bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Genesis 45
Genesis 45
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 44
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 46 →
1
تب یُوسفؔ اُن کے آگے جو اُس کے آس پاس کھڑے تھے اپنے کو ضبط نہ کر سکا اور چِلّا کر کہا ہر ایک آدمی کو میرے پاس سے باہر کر دو۔ چُنانچہ جب یُوسفؔ نے اپنے آپ کو اپنے بھائِیوں پر ظاہِر کِیا اُس وقت اور کوئی اُس کے ساتھ نہ تھا۔
2
اور وہ چِلّا چِلّا کر رونے لگا اور مِصریوں نے سُنا اور فرِعونؔ کے محلّ میں بھی آواز گئی۔
3
اور یُوسفؔ نے اپنے بھائِیوں سے کہا مَیں یُوسفؔ ہُوں۔ کیا میرا باپ اب تک جِیتا ہے؟ اور اُس کے بھائی اُسے کُچھ جواب نہ دے سکے کیونکہ وہ اُس کے سامنے گھبرا گئے۔
4
اور یُوسفؔ نے اپنے بھائِیوں سے کہا ذرا نزدِیک آ جاؤ اور وہ نزدِیک آئے۔ تب اُس نے کہا مَیں تُمہارا بھائی یُوسفؔ ہُوں جِس کو تُم نے بیچ کر مِصرؔ پہنچوایا۔
5
اور اِس بات سے کہ تُم نے مُجھے بیچ کر یہاں پہنچوایا نہ تو غمگین ہو اور نہ اپنے اپنے دِل میں پریشان ہو کیونکہ خُدا نے جانوں کو بچانے کے لِئے مُجھے تُم سے آگے بھیجا۔
6
اِس لِئے کہ اب دو برس سے مُلک میں کال ہے اور ابھی پانچ برس اَور اَیسے ہیں جِن میں نہ تو ہل چلے گا اور نہ فصل کٹے گی۔
7
اور خُدا نے مُجھ کو تُمہارے آگے بھیجا تاکہ تُمہارا بقِیّہ زمِین پر سلامت رکھّے اور تُم کو بڑی رہائی کے وسِیلہ سے زِندہ رکھّے۔
8
پس تُم نے نہیں بلکہ خُدا نے مُجھے یہاں بھیجا اور اُس نے مُجھے گویا فرِعونؔ کا باپ اور اُس کے سارے گھر کا خُداوند اور سارے مُلکِ مِصرؔ کا حاکِم بنایا۔
9
سو تُم جلد میرے باپ کے پاس جا کر اُس سے کہو تیرا بیٹا یُوسفؔ یُوں کہتا ہے کہ خُدا نے مُجھ کو سارے مِصرؔ کا مالِک کر دِیا ہے تُو میرے پاس چلا آ دیر نہ کر۔
10
تُو جشن کے عِلاقہ میں رہنا اور تُو اور تیرے بیٹے اور تیرے پوتے اور تیری بھیڑ بکریاں اور گائے بَیل اور تیرا مال و متاع یہ سب میرے نزدِیک ہوں گے۔
11
اور وہِیں مَیں تیری پرورِش کرُوں گا تا نہ ہو کہ تُجھ کو اور تیرے گھرانے اور تیرے مال و متاع کو مُفلِسی آ دبائے کیونکہ کال کے ابھی پانچ برس اَور ہیں۔
12
اور دیکھو تُمہاری آنکھیں اور میرے بھائی بِنیمِینؔ کی آنکھیں دیکھتی ہیں کہ خُود میرے مُنہ سے یہ باتیں تُم سے ہو رہی ہیں۔
13
اور تُم میرے باپ سے میری ساری شان و شَوکت کا جو مُجھے مِصرؔ میں حاصِل ہے اور جو کُچھ تُم نے دیکھا ہے سب کا ذِکر کرنا اور تُم بُہت جلد میرے باپ کو یہاں لے آنا۔
14
