bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Genesis 34
Genesis 34
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 33
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 35 →
1
اور لیاہؔ کی بیٹی دِینہؔ جو یعقُوبؔ سے اُس کے پَیدا ہُوئی تھی اُس مُلک کی لڑکیوں کے دیکھنے کو باہر گئی۔
2
تب اُس مُلک کے امیر حوی حمورؔ کے بیٹے سِکمؔ نے اُسے دیکھا اور اُسے لے جا کر اُس کے ساتھ مُباشرت کی اور اُسے ذلِیل کِیا۔
3
اور اُس کا دِل یعقُوبؔ کی بیٹی دِینہؔ سے لگ گیا اور اُس نے اُس لڑکی سے عِشق میں مِیٹھی مِیٹھی باتیں کِیں۔
4
اور سِکم ؔنے اپنے باپ حمورؔ سے کہا کہ اِس لڑکی کو میرے لِئے بیاہ لا دے۔
5
اور یعقُوبؔ کو معلُوم ہُؤا کہ اُس نے اُس کی بیٹی دِینہؔ کو بے حُرمت کِیا ہے پر اُس کے بیٹے چَوپایوں کے ساتھ جنگل میں تھے سو یعقُوبؔ اُن کے آنے تک چُپکا رہا۔
6
تب سِکمؔ کا باپ حمورؔ نِکل کر یعقُوبؔ سے بات چِیت کرنے کو اُس کے پاس گیا۔
7
اور یعقُوبؔ کے بیٹے یہ بات سُنتے ہی جنگل سے آئے۔ یہ مَرد بڑے رنجِیدہ اور غضب ناک تھے کیونکہ اُس نے جو یعقُوبؔ کی بیٹی سے مُباشرت کی تو بنی اِسرائیل میں اَیسا مکرُوہ فعل کِیا جو ہرگز مُناسِب نہ تھا۔
8
تب حمورؔ اُن سے کہنے لگا کہ میرا بیٹا سِکمؔ تُمہاری بیٹی کو دِل سے چاہتا ہے۔ اُسے اُس کے ساتھ بیاہ دو۔
9
ہم سے سمدھیانہ کر لو۔ اپنی بیٹِیاں ہم کو دو اور ہماری بیٹِیاں آپ لو۔
10
تو تُم ہمارے ساتھ بسے رہو گے اور یہ مُلک تُمہارے سامنے ہے۔ اِس میں بُود و باش اور تجارت کرنا اور اپنی اپنی جایدادیں کھڑی کر لینا۔
11
اور سِکمؔ نے اِس لڑکی کے باپ اور بھائِیوں سے کہا کہ مُجھ پر بس تُمہارے کرم کی نظر ہو جائے پِھر جو کُچھ تُم مُجھ سے کہو گے مَیں دُوں گا۔
12
مَیں تُمہارے کہنے کے مُطابِق جِتنا مَہر اور جہیز تُم مُجھ سے طلب کرو دُوں گا لیکن لڑکی کو مُجھ سے بیاہ دو۔
13
تب یعقُوبؔ کے بیٹوں نے اِس سبب سے کہ اُس نے اُن کی بہن دِینہؔ کو بے حُرمت کِیا تھا رِیا سے سِکمؔ اور اُس کے باپ حمورؔ کو جواب دِیا۔
14
اور کہنے لگے کہ ہم یہ نہیں کر سکتے کہ نامختُون مَرد کو اپنی بہن دیں کیونکہ اِس میں ہماری بڑی رُسوائی ہے۔
15
لیکن جَیسے ہم ہیں اگر تُم وَیسے ہی ہو جاؤ کہ تُمہارے ہر مَرد کا خَتنہ کر دِیا جائے تو ہم راضی ہو جائیں گے۔
16
اور ہم اپنی بیٹِیاں تُمہیں دیں گے اور تُمہاری بیٹِیاں لیں گے اور تُمہارے ساتھ رہیں گے اور ہم سب ایک قوم ہو جائیں گے۔
17
اور اگر تُم خَتنہ کرانے کے لِئے ہماری بات نہ مانو تو ہم اپنی لڑکی لے کر چلے جائیں گے۔
