کُنوئیں کی وجہ سے جِسے ابی مَلِکؔ کے نوکروں نے زَبردستی چِھین لِیا تھا ابی ملکؔ کو جِھڑکا۔
26
ابی مَلِکؔ نے کہا مُجھے خبر نہیں کہ کِس نے یہ کام کِیا اور تُو نے بھی مُجھے نہیں بتایا اور نہ مَیں نے آج سے پہلے اِس کی بابت کُچھ سُنا۔
27
پِھر ابرہامؔ نے بھیڑ بکرِیاں اور گائے بَیل لے کر ابی مَلِکؔ کو دِئے اور دونوں نے آپس میں عہد کِیا۔
28
اور ابرہامؔ نے بھیڑ کے سات مادہ بچّوں کو لے کر الگ رکھّا۔
29
اور ابی مَلِکؔ نے ابرہامؔ سے کہا کہ بھیڑ کے اِن سات مادہ بچّوں کو الگ رکھنے سے تیرا مطلب کیا ہے؟
30
اُس نے کہا کہ بھیڑ کے اِن ساتوں مادہ بچّوں کو تُو میرے ہاتھ سے لے تاکہ وہ میرے گواہ ہوں کہ مَیں نے یہ کُنواں کھودا۔
31
اِسی لِئے اُس نے اُس مقام کا نام بیرسبعؔ رکھّا کیونکہ وہِیں اُن دونوں نے قَسم کھائی۔
32
سو اُنہوں نے بیرسبعؔ میں عہد کِیا۔ تب ابی مَلِکؔ اور اُس کے لشکر کا سردار فِیکُلؔ دونوں اُٹھ کھڑے ہُوئے اور فِلستِیوں کے مُلک کو لَوٹ گئے۔
33
تب ابرہامؔ نے بیرسبعؔ میں جھاؤ کا ایک درخت لگایا اور وہاں اُس نے خُداوند سے جو ابدی خُدا ہے دُعا کی۔
34
اور ابرہامؔ بُہت دِنوں تک فِلستِیوں کے مُلک میں رہا۔
← Chapter 20
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 22 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50