اور وہ اپنے بھائی بِنیمِینؔ کے گلے لگ کر رویا اور بِنیمِینؔ بھی اُس کے گلے لگ کر رویا۔
15
اور اُس نے سب بھائِیوں کو چُوما اور اُن سے مِل کر رویا۔ اِس کے بعد اُس کے بھائی اُس سے باتیں کرنے لگے۔
16
اور فِرعونؔ کے محل میں اِس بات کا ذِکر ہُؤا کہ یُوسفؔ کے بھائی آئے ہیں اور اِس سے فِرعونؔ اور اُس کے نوکر چاکر بُہت خُوش ہُوئے۔
17
اور فرِعونؔ نے یُوسفؔ سے کہا کہ اپنے بھائِیوں سے کہہ تُم یہ کام کرو کہ اپنے جانوروں کو لاد کر مُلکِ کنعانؔ کو چلے جاؤ۔
18
اور اپنے باپ کو اور اپنے اپنے گھرانے کو لے کر میرے پاس آ جاؤ اور جو کُچھ مُلکِ مِصرؔ میں اچھّے سے اچھّا ہے وہ مَیں تُم کو دُوں گا اور تُم اِس مُلک کی عُمدہ عُمدہ چِیزیں کھانا۔
19
تُجھے حُکم مِل گیا ہے کہ اُن سے کہے تُم یہ کرو کہ اپنے بال بچّوں اور اپنی بِیویوں کے لِئے مُلکِ مِصرؔ سے اپنے ساتھ گاڑِیاں لے جاؤ اور اپنے باپ کو بھی ساتھ لے کر چلے آؤ۔
20
اور اپنے اسباب کا کُچھ افسوس نہ کرنا کیونکہ مُلکِ مِصرؔ کی سب اچھّی چِیزیں تُمہارے لِئے ہیں۔
21
اور اِسرائیلؔ کے بیٹوں نے اَیسا ہی کِیا اور یُوسفؔ نے فِرعونؔ کے حُکم کے مُطابِق اُن کو گاڑِیاں دِیں اور زادِ راہ بھی دِیا۔
22
اور اُس نے اُن میں سے ہر ایک کو ایک ایک جوڑا کپڑا دِیا لیکن بِنیمِینؔ کو چاندی کے تِین سَو سِکّے اور پانچ جوڑے کپڑے دِئے۔
23
اور اپنے باپ کے لِئے اُس نے یہ چِیزیں بھیجیں یعنی دس گدھے جو مِصرؔ کی اچھّی چِیزوں سے لدے ہُوئے تھے اور دس گدِھیاں جو اُس کے باپ کے راستہ کے لِئے غلّہ اور روٹی اور زادِ راہ سے لدی ہُوئی تِھیں۔
24
چُنانچہ اُس نے اپنے بھائِیوں کو روانہ کِیا اور وہ چل پڑے اور اُس نے اُن سے کہا دیکھنا! کہِیں راستہ میں تُم جھگڑا نہ کرنا۔
25
اور وہ مِصرؔ سے روانہ ہُوئے اور مُلکِ کنعانؔ میں اپنے باپ یعقُوبؔ کے پاس پُہنچے۔
26
اور اُس سے کہا یُوسفؔ اب تک جِیتا ہے اور وُہی سارے مُلکِ مِصرؔ کا حاکِم ہے اور یعقُوبؔ کا دِل دھک سے رہ گیا کیونکہ اُس نے اُن کا یقِین نہ کِیا۔
27
تب اُنہوں نے اُسے وہ سب باتیں جو یُوسفؔ نے اُن سے کہی تِھیں بتائِیں اور جب اُن کے باپ یعقُوبؔ نے وہ گاڑِیاں دیکھ لِیں جو یُوسفؔ نے اُس کے لانے کو بھیجی تھیں تب اُس کی جان میں جان آئی۔
28
اور اِسرائیل کہنے لگا یہ بس ہے کہ میرا بیٹا یُوسفؔ اب تک جِیتا ہے۔ مَیں اپنے مَرنے سے پیشتر جا کر اُسے دیکھ تو لُوں گا۔
← Chapter 44
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 49
Chapter 50
Chapter 46 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50