18
اُن کی باتیں حمورؔ اور اُس کے بیٹے سِکمؔ کو پسند آئِیں۔
19
اور اُس جوان نے اِس کام میں تاخیر نہ کی کیونکہ اُسے یعقُوبؔ کی بیٹی کا اِشتیاق تھا اور وہ اپنے باپ کے سارے گھرانے میں سب سے مُعزّز تھا۔
20
پِھر حمورؔ اور اُس کا بیٹا سِکمؔ اپنے شہر کے پھاٹک پر گئے اور اپنے شہر کے لوگوں سے یُوں گُفتگُو کرنے لگے کہ
21
یہ لوگ ہم سے میل جول رکھتے ہیں۔ پس وہ اِس مُلک میں رہ کر سوداگری کریں کیونکہ اِس مُلک میں اُن کے لِئے بُہت گُنجایش ہے اور ہم اُن کی بیٹِیاں بیاہ لیں اور اپنی بیٹِیاں اُن کو دیں۔
22
اور وہ بھی ہمارے ساتھ رہنے اور ایک قوم بن جانے کو راضی ہیں مگر فقط اِس شرط پر کہ ہم میں سے ہر مَرد کا خَتنہ کِیا جائے جَیسے اُن کا ہُؤا ہے۔
23
کیا اُن کے چَوپائے اور مال اور سب جانور ہمارے نہ ہو جائیں گے؟ ہم فقط اُن کی مان لیں اور وہ ہمارے ساتھ رہنے لگیں گے۔
24
تب اُن سبھوں نے جو اُس کے شہر کے پھاٹک سے آیا جایا کرتے تھے حمورؔ اور اُس کے بیٹے سِکمؔ کی بات مانی اور جِتنے اُس کے شہر کے پھاٹک سے آمد و رفت کرتے تھے اُن میں سے ہر مَرد نے خَتنہ کرایا۔
25
اور تِیسرے دِن جب وہ درد میں مُبتلا تھے تو یُوں ہُؤا کہ یعقُوبؔ کے بیٹوں میں سے دِینہؔ کے دو بھائی شمعُوؔن اور لاوؔی اپنی اپنی تلوار لے کر ناگہان شہر پر آ پڑے اور سب مَردوں کو قتل کِیا۔
26
اور حمورؔ اور اُس کے بیٹے سِکمؔ کو بھی تلوار سے قتل کر ڈالا اور سِکم ؔکے گھر سے دِینہ ؔکو نِکال لے گئے۔
27
اور یعقُوبؔ کے بیٹے مقتُولوں پر آئے اور شہر کو لُوٹا اِس لِئے کہ اُنہوں نے اُن کی بہن کو بے حُرمت کِیا تھا۔
28
اُنہوں نے اُن کی بھیڑ بکریاں اور گائے بَیل اور گدھے اور جو کُچھ شہر اور کھیت میں تھا لے لِیا۔
29
اور اُن کی سب دَولت لُوٹی اور اُن کے بچّوں اور بِیویوں کو اسِیر کر لِیا اور جو کُچھ گھر میں تھا سب لُوٹ گھسُوٹ کر لے گئے۔
30
تب یعقُوبؔ نے شمعُوؔن اور لاوؔی سے کہا کہ تُم نے مُجھے کُڑھایا کیونکہ تُم نے مُجھے اِس مُلک کے باشِندوں یعنی کنعانیوں اور فرزّیوں میں نفرت انگیز بنا دِیا کیونکہ میرے ساتھ تو تھوڑے ہی آدمی ہیں۔ سو وہ مِل کر میرے مُقابلہ کو آئیں گے اور مُجھے قتل کر دیں گے اور مَیں اپنے گھرانے سمیت برباد ہو جاؤں گا۔
31
اُنہوں نے کہا تو کیا اُسے مُناسِب تھا کہ وہ ہماری بہن کے ساتھ کسبی کی طرح برتاؤ کرتا؟
← Chapter 33
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 35 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50